Skip to main content

Full text of "Aurat Aur Islam"

See other formats


ہمت مضاجین 


۱ اٹ ال 
بر 


ور نکی عظمت او رغَا "2 ا ںکاکرداز 


تحورت 11 22 کےغلاف اسلام کیا صداۓ احقاع : 

اسلام-مہاوات مردوز یکا پہلا . زار 

کورت ارم دک یکام بای امان گل سے والستے سے 

عور تکا میدال نکار ا یکاگھمرے 

دو اختزاضات اور ال یکا جواپ 

وائ رن لکیوں الگ ہو؟ 

بپگی وجر___ حفت وکصصس تکی طاظت٠‏ 

دی دچھ _ عحلاعتون کافرقی 

گح چھوڑنے میں عور تکا نتصان ہے ٠‏ 
گھرکی جذیادکی اکیت ہے 

3 گعممیںعور کیا غدمات 


عورت اور اسلام - 


ملا نععورت گھ اور انان میں 
ما ںکا اترام 
یی کےموق 
۱ لڑی ےےعمحبت اور ا کے تنا سے 
کو نکی مت او رکغالت ِ 
مسلما نعور تک جار ایمان او رعادت کےلقوض جاپاں 
قول اسلام یں سبقت 
دین بر اخنقامت 
زوث عپاارت 
نما زکا اہمام 
نماز باجماعت شمیشرت_ 
و 7 او ٰ 
کش تیعباوت 
روز ےکا ثری 
جذب+ اننای 
اورگرہ 
ملران عورت لم بل کے میدران مل 
حضرت عا کت 
رت ا مل" 
حطر قص 
حرت ام جیب 
ا خر ت موہ بشت الارث 


جح اج مھ 


عورت اور اسلام, 


9.00 ۱ ۸ 
یت ام پائی بت ال طالبٌ ۸ 
مے با ات۲ ...۸۰م 


حضرت خولہ بن گی : 7 - 
ضر تم یپ بن تاِحبٰ(ا معط۔) ۱ 56ا ۸۳ 
دی رصعابیات ۱ ٢۳ے‏ 
حضرت فرییہ بت اگن - د ات ۲۰م 


۳ك کت ۱ ے ۳)۷ 


۱ ےی . ۱ ے۸ 
عاتقہ بنت سعدین نگ ۔ 7 ۸ 

عائشہ بن ت لے .>> ۸ 
مان ۸0۰ 
سد فی جج : ۸۹ 
ستسیری ایب ہم 
اویرزوب بت اوالقا _ : .تد 
خُہرہ بت اضر - ۱ ۹۳ 

سلمان عورت۔ دی ٤‏ ساٹ اوریای غدات کت 
کرت ان .َ2 ۹0۵ 
سائرل قھات  -‏ ...-- اما 
ساگی خدمات : َّْ ۵ 


سای حاذیے_ ۱ ۱ 5 ٦‏ 


عورت اور اسلام 


در اض ینلم وا نکی ما طلازم کا مل“ ۱ 
خائدان یل مرداورعورت کے1 2 ۱ 
تیم بافت خواتین میس ملازم تکا ران : ۲ 
سوال :ا ششرات اسلائی خوا ئن کے لیےکسب محائ کو 

ںنظر کی ات ۱ ۲ 
سوال۰٢‏ کیاشریعت نے خواجین 02 ڈۓدارگی 7 ے؟ 
سوال:۳' سر نے ےنات دم ام ا 2 
سوال: ٣‏ کیا انددرولن خانہمعاٹی ممگرھیوں کے یی بھی و اشبری اچازت 


ضروری ۓے؟ ۸ 

سوال:۵ رک چروجہر ے تلق اظام ِ ۹ 
سوالل: خوائن کے لیے علازمت کے شی عدود 1 
سوالیذے ملازمصتکرنے والی خوا تن کے لیے پہدے کے نظام ۲۳ 
(الف) ۰ چچرے اور پات وکا بردہ ٦‏ ۲۳ 

اہ سم تی۔ 5 

(نج)؟ جا نگورت اورکن رسیدرہعورت کے اکا ماب میں فرقی ۲۸ 

ین ور طلب پھلو ۳٣٣‏ 


کتایات - ۱ ۳۲ 


ھم اللہ اایشن الرتم 


موجودہ دود میس اسلام کے پارے شیہ جو مللدفیسیاں پاگی جائی ہیں یا بالقصد 
بیھاکی جا یہ الن یس ایک گیا ہ ےک اسلام نے عور تکومرد کے برا حیقیت 
یں ری ہے اود ا لک اتک ورو رق پانندیاں عاکدکردگ ںکہ وہ زنک روڑ ٹل 
اڑا یچ ےرہ جال ہے اور پیش مردکی رستگگررنقی ہے۔ عالا لک ایک یقت ے 
کہاسلام نے سب سے پیلے مساوات مردوز نام بلنلدکیا۔ اس ن کہا دا کی نظرٹش ۔ 
اورت اورم ددطول برابر إں او ا گی کام یا وناکائی کے اصول بھی ایک ہیں جن 
ٴ موجودہ دور کے ال نفصور مساوا تکوغلط تنا ےکہ دوفو لکو ایک میدران شی لکا مکیا_ 
جازت ہو چابیے٠‏ اسں کے بخرانع کے درمیان مساوات ائ میں نہیں مویق ۔اسام 20 
9ئ2 ا؛دعردلپاہری ڈےدارگی اٹالیٰ جایے۔اں ےک دیثوں کے 
ائہ پائۓ کارخطرکی طوذد پر اٹک خیںت ال نے مرد اورعورث کے درمیان' نمیم ار ے 
ماقدان کے توق اور ڈے وارلی ںکا نکیا اور یں ا کا پابنھ ہتایا تام لی زندکی 
اںعصل اور اآصاف کےا ضے پیدے میں اوڑی 11 7 نی شرہوے پۓ۔ 
ال مضوئ ب ری ایض لاب 'عورت - اسلامی معاشربے میں' 
کی سا لقل ماک ہویی ہے۔ ٹیش نظ رکا بکا مضضوں بھی بجی ہے۔ اس میس ان 
گیشو ںکوزیادہ وائ کیا گیا ےہ جوم یکزاب میس مل رہ گے ھے اوران مباص کا 
مرف صرف مل اشارے سی نے ہیں یا ایس نکر اندازکر دیاگیا سے جن بنضحعیل 
سے اں ۳۴ بجٹ ہوگگی ہے سالقہ ناب کے مواو کے استتعالی سےکھی جہاںک 


عورت اور اسلام ۱ 


ہکا اضزا کیا گیا ے اود بڑی حدکک تیا مواد ین رن ےک یکیشت شک یکئی ہے ساب 
تاب میں زیادہ ڑ اصولی باحف ہیں۔ ٹیل نظ رکا بک پہر مکش کے شروںع جا 
رن و عدبی کی تلہمات بہت ہی اختطمار کے ساتھھ ٹپٹ لک یگئی یل اورپ رعدبہث 
یرت اود تار سے مت روافقعات اور ی خھونے ا کی تائی شی فراہم بے گے یں 
ال طرع ید دفو کنا ںگوایک بی مضوع سےعتحلق ہیں ہکن ایک دوسر ےکی سی 
کر یں۔ 

تاب می وافحات ڑیادونڑ رو اویل کے میں سے یئ یں۔ ال لی ےکہ یو 
دوزبمھارے ے اس وہ ے۔ بعر کے اووار رے بہ تم شلیں دیاکی ہیں ۔کہی ں کر 
فی سائل کا بھی اوک رآ گیا ہے۔ اس سلسلہ میں فقہاء کے مان نی بیان سے گے 
ہیں۔ہں سے لیےنتی اتااو ںکی رف رج غکنا جابے۔ 

بد تاب قرآن و عدیث اور ہرتٹ کے متت ]غ نکی رك میں کیپ 
نے بے دیو لکوئی با تن کب یکئی ہہ اس کے باوجد نمامیوں کا امکانی ہے۔ جم 
صاح بکوگوئی خزائی نظ را دہ برا وکرم اس سےمطلع فرباھیں۔ ال شاء ال رآ تندہ ا 
گی اصلا کر دی جات ۓےگی اود مہ ماج اس کے لیے شک رگزار ہوگا۔ 

سال رواں (۹ھ۱۹ء) بین الاقوائی 7 پرخوانشن کے سال کےطور پرمتایا جار 
ہے۔ جماعت اسلائی ند نے ٹ ےکیا کہ اس مناسبت سے خوا تن کے پارے مر 
الام کے موقف اورمسلمان خوا تین کےےکارنا مو ں کا سی تتار فکرایا جائے۔ امیا 
بی یلاب اس ساسلہ میں مفی رغابہت ہوگی۔ الد قالیٰ سےدما ےک اسے شر تی لیت 
سے لوازےء اس کے ذڈر بیج دی ن کا کہ رتعارف ہو اور ہماری خُواقن میں وی جذیہ 
مل اوروی ایی لو فآآئیں, چو دو او لکی خاقن می تتھیں ںآ مین 

جلال ال دی نک 


۵ ور۱۹۹ 


٠‏ کل 


بیکناب بیگی اد اپمیں (۳۸) بی نیل شال وگ نی اور خواجین کے سال 
لامناسبت سے بڑے پانہ ہا لک اشاع ت بھی بوئ یھی اس کے بعد ایی کے 
ا(١۱)‏ ایرشن انل گ ہیں۔ ا کا اگریئیء ہنیہم ٹھی اورملگو میں تر جج 
پا ہے۔ خواشون ےعتفاق قح مداریس میں یہ شال نصا ب گیا یہ اب کا بر 
ں نے اس بپرکسی قزرتتصییل سے نظ انی کی ہے۔ اس کے میاح کو مناسب 
واب می نی مکیا ہے ای کے جا چیک سے ہیں ہج کب مغ کے جدید 
نشی وست پاپ ہو کے جانے ان ےتال یکر ے کات کی ہے تاب کے 
خرمیں دور رنہ یس مسلمان خوات نکی ملازمت ےتتلق ایک سال ام ہکا جواپ 
می شائ لکیا گیا ہے۔1 خر مم سکتتابیا تک فہرست دے د گا ہے۔ امیدر ہے انا 
اڑشخوں س ےکا بک فدرو قبت اور افادیت ٹل اضافہ ہھگا-۔ا بکگ ا لاب 
کیٹ ااول ہی کانس چچتا رہ ہے۔ ا بکا بارمرکز یمک اسلائی پیش رز(خی دی ) 
ے زیادہ امام سے شائ کر رہ ے۔ میں مادم ڈال حر تی الاسلام ندوئی اور 
زیم زارف معطفی دو کیا شک زار ہو کہ انھوں نے ا لکنا بک ایک ے دو 


عورت اور اسلام 


مہ روف رین کگاء ہاں ضرور میں ہوئی حوالو ں کی مراتص تک اور 
او رکنابیات کے رت بکرنے میس مردگی۔ الد تھالیٰ جنزاے خر سے نوازے ڈو رع 
یل میں تز تی عطا فرائے۔ 
انار 
جلا الین گری 


۸ ایل ۶۰۰۹ء 


الد تی کا کم ےک اس نے ال کیا بکومتبولیت عطا گی اب ال 
پارہوال(٢٢)‏ اشن رای کے بعد بش چا ہاے۔ اتا ی ے دعا ےگوہ اك 
تق رکون کوقبول فرماۓ اوررو 7آ خرت ال کے ممظ رین اج سے نواڑے۔ 
انار 
جلال الین گری 


۷ اکتیر ۲۰۲۱ء 


عور تک یرت 
7۲ اور؛ مو 


خاندا نکی نی ریس اس کاکردار 7 


ھی صدی عیسدی میس حضرت مم یلگ کا اعلان رسالت انسالیٰ مار کا 
سب نے بڑا وا قح تھا_ اں کے متجہ می کر ونظر ادا بر لگ افر یرت وگروار ٹل 
تقلا بآ گیا انسان نے تے ڈصنک سے سو چنا رو عکیا اود ال گنن نے پار 
فیا کیا۔ ای کا ایک پیبلد بجی تھا رحورت کے بارے یس اس کا پور نظ اور 
۰- پر لگیا اورگورت اورمد کے نعلنقا ت تی ذیادوں پر تا 1 ہبوئے۔- ۱ 
عورر تک یگوی کےخلاف اسلا مکی صداۓ اح اح ۱ 

اسلام سے پل عورت کی جار منظلوٹی او رنگوئ یکی مان تھی اس ےکم تر اور 
رو مھا چاتا تھا۔ اسے سمارے فماد او رتا ی 71 چ ڑکا جانا اورسانپب اور چھو سے جس 
رح چا جاتا ہے اس طرع اں سے دود رب ےکی مق نکی جائی تھی۔ پاذاروں ش 
انورو ںکی طر ا لکی خربید وفروشت ہوئی شی۔ ا ںک یکوئی تخل حیشی نی ںتحیء 
نہ دہ مرد کے تال عئی۔ ا ککاکوکی ج نی تھا۔ و مرد کے ںیم وکرم برشیت تی الام ' 
ے ا سکی نی کے خلاف اج زور ے آواز بلار یک سار دیااں سح ےکور آٹھی ۱ 
رآ کی میں ىہ بت نیں ہ ےکہ ا لکی یی حقی تکوض اود بی کہ سے۔ 


عورت اور اسلام 


اس نے پیوری وت ےکھا: 

ھا الس هر رَنّكُمالدِیٌ 
نا زَرْجَهَا وَ بث مِنُمَا رِجَالاً 
کٹا و یسَاء' وَاَقُوا الله الِیْ 
تَمَالَلُوْمَ بے وَالَرحَام* ان الله 


30 عَلَیْكُم راہ (77) 


اے لوگوا اي ردپ ے ڈرو گن 
نہیں ایک جانع سے پیاکیا اور ای 
ے ا کا بھڈا بتایا اور ان دیٹژل رے 
بہت سے مرد اور عو رٹل پھیلا دے اور 
اللہ سے ڈرو کے ذرہیے تم ایک 
دوسرے سے درد طط بکمرتے ہو اور 
رشتوں کا اطزا مکرو۔ بے تک اللہ 
یں دید اے۔ 


بی ال بات کا اعلائنع تھا کہ ایک انسالن اور دوسرے انسائنع کے درمیالعء ؟ 
بھوے اخیازات دنا نے تا مکمرررجھے یں وم سپ ال ٹیں۔ ان لکل جار 
ہے سادے انسانئئ سپ واعد سے پیدا ہوئے ہیں۔ س بک اشصمل ایک ے۔ 7 
طور پر لکول شریف ے اود ت رذیل+ تکرئی 7 ڈذا کا ہے اود نہ گی ذا کا 
سپ برانر اور مساوکی حقفیت کے مالک ہإں۔ خاندان فیل رگ نل٠‏ لک وہ 
ان اور یشک جفیاد بر ان کے ورمیا نصس یبھ یس مکی تف ری خلط ار ناروا ہے۔ 
اسلام۔ مماوات مردوڑ یکا اسم بردار 

عورت اورمرد کے درمیان ز مان فرمم سے جوفرقی دانقیاز چلا آ رہ تھا یا ں٢۲‏ 
بھی تر ویر ہے۔ اس میں بیتقیقت داش ک یگئی ‏ ےکہ انس او کا جوڑاسی اورنور 

نکی تھاہ لان یکی نوع سے تھا ۔کوگی دوسرییمفلوقی ا سکی رفاققت کے لیے اس سس 
ساط کہیں زکاد گی بللہوہ ای سے با یگ یتھی۔ اں اون جوڑے سے بے شا 
مد اورگورەش پیرا ہوےء ان کے درمیان رۓ اور تعلقات ہ2 - اور پر 
ضل اضمالی مییء اس لیے دوفوں کے درمیان فرقی دایز فور انمالیٰ کے ایک پازواہ 
دفسرے پاڑو کے درمیان فری واغیاز ہہ ایک کل کے دو اڑا کے این تف تی سے 


رت _ عورتِ کی عظمت اورخاندان کی تعیر مین اس کاکردار 


سادا مرد ان وق نکی کال حقیت کے اظہمار کے ےت سے اہج نمی رکا 
سور کیا جاسکگ 

ائی کے ساتھ فرماا گیا ک0 - مداکے پترے اور ک ماں 
پک اولاد ہہ ال لیے ایس ایک طرف و خداکی عبادت او تک اتی رکرنا جازبیے 


2ج 


را ١ے‏ ڈرکر زنر یگزارنی چاے۔ دوسری طرف٠‏ جھ رشۓ اور ثعلقات ان کے 


یمان ہیں ان کا اتتزا مکرنا چاہیے۔ ال مد کے ازم کے سباتدعورت ود ۱ 
ترا مکی اکیڑی۔ 7-7 


اور اددمردکیکام با یل ان ت7 اث سس 
070م" ِ 
لوہ مرد ہے اورعور تج رت ہون ےکی وج سے قروتر اور زلٹل ہے۔ اس کے 
یک عورت اور مد ول برا یں - اڑل و ایاگ طور بد کا کے لے رکا کا 
فا گے دیلگیا ۓ اور شی کے بی ین کم زی کا مل یکا ے۔ مرد اورگوزت میں 
سے جوگھی ایمان اور یگل سآ راستہ ہوا وہ دنا او رآخرت مل کام اب ہوگا اوز ١‏ ۱ 
کا داکن ان:اوصاف سے خھالی ہوگا وہ ریّولں ھی یہنا کام دنامرادہوگا۔ ٠.‏ 
مَنْ عمل صَالحً ین ڈو او جونربی ٭ کر ےکگاہ چا دو 
درگ رد ہو ا ععورت اگر وہ من نے پو پھم(1 
آئی وغز زین لی عو . ت اف اسے پاگیزہ کم ۱ 
۱ اد ر لان ار اش لید(آ رت شس )ایے لوگ ںکوشریدانن کے دہ 
ما کالُوا یَعمَلوْوُہ رفلںے)) ای ےکامو ںکا اج عطاکر سی گے 
یہ ال جا ت کا انار و اعلان ہ ےکہ انسانکی قح ت کا فیصلہ ا کی جش کی 
ای :فان وق کی اتا زوا ےش کی گے نخس انا اود 
و لی ات ا امیس اس مات عیب ہگ۔ دی ریم ۱ 


عورت اور اسلام ---- ۱ کو 


صراط سے سے 227 اورشہ فلط راہ پگام زع ہہوگا۔ اللہ تعاٹٰیٰ اسے رزتی علال ۶ہ 
کر ےگاء مشکاات میں عب رو قاع تک دوعات سے برہ ورفرما ۓگا۔ قیامت کے رو 
نت کے دروازے ایس کے جیکھلیں کے اور وہ ںکی اپری نت ں ما وی دار ٹا 
پا ےگا۔ ایک اعد اکلہ ے۔اں مرد اورکورتٹ کے ورمیان رق نہیں ے۔ 


ور تکا میا نککار ا ںکاگھ رج 

البھ اسلام کے نزدیک عورت اور مرد کے دائَ٤‏ کار چدا چا ہں_عوزت ‏ 
میداا نل اصلا ا ںکاگھرسے اورک سے باہ ریا دا مردکی آ ماع گاہ ہے۔ چنال ج 
ہول الم یچ کی ازداج مطبرا تکوقرآن نے ہدابی تک اود میا ہرایت الن تھا 
خوائن کے لیے ہے جو خدا اوررسول پہایمان ایی ہیں۔ 

َفَرنَ فی بْرَِکنٌ (70ب۳۳۰) اوراے وں مل کواغ ے رہو_ 

یرفواژ نکو اپ ےگھروں میں رٹ کاگم ہے۔ا ںکا مطلب بی ےک ال 
ھیز ینس رس یڈ 


زے راریں س ےکا ہک “ا بڑے۔ 


وو اکتراشات اور ا کا جواب 

الام کے ں موتف پ رک گور تکا دار٤‏ کا رگ ماور غانرانی ے مام طور: 
دہ امراضات بے جاتے ہیں ال یک ہگورت پگ ری زے وازی وا گے ے؛ 
معاٹی جدد یں اکر کے گی اودال وف میں کی یت کر ز 
رےگ۔ 

اں سکلے میں پلےنذ یہ بات دا ہو چایےکہ اسلام نے عور تکومعاٗ 
جدوجہد سے بازنچیں رکھا ےہ الہبنہ اں کے لی نعل عدو مین سے ہیں۔ ان عد 
کے اندد و ہکوئی بھی ذرایت معاش انقیا دکیکتی ہے اس میں پیک نی ںن کہ ا 


۱ عورت کی عظمت اورخاندان کی تعمیر میں اس کاکردار 


رویا تک وج ےکور تک معاتی چروچھر 7 سک ہے اود دہ مدکی رح اتا 
ت اوزتانائی یں کے لے صر ھی ںکریکی۔ ا ںککاعل اسلام نے ىہ الا ےک دہ 
قافو ال امرکا پابند بنانا ےک وو عور کو محاشی تو 007 71 
فا ت کا بوچھ اٹھاۓ۔ 

دوس را اعتزاضل کیا چاتا تاروت 7" زےدارگی ڈا لئے ے وم اں 
8 چچار دپاری میں تحصور پوگر رہ جا ی ے۔ زنی سے او رگیٹوں من میں یو واںی 
لائیتوں ے فائدہاٹھایا جاسکتا ہے اور شہ وہ خود فدہ پان کے موقف میں ہولی ے۔ 

بہاختزائش کر میں ے۔ اسلا مکا طخا ہز نہیں ےک اصود خاش دارگی کے 
دا سمار ےکا مکورت کے سے یےموںع ہیں ا ںکا متحمدصرف مہ ےک وہ اصلاً ھی کی 
پل اورخظم ہے۔ اسے باہ رکا دٹیا کو آہادکرن ےکی گر یں بنا گر اجاڑنیں دیا 
یے۔ ال کے اوقا تکار اورتوانائیوں پر باہ کی ول جپیوں اورمشخأو کا ابس رح 
یر کے یجس ایک ام کاہ اورستاےۓے اورگیڑی دیآںام 
مرن گیا لہ مل نکر رہ چاے۔ پال نی ڈے داز ںا دارنے کے حر وم 
بای ٹی جدوجہدگج یکریق سے اود ا حالات زوٹئی اور ر مان کے اط سے نکی 
ے روسرے میرانول یں بل چھی بھی مےحتق ہے تار ال ےک ہمان 
ران نے اپینے فطری دائتڑے میں رہے ہوے اچشماعی زنرگی کے ماف شمہوں 
ں ی الواق رل بجی پیا اورنمایا ںکارناے انام دے۔ ّ 

سب سے ب ڑکا جات برک اسلام نے عور تکوساہگی اور معاشرلی اط ے پڑا 
2 مقام عطا کیا ہے۔ ال کا و یں اصا کم تری کے پیر پاوقار اور 
مت زند یگزارل ے اور مرد کے ساتھ ,کر ایک صاف سجخھرے اور پاکیزہ 
ناش رک فی ری ا سک تو ہیں صرف ہولی ہز 


٦7ے‏ ۱ 
نوائر) مک کیوں الک ہوا 
: اب سےا سال پکریکا سم ن رت ور سے ا ٤‏ کارب 
دسرے سے ان گکیوں رکے پیںا؟ کی دو وین ہیں۔ : 


گل وج _مخفنت وحم کی ظا : : 
مس ھت ات 
۱ ہے۔ ج گی دفول ایک میدان ۲ کا مکی کے باخفت نیکارا ان کے لے 
وٹوار ہوگا ۔ اگگرعورت اود مردٹل ج لکر ور ںگاہوں می تلیم وص لکریں رکیل اہ 
میراوں می ں ھی لکود اورتززخ لیں, ازادویل میس ہب ےن اور آزاوی ٤‏ حَ 
اھ لین دن اوکاردبا رکزیں اورخلوت وجلوت میں اخ سی . روک ٹوک اور پابند) 
کے لے عجلتے رین او ری سلہلہ دو ایک ایک دلننیںء ما لہا سال تک وراز بوتا جا 
جاے اور ای یش کین سے ب ےکر جوا اود جوالی سے ےکر ڑا ےکک ف۶ 
ممارے مرائل نے ہوتے رمیںء نے ان ک ےج ی جذبا تکا گ ڑکا اد بے او ہوٹا ج 
تئے۔اں کے بعد ووگڑی بے راہ روگ یکا آسائی سے شکار ہوک یں۔ 
ہی یٹ جہا ںیل الال مردوزن عام ےہ ال 00 َ 
ں بھیاک ا کے جا رے ہیں.فت دصمت ان وی آارکی بے عا کر 
۱ طر بی کی ے۔ ابا ا کا اصلائ بی اتی ٹا ہی ہک اے ایک ار سار 
راگ یی حقیت سے لی مکرلیا گیا ہپس سے مھا ہک کوک ور ت نی ہے اود ال 
کے تا بدکای چارد تا داش تکیاجاراے۔ ۱ 
7 عفت وعمت بظاہرایک اخلاقی قدر ےلین اس سے پپرے مواشر ےکا 
رخ مین ہونا ہے۔ جس معاشرہ میں عذت ڈنصس تک کوگی ابحیت نہ ہو وہ آر یکو ہر 
ٰ رف کرد کلف ل با ا ےکی ار اچ 


ےا عورت کی عظمت اورخاندان کی تعمیر میں اس کاکردار 


تزیبء معاشرتہ ادب اود اخلاقی پیدا جونا ہے۔ ا لکا ایک ایک جن انان کےچی 
بذبات مم شآگ اگالی اور نیس برکاتی رڈتقی ہے۔ اس کے برخلافہ جو معاشروعفت . 
حصی کی رر ون ہت او رم ت سز ںکرے ا ںکی تب رایک دسرے یج پرہول 
ہے۔اں کت ہق سے مم و چا او د/دارکی پاکی زگ کا اظہار ہوتا ہے اور ہرطرف 
نتڑیٰ وطہار تک فضا بھائی تق ے۔ 

الام عفت وحصصست کے معاملر میں بڑا جآ وا 2 ہوا ہے۔ ال لےگورت 
ورمرد کےآزادائ یل جول اور اخضلا کوشا سےٹ کیا ہے۔ دہ اس با تکو فل تا 
ےک اشی عورت اور مرد ایک سا لک رہیں یا کا مکرمیں اود خودکو ای یآ زرنش میں 
ال دی کہ اں سے کنا ان کے لیے مکل ہوجائے۔ ال نے نا اور ہدکاری کے ٠‏ 
نطاب کی سےکیںء 1 کےتریب جانے ےکیٹ کیا ہے۔فرمایا: 
زنا کے قریب مت کینگو۔ اس لی ےک دہ 


سک ۰ ۳ : بے حائی کا کام سے اود بہت ا برا 
ساء سبیلاہ کیا ا ۳۲:۰۲ - 


راو ہے۔ 


روس ری وچ __علا تو لکا رق 

عورت اورمرد کے لیے دد الیک میدال نا جوی نککرن ےکی دوسری وجہ ىہ ےک 
ون ںک توٹں اور صلائھیں ایک دوسرے ے ملف ہیں۔ بہ ایک مفیقت ہے 
ورت جما ی طور پرمرد ےم زور ے وہ زیار: حنت وشقت برداش تی سکیتی۔ 
ہے ساتھ اپےے عوان بھی گے ہو ہیںہ جھ سےسسلسل اورسخقت نت سے 
ز کے ہیں۔ ا لک جوالی کا آغخاز بی ماہ داری سے ہوا ہے اود ج ب کک دہ بڑھاے 
گی عدود ٹن دقل نہ ہوجاۓ بر سلسلہ چادگا رتاے۔ ال کے علاوہ کر و 
ضاعت کےخت اور چال گل مرتل سح ےگڑدنا پڑنا ہے۔ سار کیفیات ا لکا 
صتء تو کار اور ما پاش انداز ہوثی ہیں اود لگا تار جدوججد او رحن تک راہ ٹل بل 


فرط ۔ خر ے 7 27 
ولا تقَرَبُوَا الڑّنا إِنهُ كَانَ فاحشة' و 


عورت اور اسلام ۸ 


ہیں۔ ان لیے فطر تکا تّاضا اور عرل وانصاف سے قرب تر بات گیا ےک کگورمت 
براں ےگ ادج ڈالا جاۓے بنا بوجھمرد یر ڈالا جاتا سے عحنت ومشتقت کےکام مر 
کے سبرد سے جاٗیں اورعور تکو ا نکاموں ٹیس لگا جائےء جو زیاد محنت طل بن 
ہیں۔ الام نے ا سںکاضعل ب الا ےک ہعور تگع رسنجالے اور مر پاہ رکی خدمات 
ا ا دے۔ 

عورت کا مزا رہتمالن اور مضیا تگھی اک یکا تقاضاکرتے ہیں ۔عورت کے 
ائدربتء رل دارلء یم درگ 7 خارلقء ایاروٹر ب ل عبر یم بردہارگ اور غ رما 
کے جذرجات ھرد سے ظیادہ لہ النا گا دجرے وہ ای اع ل کوفرت اودونیاء راحت 
اور ول اور دل جِلّ اوربت سے ری سے۔ مین ند کے شداکد اور مشکاات“ 
ساہنا کر نے اور ہرطرں کےقیب وفراز یی خابت مرگ کے سات ھآ کے بڑ ھن 
لج ضرری ےک آگل میں انی عزم دمتہ پا دا اورشھاع تی صفات إ 
ا بصفات مد مل زیادہ ہیں ۔گ٣‏ اور نائدان لہتً رون ماول فراج مکر 
ہیں۔ ائں ٹیس عور تکی تمہال زیاد وک کر سا ۓ مکی یں اور ان ے ڑیادہ ڈاکە 
اٹھایا جاسکنا ے۔ زندگی کے چجیدہ اور دخوار مسائل کا سامنا مر دکرسکتا ہے۔ اس لے 


فطربی طود پا یکوالن سے عببدہ رآ ہونائی جاہے۔ 
گح مکچھوڑنے میں عور تکا نتصاان سے 

عور گیا ىہ ہرگز نمرخوادی نہیں ہ ےکہ اسے ال کے فطریی دار٤‏ کار ے 
شیا لکر خی رفطرکی دائڑے میں پاپیا دا جائے۔ اس ٹس ا ںکاکوگی فاد ہنیس بلہسراہ 
قصان ے۔ 

سب سے کی بات لا ہ ےگ ہگورت جب خ کگورت ے وہ ماں نے مل 
رضاع تک یآگیفیں برداش تکمرنے او ریش ونفقا ں کی کیفیات ےکر نے 7 
ہے۔انا مشقکلات ایر یں ٹیس مردا ںکا ساتھ لن ل ہیں بتا-۔اں کے سراتقت دم 


/ عورت کی عظمت اورخاندان کی تعمیر میں اس کاکردار 


کی ذے داریا لچھی اس پر ڈال دینا بہت بڑک نانضصائ ے۔ 

د ری بات بکگود تگح ریا کڑدے دہال اے باپء بھائءخوٍر اولاداور 
انان والوں کی عحب ت بھی عاصل ہوٹی سے اور اس کے موق و اختیارا ت بھی مفوبز 
وۓ ہیں۔عورت اگ رگ مکی زے داریی نہ اٹھائۓ و وہ ا عخنو کا و نی ںکرکق۔ 
ں کے بعد سے زندگیگزارنے کے لے یی ایک اپ میدان می کا مکرنا ہوگاء جو تقیاقت 
ا لکا میدا نال ہے اود جہاں اسے اپنے سے زیادہ طاات ورمریف سے فلم قدم 
رقاب ہکرنا پڑ ےگا ما کوک اکا جانکق ‏ ےک دہ مرد ےآ گےنگل 
گگی۔ 


گحھ ری نیادی ایت ے 

عورت کے لے عزت وٹر کا مقام ا لک اگھرے پازارنٹل ےن 
۶وجورہ دود ‏ سگم اور را نکیا بہت یی طرں میں تی ںی جالٰء اں لے جب 
سےعور تکا دار٤‏ کا رکہا جاتا ہے نے بی ھا جانا ےک ال کے ساتھ ناانصاڈی ہو ری 
ےہ اس کے لیے محانشر ہکا بہت ھی تقی اود زی لکا متجوی کیا جا را ہے اسے ود ہت 
ڑل دیا چادہا سے جن الواتح اسے منا چاہیےہ ال طرں رر ستعل پا بر رکھے 
لکش کی 7 ہے۔ عالا کہ انا نکی بھی وس ائ یکا ذیاد ہے ۔گح ری ائثہت 
زار اور اور ےگمتئیں ہے۔عور تگع کی تی ری جو خرت انام ری ے وەان 
بہت سےکامول سے زیادہ ایم 9 1""۷۷)/ھھ ے۔ 
ہاں اس ک ےھ پلوئو کی طرف اشار ہکیا جا رہاہے۔ 


کم میں عمورت ٤‏ غدرمات 
١۔‏ انان بے شحار سای ساگی اور ہنی سانل میں الما رتا ہے۔اں کی 
اتھسحت, من خیچ عایء برحالی ”نیف او آس ئن بھی گی ہہوگیا ہے۔ اسا اوقات 


عورت اور اسلام 


معائش کے لے اسے سخت جدوججد او رحن تک لی لی ہے اپ الد اپے انرا ن٢‏ 
فلا و ہجبود اور تزرثی کے لیے بی وشوارہیں کا ساعٹا ابی ل ےکنا ہکم ے۔ ال 
حعالات میں اسے سب سے زیادوضرورت ڈہنیاسسکون اود ایبنا نکیا سے ۔گھ مر 7 
اور راحت ڈراگم ہھ مکرتا ہے۔ اگ رگ رتھی اسےسکون نہ فراہ مکرے و اس کے لیے جو 
دو رہوجائۓے- اعلا مکی تلیم یہ سب ےک ہعور تگع کو راح ٹگزہ او رون کیا 7 
ہنائۓء کہ ییہاں چو کر مرد انی سار یگیشنأں اود پر یٹائیاں بھول جائےء اورتاڑہ د 
ورک کی اشن تا صا داکرے۔ 

٢ے‏ بات پایے حو ت کت 2 س ےکہ پیر کے سے مالں کے دووو سے کب 
کوئی دی فزاتجیں ہے۔ اگر ا گر پر تددے اود باہ رکی مصروفیات اے دن گا 
تھیرۓ ہیں وہ ا ںکا اہنما میں 2 .سی رح شی رخوارگ یکی عم ری بھی اود 1 
کے بح دبھی ع ص رک کک پروش ماں ہی کے یں میں کی ہے۔ بی کی5 
نٹ رما کے لیےصرف ات با تکا نی نییں ہ ےک اسے مناسب اورمنوازن نل رۓ 
بلہیسں کے لے محبتہ م دددیی اور مامتا بھی ضروری ہے۔ اررے اپ ترب7] 
باعول مل ے جذبات میں و ا کی خخصیت م چا کر رہ جا ےگا اود اھر ےگ ' 
پالگل فلط رخ پہ اھر ےگی۔ الن جذبا تکازن مال ہ یکا ینہ سے ۔کوئ بھی درا 
ا لک بد لنییں بن سکتا۔ جب ماں دن و گے باہررے گا ران جذبات - 
لیے پا رےگا اور وہ اسے شمل یں 02 

,2 یما تنم وقمیت کے لی بھی ماں سب سے زیادہ موزوڑ 
ہے۔ اں یےکہ پیج تیم ای وت پ تی سے ج بک استاد بے حدشفق اه 
مہربان ہہ ال لک فغسیات اودھراحع سے وافف جھوہ ان يک شرارن ںکو پرداش تکرے اہ 
رونل سے ا نکیا اصلا ںککرے۔ سب سے بگ بات ىہ ہ ےکہ پچ خودیی اس ے 
معب تکرے ال لک ات پان ںکوبھی خلیس او رب رخوانی ول ککرے اود ا ںکی شیب 


ا عورت کی عظمت اورخاندان کی تعمیر میں اس کاکردار ۰ 


ں کے لی ےگوارا پو۔ مہ جذبات مال اود بچہ کے درمیان شی ہوے ہی کی بھی 
بے دوتننموں کے وشیا نگاں ہوتے اود شہ ا سک ان سے وش کی جانتق ے۔ 

ایک اور پہلو سے راہ شی نہ نظرسے ہے بات بت اہم ےک استاذ 
برشاگرد سے ورمیان براو رد تلق ہو پتلق چنا وی ہکا پیر اتا سی استفادہگگی 
گر ےگا ای وچر سے کول میں بھی بڑکی یں زیادہ کا رآخج ںی جاتل٠‏ 
یو ںکہاس میں طالئ عم اور استا کان یکم زور ہوا نے ان کے مقایلہ میس چھوٹی 
میں پپندید ہکھی جاتی ہیں اس ےک اس مس پیٹھلق بڑھتا ہے اس پہلو سے 
بک ماں اپ چند یو ںکوجس طر حتعلیم رےکتی ے ہس طرع ا نکیتلیم اسکول 
ں ہیں ہک 

بت سے ب ںک یلیم جس ل بھی اھ یکھیں ہوئی ک ہگ برا نکومہتر ٹیر 
یں مات با ان کے والدین ٹیوٹ رن سے موقف می سکیس ہہوتے۔لڑکیو ںکو ٹیوٹ کے 
رىیے بڑھانے میں بح تچھ یحو ہوئی ہے۔ گر ماں ا قائل پوکگھ رپ پچ کو 
مم دے کے اود اسے اق ڈے داری بھی ممو ںکرے تو تلم بر بہوئنے والے 
راجاگھ یکم ہو کت ہیں اود یبت کی باعل سے پیا بھی جاسکتا ے۔ 

یہاں ای ئن ایک سلران کے نہ رسے اہم بات ی ےک ہآ کل 

ینعی م کا رجا نکم ہے۔ چنعدہی پچ دن ینیم حصس لکر بات ہیں۔ ا ں کا یہی 
جےکہ پیر جب انکول جا ےکی مرکو پچتا سذ نکی لچ دیا چاتا ہے۔ پچ راسے وین 
کی موی موی باں جانۓ اسیج کا بھی موق نیس بنا چتاں چہ بہت سے کیک اعد 
مرا ترس لوگوں کے ہج ےبھی دی نکی ابنائی باقیں سے ناواقف رہئے ہیں۔ ا لک وج 
ےکہ با پکوگحب می تھلیم دی ےکی فرصت نی ہولی اود ماں با جال ہوئی سے 
ان یس ا کا ذو نیس ہہوتا۔ گر ماں اس مقائل ہہو اور اے ا سک یکر ہوتو سگولوں 
ریم پانے کے باوجود بپچردین سے بے تریس رو سکیا 


. عورت اور اسلام ا 


تربیت کے نقلۂ نظ رس ےبھی ما سک ابحھیت بہت زیادہ ہے۔ پچ کے لے اصلر 
وشہ1 ںکی ماں ہولی ہے۔ دہ ال کے اخلاقی و عادا ت کا شب وروز مشاہ ہکرتا رہ 
ہے اود ای کے رد کو دس ھکر اپنا رو یش" نکرتا ہے ۔گھ روالویں سے ال کیا مال 
ایے مار ے ضس طرں کے نعلققات ہہوے یں ای رب کے تعلقات وہ دصرولں ے 
ا مکرتا ہے۔ اس معاللہ ٹل ماں سی مق مل ہوئی سے اود ا کی ببرت لا 
اظا ق٣‏ زخ ضخیِ نرلْ ے- 

یقت ىہ ےکک رک تیر کے اخیر مواشر ہکی تھی نی ہکتی۔ ای وجہ ے 
اسلام نے عور تکو ا کی تیر کے لیے پاکنل فارر گر دیڑے۔ دہ ال کے سرت کو 
دوس را لو یھ اس پر ڈالناتیں چانا۔ تک مال یا ڈے داربیں ےکی اسے سک در 
کر رکا ہے۔ ال کے نزدی کگع کی تفر جہاد ےکم اپ میں ہے۔ حقرت ا 5 
روایت 72“ نے رسول الد جا سے عو لک اک مردق فضیلت وانے ائل 
اور چادکا اب حاص لکرتے ہی ہپ مک اکر کی بھی دوواب لے جو راو خدا مر 
چہادرے والو ںکو متا ے؟ آپ نے فرمایا: ”نتم ین سے جوعورر یگ میں بیو 
ر گی دہ ال دی راہ یس چھادکرنے والو کا اب پا ۓےگی مہ 

۶(0 


ای نکی تی القرآن نیم : ٦‏ ۔ اس ددایم تک سند پہ جرحع اق ہے۔ 


٢۲ 


مسا نعورت . 
(گمماورغاندان ش) 


خائدان سعاع کا اشن ادادہ ہے۔ ا کی فی پر پپرےسان کی میا 
تمار ے۔ اسلام نے نے ذیادی طور پراںکی زے دارگی گور پرڈال ےکن ںی 
بچہ سے ا نگ قالولی اود اخلاقی حثی گی ططرع بروں خی ہوتے دید وہ اک 
7 کے تام وق کی از روۓ اون حطماعت فراپ مکرتا ہے اود دوسرکی طرف 
نے پدے معاشرےکواں کے ات تر سے ؟ہت لو ک ام یا ہے۔ الام اما 
شا پھالمتا ےہ حورتہ جس <بے یت میں کی رےگزت د اترام کے ساتھ رے۔ 
نپ تک ضا ای سے اس کے اعزاز داگرام می کل فرق یں سیا۔ اسلای 
حاشرے میں اے پپرےقانوث موق کی وص٥ل‏ میں گے۔ اورسمابی یت ےکی 
لک درچہ ہت بل ر ہوگا_ ان 

گھرا اور نماندانع ٹیش عور تک تین نایاں کشتیں یں ماں: وگ اور ی۔ 
ںی ایک حقیت مہ نک یکھی ہے۔اسلام نے ے ان تام میں ے اس ا ظا بث اور 
وشیا ا مقام عطا کیا ےک اسلام وی ہوب کوئی زرل نے انا ي 
خام رع یی کا 


عورت اور اسلام ٠<‏ ۱ ل2 


ما ںکا ات و 

۱ اسلام یش خدا اور ایس کے رسولی کے بعد سب سے اونچا درجہ ما کا ے۔ ال 
نے مال اود پاپ ددفوں کے ساق وحن سلو کفکی ناکی ری می اطاح تکاگم 
دیا ہ ےہ ال لی ےکہانسان پر دوفول ہی کے اسانات ہیں ہین ق ران وحدبیٹ یل مال 
کے احسانا تکوخمایا نکیا گیا ہے۔ نان چ ایک ججلہارشادے: 

۱ بھم نے انسا نکوتاکیادک یکہدہ اپنے ماں 


وَرَصّیْتَا انان بَاِكبْےِ 
پاپ کے ساتھ اہچما سلو ککرے۔ ان کیا 


ہت 


فی عَامَيْن آن اشْکزلیْ وَرَالِدبُک ‏ 


لی المَصِيْرُہ 


(لقان:٢)‏ 
دس ری مل یا 


وََصٌيَا اَإِنْسَان ِوَالَِيه ِهً< 


0 و 


عََْوَفَِلۂتْه مَھر 
۱ (الاطاف:۵٥)‏ 


اں نے ضف پرضوف اش اکر اسے اپے 
پیٹ یس رکھا اود دوسمالل می ال ں کا رررویھ 
چھوا۔ ہم ن ٹم دیا کہ می را شگر او اکر اور 


نے زی کا گی شک ا ا میرک ا 
طرف تھے پلڑاے۔ 


2 نے :انسا نکو وی تک ا کہ وہ اچ 
واللدیی کے سراتق سن لو فکرے۔ ال ںیک 
ما ں نے تلکلیف اٹھا کک ا پیٹ یں رکھا 
او رنکلیف اٹھ اکر اڑے جنا۔ ااں کےکسل اور 
دودح ٹچھٹراۓے میں نمیں میلک گئے۔ 


: رک یگنہ داشت 27 غحدمت انیم و زیت عیبر جن پاپ کے صاخ 
مان گگی شر یک ہوئی ہے لی ن لہج مل اود رضاع تکا لیف تھا ماں برداشت 
31 ہے۔ ند ماہ کم ل کا بوچھ اشنا موت و حیا کیم لکش سےگز کر پیک جم 
دینا اود راپ و یکو رورے بناکم پچ ہک پلانا اود ال پیر ےعرصہ ہیں سخت اعتیا کی 
زندگی/ زادنا آسا نیل ہے۔ ال صعوبیت کے برواشم تکرتے میں پاپ پا لکا شر یئ 


۲ مسلمان عورت گھر اور خاندان میں 


ہھتا۔ ال لیے ا کا اسا گیا باپ سے زیاذہ ے- 
اعادیت شی ما با پک غحدمتہ اطاععت اور ان سے صن سلو ککی طرف 
ذف پپاووں سے وج دلائ یگئی ہے۔ یہاں نت وہ حدہشییں شی کیا جا ری ہیں ہ جن 
ماں کے سان سلو کی طرف متعدد پہلوگؤں سے تج ولا یگئی ہے۔ 
ا رسول اللہ پل نے پاپ سےحسونسلؤ ککی جس قدرجاکیدفررائی سے 
6 ےن سلویک پراں سے ڈیادہزو دیا ے۔آ پکا ارمادے: 
ایی مرا بائہ أڑصی اما با مد کول ںک میں کے بارے مم 
اڑصیٰ امرأباقہ أذصیٰ امربایی و تاگیکمتا ہوںہ می ہد کو ا کی میں کے 
2 پارے میں تاکی رتا ہوںء می ںآ دی یکو لک 
ماں کے پارے ئل تاکی دکرتا ہویں۔ ٹش 
1د یکو یں کے اپ کے بارے میں جاکیدر 
کرت ہوں۔ 
نت عائنٹے فرمائی ہیں: 
لت تَا رَسُول اللٰيہ! مَنْ اَعُظمْ .ہیں نے عی کیا ے الد کے وی 
لس حقًا علی المرأة ںوی (نپچتگھ) عحدت برسب سے زیا دو کا 
ہیر رھ رر سے آپ نے فرملا اس کے وب رگا۔ مس 
وس سو لٹا حقسا علی 0 و 
الرَجُلِ قال اما“ ہے پا نے ف رای ا کی ما ںکا۔ 
نض لوگو ںکا خال ‏ ےکہ باپ کے متقاللہ می ما ںکم زور ہہ اس لیے 
ول ال پا نے اس کے سات وحن سلو کی زیادہ تاکیدف کی ہے۔ ہکا ہے سے 
بھی ہوہلیان ٥ل‏ وچ ہے ےگ مال کے احمانات باپ ے ڈیادہ ڑل اور وہ 
ازع ماج کناب الادبء باب بر الوالدبین۔ حائمء لستد رک گیا ١‏ 6 ہکتاب ابر واصلء 
ری ٹک ر۷۳ کے 


عاکم: اعد رک لی ین الہرولصلۃِء حریٹ ۳ ۲۲ے 


عورت اور اسلام ا 


الا ا ںکیغن ‏ کہا لک طرف (یادہ ق کی جائے۔ 
٢۔ترآن‏ دعدیث ے وداج ےک پا مین بڑ ۓےگناہوں مل سب ۔ 
بڑا گناہ اللر کے سات ترک ہے۔ اس کے بعد بہت کا اعادیث جم مال پاپ 
نا فرانی کا ذکر ہے اس سے ا کی شاعت دات ہو ے۔ 
اں کےساتھ ما ںکی نافرماٹی سے یچ کی الک سےبھی جاکیی دک یگئی ے٠‏ 
اسے ا قرادد گیا ہے رسول الد جک ارشاد ہے: 
ال حَوَمَ لینکُم حضوق ‏ للدتے ت برا مھمرائی سے مائو کی نفرذ 
الأكَهَّاتِ ... ووَأد الات گ ...اورلگیو ںکوزنرہ ڈ یکرنا۔ 
رسولل اللہ یلگ نے یں محصیجو ں کا ذک رف مایا او دکہا کہ جب مبرکی مت ان 
ایا بکرنے گ ےکی ایس برمصیپبموں اور عفرا بکا زول شروح بہوجاۓ گا۔ انا“ 


سے ایک بہرے۔ 
اع الرّجْل رَوْجَتَهُ وَعَقٌ أَمَة آف اپ یلگا گا بات مانے گا اود ماں کے 
وَبَزصدیقنے و فا ابتَاہ ناف ما یکر ےگاہ ووست کے ساتھ ابچھا روبی اختیا؛ 


کر ےگا اود پاپ کے ساتج ا کا رو یقت ہھگا۔ 
ایک دوایت یل والدی نکی ناف رما کو علامات قیامت میس سے ایک علامہ 
تراددماگیا بنا( بکہ رط فٹری زگل با ۷د 
۳۔ ہاں کے سات سن سلو کفکوگناہہو ںکی مخفرت اورصولي جز کا ژرا 
تایاگیا ے۔ 
رت معائٹ پا نکرلی ہی کر حارشہ بن نتم ال ائی والمدہ کے ساتھ سب - 
اچھا سلو کرت تے۔ ایک روز رسول الد لگ نے فربایا: مس نے خواب میں جن 
لے فارگ کتاب الادبء جا بمتوق الوال بین مین الپائر ےس ل ماب الایمانہ جاب الگیائ واکب را 
بماریا کاب الادبہ جا بمقوق الوالد۔ لم کاب الا قضی:ء باب نی ع نکش 7 ال کم 
تزنریء اہواب اشن ء باب ماجاء فی اشراط لماعت 


ِ. مسلمان عورت گھر اور خاندان میں 


ارہ دیکھاء داں مس نےصمی کے قرآن پڑس نکی آوازکی۔ جس نے پوپچھا: ‏ یک سکیا 
واز ہے؟ ایا مگیا: سے عارشہ بن نتما نکیا آفاز ہے۔ ال کے بح دآپ نے صا سے 
مایا سے مال کے ساق صن سلو ک کا تاب یہ سے ماں کے سرات رصن سلو یا 
ات 
ححخرت عبد ابد جن گرڈ فرماتے ہی ںکہ ای شس نے رسول ال گج سے 
شکیا: مھ سے ایک با گناہ سرزد ہوگیا سے سکیا اں ےو رگ یکوئیشگل ے؟ آپ 
ے ال سے لھا کیا تہارک ماں ہے؟ ال نے عون لکیا: گی ۔آپ نے ددیافت 
ایا :کیا تہارک الہ ہے؟ اک ن ےکہا: ہا ! آپ نے فرماا: اس کے سات رصن سلوک 
روت" 
ا ں کا مطلب ہہ ہج ےکہ مال دہ یکا خدیس ت یہ ال کےگ۶زیزوں اوررشد داروں 
ا خدنص تک یمناہوں کا کغارہ او رمخقرر کا سبب بن جائی یت 
۲- 0 0 وم ہے۔ ما کے بعد بی 
12 س مقام ہے۔تحخرت الو ہریین روای تکمرتۓے ہنی نے 
ول ال مھ سے سوا لکیا: من احق بحسن صحابعی ”می رۓ صن سلول کا 
5 سےزیاد ہت کین ہے؟ 1پ نے فرماا:تمہادٹی ءال کی نے لپ چھا: ال کے 
مرکیان؟ آپ نے فراا: تمہای ماں! ال نے تسرکی مرحبہ و چھا: اں کے بعگین؟ 
پ نے اس مر یگ اسے کی جواب دیا تہارک ماں! نی مرتبہ جب اس نے می 
ا لکیا قھ آپ نے فرمایا:تہاراباپ ۔ 
مکل الصائع کتاب الاداب ءکتاب لی البروالصلۃ بحوال شرع اسنہ وقلبلی۔ و رواہ لیم 
انت رک کاب الب روالصلت:ء حد یٹ ٹہرے ۲۳ے 
ت نیہ اواب ابر دالصلعء جاب ما جاء فی الفالد- حاکمء المستر رک کاب ار والصلد 
ہبی ٹب ۱٦ے‏ 
بفارگ ءکاپ الادپ؛ پاپ من اق الا ںمسن اصحپنن سکم کاب الب رداصلن:ء باب بر الوالمی-۔ 


عورت اور اسلام ۸ 


اک اور عریث ٹُل ےک ہ ایک صاپ نےآپ سے سوا لکیا کمن سو 
کا سب ے زیادہتیْ دارکون ے'؟ آپ نے فرمایا: تمہادگی ماں۔ اس نے سوا لیکیا: کی 
کون؟ آپ نے فرماا:تہادگی ماں۔ اک نے مسہ بادہ کی سوا کیپ نے اس مرن 
بھی بھی جواب دیا۔ شی بار جب اس نے بھی سوا کیا تق پا نے نما تمہارا باپ 
اس کے بحدرشتہ یہ جوم سے جقنا قرب ہواتا ہی ون سلو کاخ ہوکا یا 

قاضی عواض کے ہیں: لن لوگویں ن کہا ےک مال ادد باپ دوڈوں ٣”‏ 
سلو کک برابرامتقاقی رکھتے ہیں ملیگن جمپود کے نز دیک ا کات زیادہ ہے۔ امام نوہ 
فرماتے ہیں :نی را ےک ہے اس لی ےک ہصغ اعادجیت ا نک تائ کرک میں. 
عات محاجی کے ہیں: ”اس پر اجماغ ہوچکا ےک جن سلوک کے معاملہ یس مال 
21 اپ سحۃیادہ سے ںگ 

ماں کے ساتھ وحن سلوک د وکنا ہونا چاپیے یا خی نگنا۔ ال بارے میں نہ 
روایات ال ہیں۔ انام او فرراتے ہہ ںکہ ا سللے میں وہ روابات زیادہ ٹوک ٹر 
ٹن می سکہا گیا ےک انسا نکو باپ کے ساتھ جنقنا لو فکرنا چابیے اس سے تن“ 
زیادہماں کے س ات کنا ایت 

امام اتذٗفرماتے ہی ںکہ با پک اطاعت ہوگی ادرعم مانا جائۓےگا ین چھاا 
2/7 لن ہے چارتصوں می سے شین ماں کے ہوں گے 

اعلام نے ماں باپ کے تانوٹی توق اداککرنے بی پر زورک دیاء ہہ ا١‏ 
کے ساتھ سن سلو کی تاکیدفرمائی ہے۔ اس میس چھائ یہ بات دائل ج ےکم الن - 
قانونی وق خی دلی اورمحبیت کے ساتھ ادا سے ایس اود اسے وھ مھا جات 
مہ اید دا داب الادب ‏ جاب بر الو ال بین ت مرکا کاب البروالصلنء باب ماجاء فی پر الوالہع۔ 
‌ نودیءشرںم لم :جلد۸ جزم 1۷ء ۸۳ 
سز تفصیل کے لے ویھی جاہے طماوی ممشکل ال عار: ۷// ہے ۲سے٢‏ 
بھی ایی تمء اعلام الڑحین: ٣‏ /۳ے٢‏ ۱ 


مسلمان عورت گھر اور خاندان میں 


یں ال یش مہ با تھی آکی ےک ہقافدٹی عددد ےآ کے پڑہ کر اان کے ساتھ وہ ہت 
سے ہن رسلوی کیا جائۓے جو انسان کے مس میں ہے یں می بھی ما ں کات مقلم 
ے۔ باپ کے ساتحدہ جھ روہ افقیا کیا جانا ہے اس سے ال رومہ ماں کے ساقع اخقیار 
یا جانا چایچے۔ 


وئی کے موی 

الام کے نیک عورر تک مستفل ور ہے۔ نا ںکا وج ے ئل اںی 
حبیت خوہ رکی تخحیت میم بوجانی ے اور ئہ وہ ا سی عم اور غلام ہولی ے۔ 
ای کے لر چہاں دہ سج نی ڈے داریاں نبال ے وی ںحض ےم عو کی 
کی ہو ے۔ وہ طرر‌ ان ڈے دار پل سے الکا نہیں کہ بی طر نان 
تقو بھی اس سےکہیں ینہ جاسکتے۔ 

1ے یےدنھی کہ اسلام میاں بیوئی کے تعلقا تکاس فو فظرسے دکچتا ے 
ان کے لی ےکی اخلاقی اور قاونی فیادری فراہ مکرتا ے- 

١۔‏ ماں بہڑئیماتحلق اصلا ألشت وحی ت کانھلق ہے ۔گارت اورمرد کے 
بان اش تما ی نے فط ری طور پر جوعت کٹل اور چاذیت رکاری ہے رن یر 
ایک کہا کا ذک ان الفاظط می سکیا ے: 

ومن ای ان لق لم بسخ ا سک نقانوں مم سے بیبھی ہ ےک اں 
کم الکو ایز نے تھادے بے تہارک یع سے جوڑے 
را ضرق و رآ فا وک کو او ود بنا ت اکم ان کے پاس سکون حاص لکرو اور 
بل یم ک رر ان بی تہارے درمیان 7 رشت پیلد اگرگی- 
الک لَايتٍ لِقُوْم یتفْکرُودُہ یق اس یل نتانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے چو 
۵م۲۰) خورگرکرے ہیں۔ 
آں ا جا تکاطرف اشارہ ےکمیاں بیڑئی کے درمیان اُلفت دجبت 


۰ 


عورت اور اسلام 


اورگم دردگا نم خواری تلق ہوا جاہے۔ می ا نکی فطر تکا تقاضا ہے۔ اگ رحبت 
رت وعداات نے نے لی سے نو بی ال فطرت کے خلاف سے جس پ اتا 
نے یں پیداکیا ے۔ 

ہ رمچھوئے پڑے ادار ےکا ایک سربراہ ہھتا ہہ جھ اسے چلاتا - 
خاندان کے تعلقات اود ال کے مال دوسرے بہت سے ادارول اور الع کے سا" 
ے ڈیادہ دہ او رتو ہیں ںی سراہ کت بی ہیں کا چم 
ال کا کوئی سرجھرا اور ذمہ دار نہ ہوگا ‏ لازا ا کا شیرازہ شھر جاۓ گا۔ الام - 
نزدیک لف اسبا بکا بنا پر مر دکو خاندان کے سر برا ہکی حیثیت حاصل ہے۔ ال 
مطلب بین ےکم لک ا سکیا بی بر بے قیراورضمضلقی اقڑاردے دا گیا ے 
بر ا سکیگی ضس ہے بل گورت پ ییاں بہڈے دارا عاکر ہوثی س ےلوہ م 
انا بڑا ما نکر چائز مطالبات ٹیل ال کیا اطالح تکرے او رک کے ع مکوھیک و 
وہیں دہ اپنے تقو کی ا ہے۔ ان تقو قکی اائگی مرد کے لیے لانیم ے۔ چتاں 


رن یرٹ ے: 
اَلرْجَالُ قَوَامُوْنَ عَلَی اليْسَاءِ عردعودتوں کے سریبرست اودگراں ہیں ا 


مَا فَضّلٌ الله بَْسَهُمْ عَلی بَغض وجہ سےکہ اللہ نے ای کو دوسرے پر فضیلد 
دی ے اور ال وجہ سےگگ کہ مرد اپ 7 


ریت از ئ: اوالوم' خر خککرتے ہیں۔ یں ج یک جیدیاں ہیں : 
َالضْلِحث قینٹ حَافظت لقيْبٍ اطاح تکرنے دالی اود مردوں کے تیے ان 
بِمّا حَفْظٌ الله“ نزو ںکی طاط تکنے والی ہیں ب ےک ال 
(١فء۔:۳۴)‏ نے قاخظت فرال٤ے۔‏ 
ماندالی نھگ میں مر دی بیقر یکونلی مک رکے عورت ان نفقہ رپا ش٠٠‏ 
طاطت وصیاشت اورت٥لیم‏ وتربیت جیشے بہت سے متقوقی سے بجرہ مند ہوٹی ہے۔ 
و قکی ادائی یس مردکیتادی كکرے نے ازروے تائون وہ ڈنئیں اص لکریتق ے۔ 


۱ مسلمان عورت گھر اور خاندان میں 


۳-۔ اعلام نے ا کی ترخیب دی ہ ےک مرد اپ بی کے نانوی وق ہی 
ا اکھرےء بللہ ای سے کے بڑ ھکر ال کے ساتھ انیھہ سے ا چا سلو ککرے۔ 
8 کے ساتحی صن لیک ہرعال یس مطلوب ہے۔ بش اوڈاٹ بد ی کیل و 
رت مزان اور عادا تآٴدٹ یکو :ایند ہوۓ ہییں۔ا ںکا اڈ الم الع کے نخلظات 2 
اہے۔اںطرح کے مواتح پآ یکو بیوئی کے انتھے پپہلوک ںکو د یھنا جا ہیے۔ ا ںکا 
ى بات نالینریدہ ہوتو یں بائس تال تحریف ہیکت ہیں۔ اس لے شرافت و اخلاق 
کان٠یںحرتے‏ وداناگی کا گی نقاضا س ےک 1د یگھ رکے و منمادال تکوساۓ رجے 
تعاقا تکوخراب ضر ہونے دے۔آ و یکو ایک گور ہولی ےلین یں میں مر 
؛ بے ار لد پشیدہ ہوتے ہیں۔ اس معاملہ یں اسلام نے جس ای اودغنالی رو ےگ 
نکی ے وہ دیا خایگی اور یچ یں ل گی ارشاد ے: 

وَخَاضِرُزْشن بالْمَشرذْفي قغ ان کے ساتھ لہ طریقہ سے زندگی بم 
كرمُمُوْهْن فُقَسلی آنْ تَکُرمُرا کرو۔ اگرتم ا نکوناپیندکرتے ہو وکنا سے 
0 الله فِیْدِ عَیْرًا کزان کہ ایک ج زگ یں ناپند ہو اور اللہ نے ای 
(النماء:۹ا) سمش بب تک بچھلاگی رکھ دیی ہو- 

بی کے ساتھ جوسلوک ہونا چابیے ال لگ مین تشرحع رسول الڈرنپ کے 

ادات می سی سے حفرت معاو تم نےآپ سے ہہوکی کےموق انگ فریا: 
أن| تطممَھا ِا طعفث وٌ جب تم کھا 2 ا ےکچ یکلاءہ جب تم پور 

سْوھَا ا اتَسیْت ولا رب اسےلگا پھناقہ(خصہ سے بے ابو وکر) اس کے 
لٰوَجْة ولا تقَبْخ وَلاَ تَُجُر ال فی مہ پرمت ماردادرائ کو ہیا لا مت کو۔ ای 
ت. : ٠‏ سےکنار ہی ضروری ہوجائے) و گر سےمعمت 
0 کال دد پگ ہی کے اندرائس سےگدہ رہون 

بعدمث انا الفاظ شی بھی مرو نے 


یوادقد تاب النکاحء باب لح ارآ ع زوھا۔ 


عورت اور اسلام 


اَطْعمُوْضْنٌ يِمّا تَأكُلُوْن و ت جوکماووی ا نکوگھلاک ب و و۶ 
اُسُوهُنٌ بمًا نمو وَلاً ا نکو پناک ا نکو مار وگ اور د ہ 
تَضْرِيْزْهوَلأَنقَبَحُوْهْنَل با کہو۔ ۔ 
ان سے دو پاتیں معلوم بڑیں داآآ برک ہکھانے پچ ار نے اوڈ سۓ ؛ 
انما نکاء جو معیار ہو وی ا لک بیو یکا مگ ہونا ہے خودظل معیار کے ساتھ / 
اور ا ےگم ‏ معیادکی زندگ یگزارنۓ بر جو کنا نی ہے۔ دصرے ب کہ ال۔ 
ساق یل جول اور تعلقات میں ش افو ںکا سا برا ہونا چا ہیے۔ ججہالت اود بب یت 
مظاہ ری ںکرنا چاے۔ 
عور تک یکوئی بات اگوارگزرے تو رسول اوڈد نپا نے نیعت فرمائی ہے 
عہ رہل سے کا م لیا جائے۔ الا لی ےکہ یہ ٹاگواری پلموم وی اور عاشی ہولی ہے۔ 
ک یکوئی رت اگوار اط رہوئی ےت کوئی ادا و لکوغے لکرنے واٹی گی ہولی ت 
بات بات 7 وخصہ او رنظرت کا اظہار جابھی تعلقا تکو پیشہ کے لیے خرا بک 
ہے۔ححفرت الد ہیاک ددایت ےک صسول او وچ نے فرمایا: 
لیفک مُوِن مُونَة ان کر کوئی مز نکی موسہ (وٹی) سے افرت . 


مِنْهّا خُلْقَا رَضِی مِنْهَا احرٹ کرے۔ اکر ا کا ایک عادت ای نہ گے 
دوصرئی ابی گ ےگی۔ 


بض افقا ت آ1 ٥ٹ‏ یگحھھرے پاہ رق ضا الا کا مظاہر ہکرتا یرتا ےک 
وی کے ساتج ا لکا رد بہت لے ہوتا ہے۔ حالا کہ بیوگاہ جو زندگی ۸ ا 
ا ںکی زیادہ تن ےکاں کےساتھ یہت ین سلو کیا جائے۔ حدیت میس ا ںاھ 
سب سے اچچھا انسا ننکہا گیا ہے مم سکا ہیوک کے ساتھ رومہ اسھا ہو۔ ضرت ابو ؟ 
کے ہی ںکرسول او رھ نے فرمایا: 
لے ابو ادقد کاب الگا ء باب فی تح ارآ ما زویھا- 
گی مم ءکتاب الرضاعء باب الوصیت پالشیاء- 


۲ مسلمان عورت گھر اور خاندان میں 


اَمَل الْمُومِيیْن لِيْمَاتا اَخسَنهُمْ ََ والوں می سب سے کال ایا ال 
گر رر ہے عفد نے ہد کا سے جس کے اخلاقی سب سے اھ 
وو ہچ ا ھ2 ہوں اورغم ۳ لوک وم ر جابی رون 
کےےمق یش پر ہیں۔ 
ایک روایت مُُل ہوگی چوں کے ساتق لفف دعب تکو ایک ایا وعف آرار دیا ا 
پیا جس سے اھا نکی کیل ہہوثی ہے۔ چناں چر رت عائٹ سول الیل 
ۓےردای ت ر3 ہیں: 
ان بن اَکمَل الْمُومِیین إِيْماا ببیان دلیں میں سب سے کال ایمان ال 
اَخْسَْلمْ خُلقَا زَالكَتؤمْ رافلدڈ شف کا سے جس کے اخلاقی سب سے اججھے 
: نہوں اود جا تن ہوگا بوں کے ساتھ زیادہ لطف 
بحبت سے بی یآ ہے۔ 
حضرت عائٹڑ یک ایک اوررواىیت 30: نے فرمایا: 
ڑم خَیْ ڑم ہل ات تم م رجنخ وہ ہے جا پگموالیں: 
کر ور کے ہت ہو اور میں ھی ا ۓ کم والوا 
ا ک.. بھی اپ ےگ موالوں 
۳- اسلام کے نزدیک زون کے تعلقا تک میاریشگل بد ےکہ دہ 
شش کل اور تازوات رے پگ ہوں۔ بی شوہ رکومرور ومن رک بیکش 
مرے جائز کیاموں ٹیس ا ںکی اطاعح تکرے اود ا سک ععزت و ناممؤں اور مال و 
دادکی تفال تکرے۔ دوسریی رف شوہراس طر کیا کیک اددر صا بیو یکو ہت رین 
2 حیات کے اور ائں کے ساتحع مر سے نٹ رسلو کمرے۔ 


رگا تاب الرضاعء باب ما جاء ف مق ارآ ۃ عی زوبھا- 

تنک کتاب الائیمانء جاب ماجاء نی اننگمال الاماع۔ 

٠‏ تر گا کاب النابء پپبنخل اژواج ال ورداہ این ماجئشن ایکع پا کاب التحاح 
بصن معاشرچ القماء_ 


بکائی! 
ازم 


عورت اور اسلام ن 


حضرت الا ریا بیا نکراۓ ہیں سیل اش گل سےسوا لک یا گیا: کیک او 
صا ؛د ٹک کیا صفات یں؟ آپ نے فرمایا: 
الب سز ِا نر وَ مطي کا جب شبردے دیق کردے جبکرل 
و مم و ور یں مان نے اور ا نام ١‏ 
و سرت 
نقیّا وَمَالِه- خلاف ورزییء ھے دہ زلپن دکرتا ےہ نکرے۔ 
ححخرت الد امام کی ردایٹ ہ ےک رسول الچ نے فرمایا: 
مسا اسَعتفَاءً الْمُؤْمِنْ بَعْدَ تقُوی الد کے نکی کے بد ایک مین جن چڑوں 
الله دب 5 مِنْ زَزْجَة صَالِعَو إِنْ سے فائدہ اما ہے الن ٹل صا یڑپ سے کہ ر 
ہے ہہ ھ کدے و کوئی نی ہے۔ ای بیو کہ اس عم دےت 
امْرَما اطاعحہ وَإی نظرإِلَھَا سمرے سا مرن ارت 
ان افسمَ خَلَیَْا اوک َ ِن اب پا جم دےکر ھت اے پر لکرےاوداں 
عَنَْا نَصَحَتة فِی تَفْسِهَا وَمَاله“ کی غیرموجودی میں انےنشس اود اس کے مال 
میس تجرخوا یکا ریانتارکڑے۔ 
حضرت عبد یلدب نعمرد بن عاض کے ہی ںکہ رسول الڈ جچ نے ارشادف مایا: 
اڈنا مصاع وَخَیْوْ مََاعجهُسا مہ دہاز ند یگز ار ےکا سامان ے۔ ا ل کا 
الْمَرْأةٌ الصَالِع ے٠‏ یبن سا مان صا عورت ہے۔ 
حضی تع نے ہرل ال کلک سےسوا لکیا: اشقا لی نے سونے اور چان 
کے ش کرنے سے ف مع فا دیا سے پچ رپ مک نس مکا ای اپنے اکسا یٹل؟ آپ۔ 
مایا ۔ 


0 من اص مند اپیٰ عربیتء حریٹ فہم “لے مے۔ سال ہکتاب النکاحء باب اگ الام تر 
گی ابع ماج کاب الاب ء پاپ اأأل القام 
مم ءکناب الرضاراہ جاب الوصی پالفساء۔ ابن ماج ءکناب النکابء باب ال القماء- 


71 مسلمان عورت گھر اور خاندان میں 


2 7 1 و رر 
ےر سے رر ود صیورو سکنے واکی زبانع اود مع بہوگی جو 1خت 
لسَانا ڈاکرا و زج ہمونة شف ےپ اموں میں ا سکی بددکرے اہنۓ ہیں 
َحْدَکُمْ عَلی مر الْأِرَا۔ کنا اچ (می سب سے بڑ دوات ے)۔ 
اں سے برآسالی تسورکیا اسکنا ےک اسلام میاں بیوئی کے درمیا نک س تم 
کےتعلقات دنا چاہتا ہے۔ ال طرح کے تعلقات پا جانیں نے دفول ایک دصرے 
ہے معاونع اور بی رام یں 2ت ان کی 2 ین یگوار اور شا ی 72 ار رطق و 
فیارات کے وو اپتریرہ مالل٠‏ تم کی وت اگ نگ او برباد +وجالیٰ ہے 
بج یکھڑے نہہوں کے۔ 
ڑگی سےعحبت اور ال کے تا ضے 
دورچابلٰہت ٹیس اڑرے بہت با سررا بے جاتے ے اوران کے وچجوو پت کیا 
بات نھاء ایں لی کہ ان سے قبیل کی وت مل اضافہ ہوتا اور مواشئی گنگ و رو ڈُل وم 
حاون اور بروگار ہوۓ تھے لی نلڑکیاں الی ۶ب ے لیے ایک او تیں۔ ا کو وہ 
وجب مار یک اوران کے ؤکرہی ے اکا رض سے مجحک چاتا تھا ٹرآن یر 
ےلڑکیوں کے بارے میس ان کے جذ با تکی توم شی ان الفاظ می لکیا ے: 
و اذا بُقَْر اَحَلھُم بالانٹی ظَلَ جب ان می س ےم کولڑکی کا خ خی 
مُسرگڈا وم - دی جا نی سے و اس کا چجرہ سیاہ پٹ جاتا سے اور 


وَجُهَه مَسُو وکا ہے : 
ےر ہی وی ا وع سے ےتاج ں شو بد وج سے 
ُعواریٰ مِن القوٰم مِنْ سوء پش لوگوں سے چچتا برا سے (ادر اس سوچ میں 


یح آ یُمیگُة لی ہُو ام پڑ جات ےک)7 یازات بواشتکرے بدے 
یَلسُۂ فی النَْاب* (افل:۵۹,۵۸) اسے بائی رکے یانی کے یئ ؤ نکررے۔ 

انکردہ جذبا ت کا ایک نتییہ ریگھی تق اکیتتض قرائ للڑکیو ںکوزندہ وی نکردے 
ےق رآن یر نے عضل اولادً کات ہمت یا اے ای کین جم فرار یا اور بیشہ 
تی تاب شی ر(سورۃ التقبت)۔ ایی ماج کاب الیکا عَء باب اض الظماء 


عورت اور اسلام ٦‏ 


کے لیے اس ےت مکردیا۔ اج ن ےکہ اک ہقیامت کے روز ال شققاوت اور سک د یکا نم 
کو جواب دینا ہوگا۔فرمیا: 

۲ ھا الْمَرْ٤َكَةُ‏ مُیْلَّْهہ بای اور ال وق تک بادکرد ج بکہ ال لڑکی سے 
بج ھا جاۓ گا جے زندہ ڈ نکیا گیا اک رگ 
جم می اسے ماراگیا- 

اسلام ے لڑکیوں کے بارے میں چاہلیت کے جذبات کے پالگل 7 
جذبات پڑاٌے۔ 

ا- ای نے کہگی بات بک کہ مہ الل تھا کا شی ےکہ دوس یکواولادے 
فوازتا ہے اور یکو ان سے مر مکردتا ےس یکوصرف لڑکے عطاکرتا ہے او رس ی٣‏ 
صرف لکیال ہگ یکولڑے اورلاکیاں ریلوں ی رتا ے۔ ان ٹن سےکوگ ی بھی صورت 
تل باعثِ نار ے اور نہ ذات وروا یکا ہبب۔ بر سب ہجو خدا گا نررت کے ہم ظاء 
ہیں اوران کے چیہ خدا کا بے پاباںںعلم اورحکم تکا مکرنی ہےہ جو لوگ اےعزت 
ذا تکا معیا رھت ہیں دہ ا ںکی حکمت پر فگیر کزتے ہیں ۔فرمایا: 

للهِ ملک :السموت والازھرں الد کے لے ہے سان اور زی نکی 

بلق ما بنا' یی رِمٰ زماز رق بعامت۔ دہ ھ جانا ے بد لا ےہ 

ہصےو رر یہر شور ےر 2ے چاتاےلگیال دیتاے اور ے چاتا 

رت من 7 7 7 1 ا ا تا ہے۔ یا اس لڑوں اور 

يُزوجُهُم ڈُکوَانا و انا" و یکل _لڑکہوں کے جڑے دا ہے اور سے پاتا 

من يسا کیم“ ال لیم قيف ہہ ہے بانھ ادا ے۔ بے کک ددملم والا 
(خوریٰ:۲۹ء )۵۰‏ ااورثزدرت دالا٘ے۔ 

..- لڑیو ںی پو شک تخب دیگئی۔ اس کاراب او رتصولي ست 
کا بکہت بڑا ذزلیہقرار دی گیا۔ عطرت عائکت کی روابیت ےک رسول اللہ اگ - 
مایا 


ذنب قلثہ (التکویر:۹:۸) 


ھب مسلمان عورت گھر اور۔خاندان میں 
مَنْ يُلیْ من ھذہ الَاتِ خََٗ ال تالی جس شف کون لڑکیوں کے ویر 
7 بب لہ 97 یھی گزز مان مس ڈانے اور دہ ان کے 
خسن اون کن لہ متدا من تہاچ سای ںکرےتز وس کے لے جنم 
انار سے تا کا ریچ ہوںگا۔ 
اعادیث ٹل دو ن‌لڑییوں بلل ایک لڑ یی پش ری جن کی خی ل ری 
بی گئی ہے۔۔اسں سے ا ںی کے اج ونوا بکا انداز ٥کیا‏ اسکنا ےه نیس تین سےبھی 
ناد گگوں 11 اللہ داشت ری پپڑے منرت عق رین عامای روایت ے کہ ول الچ 
نے فرماا: 
مَنْ کان لَە لَلث بَتاتٍ فَصَبرَ ج سکیس کے تین لکیاں ہولء وہ ان کے 
ےکر ھک ضر درو ہے رک نے 0 7 ملس کی پر بنانیوں برصب رکرے اود ابٹی محن تکی 
کی ری سی و ےک پر شا رص رکرے او ایا 
سی کر ای می سے ا نکوھلائےء پلائے اود پہنائے تو وہ 
ون جقہ نل جانا جن الضایگ .سج ک ےج مکی ڈگ سے تباب بن جا ںگی۔ 
رت عبد لیبن عیائ نکی روایت ےک رسول الہپ نے فرنیا: 
جوس دد چو ں کی ان کے جوا یکو کے 
7 2 ۰ بک پرو کر ےگا قیامت کے روز بل اور 
جَاءَ یُوُم الْقَيٰمَة انا وَهُوَ هٰکذا وواسں ططر (مل کر) 1 میں گے-۔ 
ہہک رآپ نے دداگکشت ہائے مبار ککو ملاک روکھایا ٣‏ 
رت الد ہرین ہیا نکر تے ہی ںکہ رسول ال چپ نے فرمایا: 
من 20 1 ات بَتّات َصَبرَ خ سی کے توناڑکیاں ہو اود ود ان کے 
۷ ار سک سلہکینکفوں اورمواٹی پرلنانیوں پھبرارے 
ععلی لاوائھن رَ ضرائھن ادذخلۂ انع کے سماتھھ ا نکی جم دردگ کی وج رے 


ال جَارِیتِي عَّی قب 


بخارگ ءکتاب الادپ: پاب رمت الولر وتقییلہ مس٣‏ تاب الم وااصلعء پب نل 
احمان ا ی الجنات۔ 
ر من ات حدبیت عقبہ بل عاعر حد یگ م۰ ۱۹۹۵۔ ازلن ماج کاب الادب؛ء ہاب برٗااوالد 
الا حا ائی البنانت- 
لم کاب البردالصلء باب ماجیاء فی التفق: خی الا ت- 


عورت اور اسلام ۸ 


ال الْجَنَه برَحْمَیہ ایاھن قَالَ: ال تال اس جنت می وال فرما ۓےگا۔فراتے 
۹وت ہیں ہس بی ای نف نے و چا اے اش" کے 
فقال رُجل و ابنتان یا رسول اللهہ؟ ضول گنی کے وولڑکیاں ہیں (اور وہ الع 
قال و ان ابنتان قَالَ رَْْل یا کےسلسملہمی نیف برداش تکر ےآ؟) 7 آپ 
0 87 )/ نے فرمایاہ دولڑکیاں ہوں ت تھی (ار تعالیٰ 
رضول اللے و وا جڈ8؟ شال جن مل فا ےگج)۔ ایک ننس نےکھااکرایک 
وَاحدَة ہو آپ نے ف مایا ایک ہو بھی۔ 
۳ اعادیت یل ال با کی بھی ترخیب د کی ےک ہجو ںکا پر و 
کے ساتھ ا نکو اکچ یلیم وت مت دک جا ٤ء‏ ال نع کا مناسب رش دگیا جاۓ اوراں 2 
بت بھی ان کے ساق رصن سوک جاری رکھا جائے۔ حظرت اوسعید خدد کی روا 
ہے رسول اه نے فرمایا: 
مَنْ عَال لات بات 0+ 09 
و0 ا ا تعلیم و قمیت دیء ا ن کی شاد گا اود ان 
دعب سو یت سح کے۔اتھ (بعد می بھی )سن سلو کیا ق یس 
کے لیے جنت ہے۔ 
کے عامطورپلڑیں ے زیادہ جب تک جال ہے۔ فذاء با علاتً ون ٭ 
وزیت کے ار ڈُل ان کے سا تزنیجی سلویک بنا ے۔ 727 اور نا اأصا! 
ہے۔عدیث میس ان ےت کیاکی ہے۔ حفریت عبل الکن عیا لا روابی تکمرتے 
کہ رسول ال کل نے فرمایا: 
مَنْْ انث لە انی َلَمْ يَمَا جن ئن کےلڑکی ہو وہ تہ اے ژئدہ درور 
کرے اور شہ اس کے ساضھ عھارت ؟ می زسلوک 
وَلَم ھٹا وَلَمم ور لد عَلَيْھَا کرے اود شہ ال پر اپنے لڑس ےکوتر یی دے پے 


َقبی الذُگُوْرَ اَذْخَلَہ الله الْجَنَه ٣‏ اللہ تعالی اسے جنت می ول فرما ےگا 
حاکمء اسر رک کتاپ ال روالصلۃء حدی ٹبٔ م۷٣۳‏ ے_ ۱۹۵/۲ 
02 الودائودءکاب الادبہ باب نف من عال جاگا۔ 
٣‏ اوراؤد کاپ الادپء اب ففل می عال بتائی۔ الام ء اعد رک :سکاب البر والصل 


وری ٹب م۳۲۸ء- 


5 مسلمان عورت گھر اور خاندان میں 


الع اعادیث ٹل لڑوں 7 ریشم وتبیت شادیی ویاہ اوران کے ساتھ 
سماوی سلوک پر چم سے ججات پانے اود جمنت کے سل ہکی خے خی دگئی ہے۔ جس 
ف ویر او آخرت پر یق نیس سے اور جو اس دنیا ہی کوسب گے ہوئے سے وہ 
زا کی ابھی تشم ںی ںک کت لکن ایک مؤ نک نظردی آ خر تک کامیالی تا 
ےہ ال کے لیے اس بثارت شس دو سب بن ےہ جو دہ چاہتا ے۔ ٰ 

ائٛ ترغیب کے ساتجبچیوں کے بارے میس ب یتو ربھی ذہ نشی کیا گیا 
کہ وہ جیا کہ دن اھت سے نے حیقیت او رکم قب تئیں إںء بللہ وہ فزر ت کا 
گراں ما علیہ ہیں۔ ان کے انددہ جو الس اورمحبت ہولی سے وولڑکیں می سکیس ہوئی_۔ 
عخرت عقبہ بن عام مکی ردایت ‏ ےکہرسول ال شک نے فربایا: 

لا تَکْرمُوا اليُتاتِ فان لڑکیویں ے نفرت مم کرو وو قو تم خوار 

الُمْوْْسَاث الْعالِياث ۔ اود پڑی شی ہیں۔ 

لکی کے اون سلو کک ہی چیم ہے ج کان ری ںہ لق الا 
ای نکی رو سے اولاداگر صاحب حیقی تال ہے اور ال کے پا لکن جائز ری 
شس ہے باپ پہ ال کا فققہ داجب ہو جانا ہے۔ اس اصول کے تت لک ںکی طرح 
کیو ںکا ننجی ال پواجپ ہے۔لڑ یکا را ںیا شاو تک پاپ پراور پا پک 
یم موجودگی یش یش ال کے قریب تین رشتہ دار پر ضروریی ہے شادی 2 برخوہراں 
ے ان وٹ کا زم دار ہوتا ہے شوپ رکا اتقال بوجاۓ ا دہ اے طلاتی دے دے اور 
درت معاتی از ے خوفیل لہ وو ںی اولار پر اوراولاد نہ ہون ےکی صورت میس 
پ یا دسر ےترم رش داروں پہاںکا ڈے دارگ عاکر ہولیٰ ے۔ یا لکا تانرل 
ن گیا ہے اور حدیث یل ا لک ہوک فضیل بھی با نک گی ہے۔ححضرت سراقہ ین 


مند ام : حدریث عقبہ ملع عاص حریٹ ۱۹۹۲۳۲ قال الناوی اناد ئ- اسر ٹر 
اٹ صف:۹۸/۲ء 


عورت اور اسلام 


حا لکن ان کرت ہیں ۶٣+7‏ نے الع سے و تھا: 
ال لک لی اعظم ال دق کیا میں ینہ اہ ںکہسب ے بڑا 
صرآکھاے؟ 
ےت سر کے 2 کو نے وی 
انہوں نے عو شکیا: حور ( مل ضرود بای ۔آپ نے ارشادفرایا: 
اٹک مَرْذُوْكَةً الیک لیس انا اس پگ بے اما نکرنا ج(بیوہ ہونے یا 


لها کاب میک ماق س جانے گا وھ ے) ری طرف 
لوٹا د یگئی ہو اور تیرے سو اکوئی دوسرا ال کا 
گمانے والا تہ ہو۔ 


صحا ہکرام اتی بیوہ اور مطلق کیو ںک اکس حدکک خیال رکھتے تھے اں' 

افازہ ایل کیا جاسکنا ےک حخرت زہیڑنے اینے ند مکانات وقف سیے ھے۔ ا 
وق کی فیلات یں مہ با تھی داش لی: . 

۱ مرو ِ بنَاقه ا تَسْکنَ نکی جولکی (علاق یا بن کی وج ے) 

ة كك ای لگ رآ جال ۓےگیا دہ ان مل رہ ےگی۔ ٹہ دہ 

عَْرَ مُصِر ر مُضر پھَا فان نقتصمان بیٹا ۓگ اور نہأ سے فقتضان کیا جالۓ 


اسْتفَْث بزَؤُج قَلیْس لھا عق کہ رگ رشوہ رک وجہ سے وہ ایی سے کے از 
ہوجائۓ فو ا ںکا لان می لکوئی نی ہوگا۔ 


ھن 71 غرمت او رکقالت 

کور تک یک حقیت مو نکی ے۔ بھائی اور کن یکا رشرخرل رشع ے۔ا 
کے درمیان فطرکی طور برمحبت و الفت کے جذبات پائے جاتے ہیں اود ا ن کات 
ا ی تھا جاتا ہے نان خاندائی زندگی میس ا کی اہعیت ری طرح نکی مسوں" 
جالی۔اسلام نے اں رش رک ومفقبوماکیا ے۔لففض اوقحات ما یکو بھائی کی رد اور ناو 
کی ضرورت شی لآ لی ے۔ ال کا پیداکرنا بڈے ابر نوا کا بات اور جشت کا 


مند اہ حددیت مرا بن ما گ٠‏ ١۱۳۷ك٥۔‏ الع ماج ہکناپ الادبء پاپ ب٭ٗالوالد والا صا 
1 البنات۔ عام)ء مد رک کاب البروالصلت _ حر متخ م۵ ۳۲ے 
بخاری ءکتاب الوصایاء پاب اذا لف ارضا او یڑا داشتزط ارّ۔ 


مسلمان عورت گھر اور خاندان میں 


ما یکا ڈرلورے۔عدیث ٹُل جٹ کی طرح بج نکی پر وش نم وثزیت ایرشادگی کی 
یب دا ہے۔ 
حضرت اإو خر ہیل ار کل سے روابی تکھرۓ ہیں: 
لا یکن دم مالقث باب سم میں سے جس کے من لڑکیاں یا جن 
و قَلاَث اَخَوَاتٍ فَیْحْسِنْ لَيْهَِ جس ہوں اور وہ ان کے ساتھ اما سلویک 
ال دَخَل الج ۱ کرے قو جزن میں ضرور واقل ہوگا_ 
حضرت اوسيیر رتا یی ا دضری روایت مل وولڑگیوں اور رو >ہروں 
خدمت اونن سلوک پر جن تکی خوش خبری دی گی ہے۔ کے ہی ںک رسول ال پل 
ے ارشادفرمایا: 
من انث گآ نلآث جب .آؤ ‏ ہت رک کےےجن لکیاں یا نیش ہوں یادد 
ات َخَوَات و سان آؤْ لڑکیاں اور دوہی بی ہہوں اور دہ الع کے ساتھ 
ٌََ فََحْسَنَ صن و اچھی رفاقت اتقیارکرے اوران کے باارے شمل 
فی ال ھن قۂ الْعَنأ کن ال سےڈرے یں کے لیے جن ے۔ 
ایک روایت مُل بڑُوں.:اور نو ںک یک فالت اورگلہ داشت 7 نت ٹیل 
مل الم گی رفاش نکی خی ل ری ذی کے ارشاد ے: 
قنن مال نین آو کلت بنا مج نے دو یا ین لیو کی یا دبا خین 
کے ےط بچچو فک سو کا یہاں م کہ دہ انتا لکر 
کی تی جانمیں ما ا نکو چو کر دو خود اشقا لک جائۓ نز 


يَمَعن او یمَوْٹ عَنھن کن انا ؤ یس اوز وہ نت ٹیل ا رع (تریپ) ہیں 


و َاتینِ وَ شارَ بِِضبَعي لمات کے کک رآپ نے انی ددانگیوں :شبارت 
وَالوْسْطیّٰػ کی لی اوردسیا نکی اگ سے اشمارہ فرمایا- 
جفرت عمبد الہ بن ع با نف اتے ہی سک ربول اش کچھ نے ارشمادفرمایا: 
ترنی کاب الب رولصلۃ سرت 
حالہسال۔ 
صند :من الس بن مالک ء حدی ٹن ر۴۰۸۹٢۱-۔‏ 


عورت اور اسلام ۲ 


مَنْ عَال قَلاّٹ بََاتٍ از مِنْلهُن وص تین لڑکیوں کی یا ان جیصی تین 


الَّخَوَاتِ فَأؤَبقْنٌ رَ رَحمَلٴ وک ہویش کرے*انکوادب ادرسیقہ 
مر ٍ فاد‌بَھن و رَحمَھن 
سکھائےء الع کے ساتھ شخقت و حبت کا 


تی یغییہن الله اجب الله لپ سو ںکرے, یہاں مب کک الال ا نکو 


الْجَتَةٌ بے نا زکردے و اللد تما ی اس کے لے 
چے واج بپبکردۓگا_ 


بخاب ک نکر ای مھ نے عن کیا اے اللر کے رسول لاگ رکوئی 
لڑکیوں با ہو ںکی ای رح فدص تکرے نکیا اس ےبھی بی ٹذاب لگا؟ آپ ۔ 
فرمایا: پاں! دو بھی می فذاب لگا رادکی کا بیان س ےک ہاگ وہ ایک کے پارے ت1 
سوا لکرتا و جیپ می جواب دیے يہ 

یہاعادمث بای ہی سک ایک لڑی با ایک مہ نکیا پش انیم ومیٹ ے 
بھی کی جن ت کا تن چاتا ہے۔ اکر وہ ایک سے زیادہ کا اوھ اٹھائۓ و امیر - 
آنں کے درچات اور ہأثر ہوں 2 

ہد کی ود بر بن سے ووچتلق خاط نیس جوتاہ جھ بئی سے ہوتا ے۔ ا٢‏ 
لیے ہ سک یگل بھی اس ےکم بہوثی ہے۔ ان اعادبیت میس بای گیا ےکہ می کے ساتق ہ٣‏ 
سلوں اود ا کی ضروریا تک یکن لکاء ج اج ونڑاب سے مین ےن لویل اور |7 
کی خبصت کا بھی دی اجر وڈ اب ہے۔ اس لے بن کے سلسلے میس ؟ دی کے وت 
جذبات ہہونے چانل جھ بٹئی کےسلسلہ میں ہوتے ہیں۔ اس تعلیم کے جو اثرات روڈ 
ہدئے ا لکا اندازد لیک واقع سے ہوسکتا ے: 

صطرت عبد ایر بن ترام انصا رک کا داقعہ ‏ ےکہ اقھوں نے جن اعد می 
شک ت کا اراد ہکیا نو اپنے یٹ حخرت جامس ےکہا: بے ا خیال بد ہا ےک ال جنگ 
یس جولوک سب سے پلیلہ انی جا نکی بازگیا لگانحیں گے می بھی ان میس ہو ںگیا۔ مج 
ا ملوۃ الصائے >کتاب الاداب+ باب پ الب والصل بوال شر العد- 


۲ 


مسلمان عورت گھر اور خاندان میں 


ٹرش ے۔ میرے بعد اسے اداکردد اور یل یی تکرتا ہو ںک تم انی ہیں کے 


اھ ہر سوک کروی 


اں وت حضرت جار جوان جےء نان انہویں نے ایک بیو ہکو اپنے کا کے 
پپہخنخبک رای پل بت انا گر رعاایت سے دریاف تکیا: 


هلًا جَارِيَة تَِيِْهَا وَناَِبُک 
وَ تَصَاحکُهَ وَتضاحکک 


رت جاہڑنے جواب دیا: 

ا رَسُوْلَ الله ان ابی فی يَومَ 
ٹل و ٹرک تَسُع بََاتٍ كُن لی 
شع اَخَوَاتٍ فَكرِمث أآئ اَجْمَعٌ 
ليْهِنَ جَارَِة َرقَاءَ مِئْلَهُنَ وَلکِنُ 
ِمرَاۃً تَمَفِمٌهَنَ و تَقُوْمْ عَلَيهِنَ 


م نےکسی جھان لڑکی سےکیو نس شادق 
217 اں کے سا بھی لکمرتے اور وہ 
تہارے ساتھ کی لکر یت اں سےاٹی ماق 
کرت اود و تہارے ساتنی جا قکرگی۔ 


ا رسول الٹدا میرے والد أعد کے محرے 
میس شہی دکردیے گے اور اپنے کیہ نو لڑکیاں 
مو جۓ ,جو میربی و ئنییس ہوگیں۔ ان کا 
گمہ داشت کے یی نظ ریس نے یہ بین یں 
کیا کہ اع کے ساتھ اع بی تی ناحجر ہکار 
لڑک یکوئ حکرووں ساس لیے ایک الک عوارت 
کا اتا بکیا جا نکاکھی جوئی اور دکہ بھال 


قَال اَصبْتَ کیک ہے۔آ پا نے فرمااہ :ھی ککیاتم نے۔ 
یداگل اسلائ تیم کاکرشمہ تھا ک ایک نو جوالن ننس کے سیدنرمل چذیال تکا 
طدرملانم ہواور کا نوز شاب اپینے مج رجوڑ ےکا طااپ ہو وہ بہنی ںکی غاطر 
پنے جذبا تک آ وگ کا باعل ماش لکنا ہے جے جھانی کا سرمستیاں پا سای قول 
مت و 
بن کے ساتھھ الفت دوعحب ت کا زبالن سے انار آسان ے٠‏ - جب کلک 
ائنع اخیرالجزرگء امر القا: ۳| ۳٣۷٣۴‏ 


ارک کاب المغازیء ! اك مَمَّتُ طَالفتَانء کاپ اتفقات مس مکاب اا/ضارغء باب 
قیاب ثکاں الج - 


عورت اور اسلام ۲ 


رضاے الیکا جزبہ او آخرت کے اج وقواب پر یقن نہ ہو اس طرح کی ترہا 
]سا نہیں ےت 

اسلام نے وفت ضمرورت مجن کی کفاات اوزنلیم وژیت 1 ریب یئک 
دبیہ بلہ بعائی اور جن کے نانوی حقو بھی رے ہیں۔ وولیتت حالات یں وراظ 
بیس ایک دوسرے کےکی دار ہدوت ؤں اور ان برا نک یکفالا بھی لام ال ے۔ 
وہ اندام ہے جس کا عحور تک مار مس ہیں شو نہیں نین 
۱ 8و 


ملا حور نکی ۶ 27 
(ایمان اورعبادت کےنقوض جاہاں ) 


۱ موچودہ دور می کوبت بیترت ک مٹاچچاے> 6- 1 ں تی کے لے ااے 
ںا بت او اکر پڑی ے۔ اں ن ےگ ماچاڑا اور پازارو لکو رت دا ۔گم اور 
ران ےگونررات پر ا ںکی ترقی کاع لی رہواں اس کے پائٹل یکس مسلمان خواقین 
خاگی ذمردار یو ںکو سا لے اود ا ن کات ادارتے ہہوے الد تعالی س ےکیا ہوا اینا 
مد پکالنا پوداکیا اور ال سے اپنا رومان یتعلقی کم رکھاں۔ اں کے سات لی ء سای اور 
کا پر اپنے گہرے نقول بچھوڑے۔ یہاں یی دن بہ ا نکی احتنقامت اور 
دات سے الن کے شف ف ای قد کر کیا جاراے۔ 


الام بیس سجقت 

اسلائ تار عورڑوں اور دولں ےم کر بناگی ہے۔ گر ال ےگورلو ں کا 
کال دیا جاۓ فو وہ امو اور نس دہ جا ۓےگی۔ رعول اللہ حلگھ نے اسلا مکی 
ت دکی پٹ مردوں کے ساتح ھگودتوں نے بھی کے پڑ ھکر اسے جو لکیا۔ اس کے سے 
رہار چوڑا ۶ی:ول اور رش دارولں ے چرا 7 میں اود پر7 طرح کی یں برواشت 
ں۔ جن ہزمائنٹوں کے ہس فان یس پہاڑکی رح جیا رہیںہ جان و ما لگا 


عورت اور اسلام ٦‏ 


قرال دی اور ولب گی دم ا گے اورتوبہ و استتغفا رکرۓ ہو ۓ ؟ گے نول 
اشقا لی نے انکی دای ں سل, مردوں کے ساتج حور ںکوکھی جن کی خیش ری د 
اوروولں کواپنے الطاف و انعاما کا اشن تبریا۔ ارشادے: 
مات لم راو لن لا ر._.۔ 
رق وا فرائ یکم میں ےکی بھی عم لمرنے 
ا عا : : 1 
اي عََلَ قاٍِ َّكُمْ من گر وانے کےم لکوہ چاسے وہ مر ہو یا 
اؤ انئی: بَعُضکم من ض٤‏ عورتء ضائ فی ںکروں گا۔ تم ت.- 
فَلَيیْنَ مَاجَرُا وَ أُعْرِجُوْاِںْ اک کت جھوں نے 
ا ویر اق رو ری ہے ارتا ؛ جھ ۓ گھریوں ے قال 
دِیا اوذوا سَبیل 2 
۰ رم و او موا فی 2 ٠‏ دیے نے ء جو میرے رات میں ستائے 
الو و وَ فُْلُوا رن عنھم لئے اورلڑے اور بارے گے تو ٹیں ان 
سَيِلْهم َللذْعِلتُم مت تجْرِیٔ ک ےکنا ہو یکو معا گردو لگا اور ا کا 
من تَخیهَا اھ وَابا مَنْ عِنِْ ایے پانوں میں واش لگرو گا ونتن کے 
لّوا وَللّهحِنكۂ خسن ال ین نہر بہ دا ہو ںگا۔ بے الل دک 
و عِنْكَۂحْسْنْ اہو طف رےے ان کا ا تا ال گی 


)ڑل عرین:۹۵٥)‏ کے اکس پچ رین بدلہ ہے۔ 
رسول الین سے اعلان رسماات کے فور بعرحضرت خدپیہ نشی ال۶ 
اعلام لےہمیں۔ اس طرح سب سے پلی ہپ بایان لان ےکا شرف ایک ما 
عاصل ہوا۔علامہائکن اش رکچ ہیں: 
ںہ 1--- ۶ رہ علق خرا سب سے پل 
۱ ہو ما ۹ھ 2" .2 اناپ 
لسلِیْن لیم مسا رجُل ولا نو ں کا ارہاع ے۔ اس معالم یش 


نے او نکی رد نے اور نکی عورت ےّ 
ان سرت یت 


ابئن الاشیرالجزریء اسد القاید فی سحرقد امای: ے/۸۰- 


: مسلمان عورت کی تاریخ 


حطر عمزاور تحضر ت مز کے اسلا م قھول اكکرنے گی پے اسلام لانۓ وااول 
دامام زی نے السابقون الاوََونَ“ (سب سے پلیہ الام لانے والئے) یس شا کیا 
>۔ بماگکیاوڈ“ افراد تھے ان ہی جاہمتنغیں میں ذی لکی خواقی نکبھی ششائل ہیں۔ 

رت خی رت اساء بقت ال یڑ امام یقت لا امام بد ت می 
لہ پت آت ا اہ ہنت میا رملہ ہشت ال کوفّء ابینہ بنت غاف 


:3 پر ا خنظاہمت 

کہ میسہ جوالوک رسول ال چنا پہایماان لاتے اور 2 حی رکا اعلا نکرتے ا نکو 
اتآ زمالیٹوں سگرن پڑت تھا۔ خلاموں اورلوڈ یو کا چو ںک وگ محافظ اور 
مان عا ٹنیس بہوتا تھاء ال لیے ا نکو زیآدہ ستایا اود ریا نکیا جانا تھا۔ ا نکو 
ں طر کی اوعتی اورنلییں پٹپائی جانی تحیںہ اس کے سور ہی سے روح 
پ مال ہے۔ یکن اس کے باوجھددنیانے ا ن کا انام کا رت اگی زمظر 
ھا۔ ان یل سے جس ن بھی الام قو کیا انس کے پا شبات ٹس ذدہ برابر 
ل دآئی۔ 

کہ سے ابنرائی دور یں جن پاسعادت اور باہمت لقوں ے‫ ایمان تو لکیا تھا 
یس مار بن یا لھا خاندا نبھی تھا۔ مین دو پر کے وفقت ال نمانراانع کے افرا دکو میتی 
الیت پڈال دیا چاتا تھا ںیل ال نے نکزرۓ انی د ےکلہ اص رکے خاندان 
ا ای رکرو جمنت مل طاقات ہوگی۔تمار بن ا والر ہکا نام سعبیرتھاد بالاعذلثہ 
منیر ہی باندیتھیں۔ بوڑی اورضعیف بویگ یتھیں۔ اس بنڑشی جا نکو ہرطر ں کی 
ت دی جانیتیاءل نکوئی بھی اذیت اھیل اپنے دین و ایمان سے نہ کم رگی۔ ایک 
یڈیل نے ای جم ح گی پاداش یس ش حگاہ میس نیزہ مارک نیس شمیدکر دیا۔ ہے 
بی سیر اعلام التلاء: ۱۰ /۹۹-٠۱۰۔‏ 


عورت اور اسلام ۸ 


ہوئی۔حضرت میا کے ہیں: 


ول فُهِیْ : أُسُفْهةَ فی ای والدہ سی”اسلام کی راو 
وو وق ای ا شہادت پانے والوں میں گل 
الاسلام سمیة ام عَمَارِ یں 


زغ ایک ردیی لونڈیتھیں۔اسلام لالے کے ببعدان کو ہی مخت م زانییں و 
جانی ت٠یں۔‏ پالآخرطرت الویئ نے نی خر یک رآ زادکیا یں رس سےصیات ٹر 
- کہ ای دودان یس ال نکی بنا ی 2 ہویم رین طعدر دی گگ ےکہ لاد 
دع زی ٣‏ ری ال دکی بندیی کے لین و ایمان مش۷ 
زرل نہآیا۔ اھوں تن ےکہا:عنتم ھوٹ بولے ہو۔ لات وعزک لع ا قصان پچ 
کت کت اا نکیا یہ بات اللدکو ال قزر پندآئ یرش بعال موی 

نی مو ل کی ایک لونڑی جس وقت اسلام قو لکریچگیخیںہ ج بک ٢ا‏ 
حضرت عڑحعاق ہجو اسلا مننیش ہوئۓ تھے رت عھڑاسے اسلام سے چجیرنے ۔ 
لیخت مزا دی تھے جب تھک جا قذ کچ ےک مین بچھ کہ اب جا تل لگا 
1را مکرلوں فو پگ رتہاری عرم تکروں۔حخقرت خی یی بھی اسے اسلا مکی اہ ۔ 

ہنا گی دوصرف یکبقا: اتا تھارے ساتقھجھی بی مین رکمرے۔ اس عذاب ۔ 
اسے اس وقت مات لی ج بکرحطرت الدکڑ نے اس فرب دک رآ زا کیا" 
علآم اہ نگپڑ الم کے ہیں: حفقرت پلال کی دالد ہکا نام حام تھا ۔ تو +١‏ 


لی اہنع سحدہ الطیقات الک گی : ۶۸۰۔۲۷۵ 

گے این ہشام × سیر ۃ لنوی: ا /۵۵۔ این اخ اد الفاب: 7 ۔ ان رو الاصایہ ئ۶ 
اسیا ر: ۰/۸ -۱۵٥۳۱۵‏ 

ین ہشامء اسر النویہ: -٦۵۳/ ١‏ 


مسلمان عورت کی تاریخ 


وجہ سے (حفریت لال کی رع ) ا نکوکھی سخت سزادٹی جانی شی رت الیک نے 
افرادکوخر یلرک رآ زادکیاہ ان یل ا نکا شمار ہوتا سے 

مکح نوجھم بن مر یا ہن زہر ہکی بن یچجییں۔ اسلام لان ےکیا وجہ سے ان 
خ ت تکلیف پٹپائی جار یھی ۔حخرت ابویکڑ نے یں خریدک رز دای 

حواء بت زی جن مک ججرت سے ببت پیل برینہ یں مسلران یگ یں 
ان کے شوپرقیس من ملیم نے اسلام قبو لکش سکیا تھا۔ دہ آئیل برک رح پریتان 
نے مج پیل ربھی دہ خابت قدم رہیں۔ زرسول ایڈ نک کہ بیس ا سکیا اطلااغ ٹی۔ 
از کے میلہ یخس انی مآ ف آپ نے الع سے ملاقا تکا ایر الام یئ 
جن اھوں نے تقو لن سںکیا۔آپ نے فرمایا: یھ مر ہےکہ جب سےتہار 
ئے تہارادین پھوڑا ےم اں کے ساتھ پراسلو کر ہے ہو۔ الد سے ڈرو ال 
ع میس ممہری ہانو ںکا شیا رنھو اور اں ےلمرس شکرو۔ انھوں ےے وعد ہکیا کہ وہ 
وگ کو پریشان نی کیل ہے۔ پھر میک کہ نھوں نے ہیدئی سے آ پک 
تک 77 22 ان رین پش لکرو مم سے کی ںکرو ں گا 

رت اٹم جیب نت الا سفياع اعد ان کے شوہ رعبیر ال"ر بین جن کہ کے 
1 دور بھی مجن اسلام لے ا ے اور ووٹوں نے عہ جب تکی۔ لیکن وہاں جم کر 
بن جن نے تھرزیت انقیا کی پر دیس میس حضرت ام حڈ کے لیے سے ہی 
یکا وت تھارنیان دہ اپنے دکن پخابت ق دم رہیں۔ ای کے اعد سول ال الک 
کاں کا ام مییجاادر دہ کے عقر می ہککیس یھ 
ا عبد البرہ الاستیعاب: 7 ا ا 77ا ےگ ھا۔ آیع گر الاصایۃ: ۸۸/۸- 
ن تشامء السیر ة الو ٥۵۵/۱:‏ این تر الاصابہتحییز ما۔: ۸ / -٣٣۳٣‏ 
بن سعدہ الطیقات الگبریی: ۸/ ۳٣٣۳‏ مسر اع کے اور وہر کے تسپ مکی قزر 


بے۔ اسدالغا۔۔ : /۵ے۷۱ے_ 
لى‌سیں 01-2 ۹/۸ *ے۹۔ ائن ای ریہ اسد الاب نے جس 


عورت اور اسلام 


ڈو 


عبارت 
عبات دی نکی چان ے۔ بے غداے بترہ تلق ک اظہار ہے۔عپاو: 


انام دا ے تلق اکوضصقبو طکرتا ہے۔ عبات می خفلت او رکوتائی إ تل کیم 
س ےکم زور کر گی جائی ہے۔اس پرقابونہ پیا جائۓ نے اللتعالی سے انسا نکاء 
ٹو بھی سا ے۔ (وراول کے مردو ںکی طرح خواقین شی نبھی عپاو تکا ڑا زوتی؟ 


اہا 


چا 


۱ 
ع 
ج 


ت امن اس میس ہت نما شیں۔_ 
م اون نتضرت زیب بنمت ہش کے پارے میں حضرت امس فرای ٤‏ 


ا 


انث إِمَرأةُ صَالِْحَةً صَوَامَة ووہصا ہ بہت زیادہ روڑے رکے دای 


قَوَامَتے اور بہت خب زئرہ دار مان نتھیں_ 
حضرت ماف رای إں 
ےو و و رو وق وی -- 
ما رأیث اِمرَأہ ققط خَیْرا فی مس نےکقویی بمر, راس تگغختاریء 


لن بن وب و آنقی ال و صلی اورصدقہ دخرات میں ان ے 
دق خَدِبغ وَ ول لِلرحَم و بپتکوی عورت یں بی 
َعْظُمَ صَتقَةً 
ایک موتے پر خودرصولی ارم یھ نے ا نکی کی اود خدا تر کی شہارت دٗ 
ں چپ نے حر ت کڑس فرمایا: 
ا یب بلک بش اوات ‏ زیب بت جنشی ضوع وحضوع دال 
۱ 1 اور الد سے ڈر نے وا ی ہإں- 


این سج الطریقات اگبریٰ: ۸/ ۱۰١‏ 
ازلن کب البرء الامتعاب لّٴ اماء الحاب: ٣‏ أے٭ -٥‏ 
جع عبد البرء الاستعاب ا اماء ال حاب: ۴۰۸/۳۔ 


۵ مسلمان عورت کی تاریخ 


با رکا امام 

عبادات میں نمازی اایت سب سے (یادہ ہے ال کے پش را زی او رواپ 
ب۔ ا نکیا رعایت کے ارت ا لکا عق ادا ہوسکنا ہے اود تہ ال سے پیرا فدہ اٹایا 
2 ے۔ اع شراا میں سے آپیک خرط ید ےک اے و پاداگیا جائے۔ ایک 
سارک غالان ك ض نے رسول اید پچ سے ددیافت فر مایا کہ حشاء سے ےی 
یکا خلیہ ہوچاتا ہے (ال لیے نماز کے تچھوٹ جان کا ڈد رجا ہے مب نے 
بابا: ام اس ! نماز جلدی پڑھ ل کرو جب دا تک تارب برطرف چا جائے فو عشواء 
اوت ہو جانا ے۔ ال وقت تم نما پڑھ شی ںکوئ گنا نہ ہوا 

ال ے انرازہ ہوتا ہےکہ دہ ٹمازکاکس قر اوا مکر خمیں ون اں 
فکی نشی میں ال نکی نماز تضا نہ ہوٹے پاۓ- : 

ون جن عہران کے می ںک۔ نماز کے اوقات میں جب گی میں حر 
دددائز سے گیا ا نکو حاللت نماز ھی بیس داي 


از باجماععت میں شرکت 

محوزنوں کے لیے مسجد بی باجاعت نماز پڑھنا رود ینس ہے۔ لن کے 
ےزیادہ پندیرہ تی ہج ےک دہگھروں نمافز اداکرس مین جمانعت کے بڑڈے ٹواکر 
۔ اگ عالات اجاذت دیّل ایی اخلاقی خرالی کا اثرییشہ نہ ہو وو مسر میں نماڑ ادا 
میق ہیں۔ای وجہ سے ش رات نے ایک طرف نو ا نکوکھر نماز بے کی تخیب دی 
دو ری طرف مردوں س ےکہا کہ عو رٹیل چر جانا چایں و 0-1 شکریں۔ 
رت عبد الد جن گر روایب تکرتے ہی سک رسول ال نپا نے فرمایا: 


این اج رجزدرگیء اسد الغابر: ے /۲۸۹۔ائن بر الاصاب,: ۸ /ے۳۵- 
نود یء تیب آ[اساء واللقات: _۳/٣۳٢‏ 


عورت اور اسلام ۱ ۳ 


20 و تب 
لی الم جدِ فلا يَمْنَمهَ مجر جانے ہے اجازت طلب 
٦‏ ور 0 وو دکرے۔ 

بی حدریث ان الفاظط کے ساتق ھی کی نے 
لأ تَمْنکُوا اليْسَاءَ محظوْظهَن مِنَ سممدوں میس عورتوں کا جوحصہ ے 
الْمَسَاجد آں سے میں مت رو 7 
اک اور رواىت ہے الما ہھیں: : 
تَمنکوا سا مم المسَاج اپ عول لکوسحد جانے ح ندکرہ 
وَْزتقَ عَير لن لن ان ک ےگ رہی ان کے ےم ہیں 
میراجازت زیادہ تر عضا اور ٹر ےعلق سے ان لی ےکہ بر حدیث ان الا 
کے سات بھی مردی ےہ 
ِذا اسْق اف سکم یسا حم جب تماد عورش رات می مود 
بای لی الْمَسجدِتَافُْزْموٌء جا ےکی اجازت ماگیں نو ال اجات 
وےۓ رو۔ 
ہں ےمعلوم ہوتا ےکہ ول الد کچل کے دور میں مان طور بر عشا | 
میں عو رن ںکو ججاعت میں شر تکی اجاز ٹگ۔ روایات سے یی پھ چا 2 
کہ فی الواق وہ ان نمازوں مس شریک ہوئی تھھیں۔ ذیل میں اس سل ےکی لع 
روایاات مکی جاری یں۔ 
لے جخادی کاب الاذانء باب استیز ان الرأ زوا سم ءکتاب الصلء باب خروع ال 
ای الہاچر ار- 
بی مسلمم کراب لصو ء باب خروع التساء ائی اللساجدب ٠.‏ 
٣‏ ابوداود کاب ااصلوء باب ماجاء فی خروج النماء ال سد 
گے بخاری تاب الاڈانء پاب خروح الشماء ای ا لساچدہ یا پیل ماش _ سم کاب الو 
پاب تخروج القساء ائی الماچد- 


۵٥‏ مسلمان عورت کی تاریغ 


ا حخرت عا کے ف رای ہیں: 

لغ کان رَسُول اللہ صَلی الله مرو ای ٹج رک نماز بں قزر 
لن وَسَلَم صلی الشُٴےۓ اندعیرے می پڑت ت ےک گو رٹ چادروں 
قْضَث اّنسساۂ ملعسات مم لٹا ہو اپ گھروائیں ہولی یں اور 
بمزذطا مار من فلس اندعی رک ددے پھال نیش جا یتں۔ 

٢۔حضریت‏ ام سکیا نک لی ہیں- 

ا الیْسَاء فی مد سو سل ال ہچ کے عہد ہش عورش 
الله کِا رگد بن انکر فی مار سے سلام سج ات 
7 :- کک وو الله صلی "و" الد رف 
ہار ہو دو تٹروں وش ساتھ جو مرد نماز پڑۓ وہ ای لہ 
اللَةُ عَلِيْهِ نْ صلی مِنَ 1 َ 
و سم وَمَیْ صلی مِنْ جب کک ال چاہتا نے رت (نکہ 


الزْجَال مَاشَاءَ الله كَادا قام .ء ' 
أٍ 0 ٠‏ ٹا ھا" عورتں پل سیر ےئل جاکیں) اور جب 
در ہے وص ص۲ : 
رَسُوْل الله قام الرِجَال* آپ اش تو دوبھی اٹ۔ 
۳-حضرت ااوقادہ انصا رق روای تک ۓ ہی سک رسول اش ناج نے فرمایا: 
نی لا قوْمْ لی الصّلوةِ و نا و سو 
ا یق تک یں کو اور قے لگا ہو ںکیہائس میں ۰ شرات وں۔۔ اۓ ٹن 
اریْڈ انْ اطوٰل فِيْھا فا بجاء 
َ : 7 پ۰ مو 7 می پچ کے رون ےکی آواز تا ہوں فو خماز 
الصبي فاتسوز پی صسلاتی مت رکررج ہیں ہہ بات ٹجینی جک 
کرای ا اشق خی ای مس ا سک ماک برای ش ڈالیں- 
"۔- ایک مریبہ عغا کی نماز میس خی رممو جا خر ہگئی۔ رسول الل رن نماز 
بخارکی>کتاب الاذالنء باب خروح الفاء ال الماچر الیل وافلس ‏ مسلم ماب لاہ 
ب اباب اشکیر پا گ۔ 


. بفارگا کراب الاذائنء باب خروع النماء الی الپساجد بالیمل۔  ٣‏ حالسحائق 


عورت اور اسلام ×٣‏ 


بڑھانے کے لیے جرہ سے اہ رتشرلی فی لاے۔حعفرت حر نے کا پکا الاک 
خاطر ب ہآ داز بلند ‏ کیا کہ عویٹس اور ےچ سوگئے۔ میک نک ھآپ (نماز کے لیے 
تقریف زرےئ ۱ 
۵-زییب اتقفیہ روای تکر نی ہی ںکہ ول اںان لگ نے فرمایا: 
ِذّا شُھکٹ إِخْدَاکنٌ لیقع جب ت مم س ےکوی عورت عخا کی 
: نماز یس شیک ہوقے اس رات خوشبو در 
استعا لکرے_ 
ھی روابیت حطرت الو ری ےکھ یآکی ےکہ ول ان لہ نے فرمایا: 
یما لِمْرَأہ أضابث بشورا قَلَ مج عورت نے خشبو استعا ل کی ہو وہ 
تَشْهْذ مَعتا العشاء الْاخحرَة ‏ مارےساتھھخشای نماز میں شریک تر ہو 
ان روایات سےمعلوم ہوتا ےکہخواتین عظاء اد میں مد جا اکرکی خر 
اور ابناععت نماز اداکرتی تجیں ۔حظرت انم سلمہ بعت ا ہیں کرش نے دک 
کک یوڑی جوم سآپ کے ساتھ خر نمامیں اد اک ری ہیں نے 
ہھکنا سےکہ ان نمازوں میس زیادہ تر بڑی بیڑھی عورٹس بی شریک ہوا 
حل۔ اعادیث سے خابت ہ ےکہ جوا ن وت سبھی جماعت میں شریک ہو تی تھیں_ 
کر وچ 
ول ارچ نے عورتو ںکو دھا اود وکر و کی بھی جاکیدرفر مکی ہے۔ لی 
بت یا ہق ہی ںکہ سول الچ نے فرمایا: 
لا بخاریءعالہسائلی : 
07 مل ستاب لصلء باب خروج الساء الی اللساجد ا 
مسلم کاب لصل 2ہ باب خروج القساء ای الساجد اّ- 
ائ نعپر البرہ الاستحاب لٗ اماء الاحاب: -١۹/۳‏ اب نج الاصاب: ۱١/۸‏ ٦۴۱۱۰۔-‏ 


ائن ایالج زرگیء اسر القابر:ے -۳٣۱/‏ 


ا مسلمان عورت کی تاریخ 


اوھ وک پر عری ری کی شا و روا خر ہے ۳ )ملا 
ری اہ سح 

وَالتفَدِیْسِ و اغقِهنَ بالانایلِل از مکرلو گیوں کے پیروں ے ان کا غار 
وَلاَ تغفلن سی الرّحمَةَ“ ال کی رت ےعریم ہوجاوگی۔ 

رسول ال نپ نے ین روقات واج نکو انس نما اؤکا رک یبھ یلقن فرمائی 
۔حفر ملف ماتے ہی ںکہححفرت فاعل لے کے پا سکوئی او میس تھا ںگ رکا کا مان 
یکرگی یں ۔/ ٹا ین کی وجہ سے پتھوں مس مبچھائے پٹ گے تھے ایک مو تے پہ 
فلا مآ ہوئۓ تھے۔حعفرت فاعلے آپ سے اپفی پر ینانیو ںکا ذک رکرنے اود ایک 
7 درفواس تر ےکی پگ نہیں جھے لو نیت عائنٹڑے ال کا وکر 
2 کی یں ۔حقرت وا کے رسول الف پک سے حضرت فا کی ابر اورا نکی 
ر تکا کر وکیا ۔آپ شب :9 ہار ےگ رتشریف لائے۔ ہم لیک لد گ 
۔آ پکو دک ےکر ہم اٹھ بیٹھے ۔آپ نے فرمایا :نیس ! کیٹ رہوہ اود ہم دفوں کے یچ 
اںطرں یھ کہ فقم مارک میرےتم سے آگا ہوا تھا اور یل ا سکی یریک 
نکر تھا۔پ :لن نے فرمایاۃ تم لوگویں نے جس ری ورواس تک ےکی 
سے ابتر زس بنائوں؟ وہ یہ ےکہ جب اہ است پر لٹوہ جذتیں(۳۳) مریبہ 
ئ ال جیغتیں(٣۳)‏ مرتہ اد ابد اور نےقچس(٣۴)‏ رہ الد اکر پڑھلیامرو۔ 
ارے لے غام ےکی پھر سے 

ایگ روایہت میں ےک ہآپ نے فرمیا: مات ہرنماز کے بعد اورسوتۓے 
ڑھاکروی 
رکا ءکتاب الدفواتہ باب ماجاء فی ا الوداؤد کاب الہ باب ات نصی۔ 
زار ءکتزاب فضائل اصحاب ال لہ باب منا قب لی من الی طالب القرتی۔ 
لم ستاب الگ والدعاءہ باب ! ول ار وعند الم 


عورت اور اسلام 


حضرت فا نے غا مکی ورخواس تک اہر آپ نے ائں کے جواپ : 
ارک یتیج تیر اورگیی رک تلقین فرمائی۔ اس میس اس جا کی طرف اشارہ ے 
اشقا یٰ کے کر سے انسال نکی نو انی اورقو مار سی اضافہىتا ے۔ 
رسول الد پچلکی ایک صاحب زادگ بیا نک رک می سک ہآپ ال ناکد ال دعا 
تیم کرۓے تھے 
سُبْحَانَ الله و بَحَمْدہ و 7 می ال کیج او رج رن وں۔- 
یں رم مگ اور ھلائی کی قیت ال ہی سےمل 
سن ے۔ الد بھ چاہتا ہے ہوتا ہے اور 


لم یَتَا 2 گن اَعلمم الله ج نہیں چاہتا فی ہوتا ۔ بے ین سے 
عَلی 0 شی قَْيْرْ و َو الله کشر ور ہے ا ك٣‏ 
قاط بِکُلِ فَیْ عِلمّا نے رکا اعاط کر رکھا ے۔ ۱ 
آ ےے فرمایا: : ہف بح بی دعا پڑ ھھے لو ال تما ی کت اور ج شا 
پڑ ھت کی جک 1 سکی حفاطت ف ما ےگا 
ان لمات میں جن نوکلہ اعختاد اور سپ ردگ یکا فبکیاگ ےا وق لٍ 
ول ٹس پیدا ہوجاے اود تی رانسا نکی زبان سے وہ ادامھی ہہوں تو لقن ےک ارت 
شب وروز ال لک طفائظت فرما ۓگا- 
اہات امونشن اود دوسربی خواقلن اورادو ولاف اور درو کا جراہقام 
تخھیں, ا ںکا انرازہ ڈنل کے وو ایک واقیات نے نا ہے۔ 

۱ ول ای رچیٹ ماز ٹر کے رام 07 جویبڑکےے اں ے 
تقریف نے سے ۔ اں وقت وہ ا ہے مصلی 7 وت 
دک ھا :زی ھی ہوئی ہیں۔آپٗ نے فرمابا: میں نے جائۓ وقت (الل رکا 
گرتے ہوئے) جس حالت یچ ھایا اک ہی حات میں بر 

ا الوداؤد کاپ الادپ؛ باب با لقول اذا( 


و إِلَأ باللٰهِمَا مَاءَ الله كَايَ وَمَا 


ے۵ مسلمان عورت کی تاریخ 


ےے اثبات میں جواپ دیا۔آپ نے فرمابا:مھوارے ال سے جانے کے بعد میں نے 
چارقمات کے ہیں ءئیان و (صصنویت کے ا ے) وزن می ستمہارے اپ کک کے 
کر کے برابر ہوں گے۔ وجعکرات ہہ یں : 


سُبْعان الله رَ بَۃ ٌ لہ عَدَدَ اشک یکتع او رت کت ہوں ا کی 


خوقات 1 تقراد کے پرایر ال 71 ذات 
کی ریا کے نجرا ای عق کے بآھ 
اورای کےککرا تکی روشنائی کے برایر- 
حضرت سعدر من ال نقاص با نکراۓ ہہ ںک, وہ ول اللّد می کے راع 
ای کعورت (ما وہ ا مات اون ہی میں ےکوئ یتھیں) 2 پل گے ۔آپ ت2 
دی ا کہان کے ساس ےگٹھلیاں اکگریاں پڑا ہوئی ہیں اور وہ ان کے ذرلوضیجا تکا 
شمارکرردی یں۔آپ نے فرمایا کیا میس 27 ک اں سےآسان اور أٴل طریقہ بتاوں؟ 
یم اس طر حکہو: 


سُبْحَان الله عَدَه مَا خَلَق 


خَلقہ و ضا نَفيِہ وَزِنَا عَرْىٍ 


دا ما“ 


می ایل کی تب جکرتی ہوں اتی جنی 
کہ1 سان می الک یخحلوقات ہیں۔ بش 
ال کین جکرنی ہوں تی جٹ یکمہ زین 
بس اللہ تعال کی تخلوقات ہیں۔ می الد 
تج یج مرن ہیں تی جن کہ زین و 
مان جس زی ہیں۔ می ال کی کت 


الله فی السُمَاعِ وَ سُبْحَانَ اللهِ 
عَدَ ما خَلَق الله فی الٌرٔض و 
سُبْحَانَ الله عَذَهَ مَا بَیْنَ ڈلک 


ماع الله قة کا مر عَالق 
وَاللَة اكُرٌ بل ذِلک وَالْعَمْدُ 
له بن ڈلک“ 


کرتی ہوں ای چٹ کہ الد تھا یننلوقات 


کو پیا رنے والا ہے۔ ال" رک بڑالُ 


ھی اس کے برابر اود ال کی چح گی ای 
کے بایر۔ 


0 مسلم کاب الگر والدعاءء یآپ 2 دول مار وعثد الوم 
فور تفگ کاب الداعوتہ باب ل دعاء ای ماگ دتعوزہ دبرکل صلاۃ_ 


عورت اور اسلام ۵۸ 


انان اللہ تال کی تی بھ یج وٹھیرکر ےم ہے۔ ال ٹل وہ شب وروز 
1 رے بھی ا ںکا جن ادانیں ہوکنا۔ ال حریث جس اس کے لیے الےے اعدا کا 
سہارا لیا گیا ہے ج نکی حددنثھایت امعلم ہے۔ کہ انسانق ان اے ذرہیے بے 
بے پایاں جذب ہحبودی تکا انہارکر کے 


کرت عبارت ۱ 
تن خی رمتروف صعابیات مج سببھی عہاوا تکا پڑا ذوقی تھا۔حخر تک کی ایک 
پاندک یکا نام زاندوتھا ل۔ الع کے پاارے می لآ تا ے: 
انث مِنَ الْْجْتَهدات وہ ان خواین میں یں جوعبارت ے 
کو 200 فی سللے می بی حن تکرکی یں ۔ ا نکی ال 
الْعَافَةِ و کان ابی یدیّھا لِمَا خولی ی 7 ے ول ا ا یں 
لم بنا قریب رکتے ھے۔ 
ین صحابیات ال فدرعبایت مل تی ں کول الپ نے نیس مان ردی 
اود اعترا لی کی اید فررائی ۔ ریت عائش یا نکر می کہ النا کے پا حولاء بت 
زی تھی ہو یتھی سک سول ال ہتشرف لائے۔ میس نے عمش لکما: می جولاء بعت 
فذیت ہیں۔ ا نکی عباد تکا بڑا جج جا ہے ۔کہا جاتا ‏ ےک بیدا تکوسوثی غٹیس ہیں نماز 
پچش یا رڈقی ہیں ۔آپ نے اسے نالپن رف رمیا او کہا: 
کی ماوق او دک و ا وط ایا ۂکرو۔ اتی بی عباد کروی 
عَلَيْكُمْ بَا تَطِیْقُونَ 2 ا ان 
: 3 کی ات و ا 2 تھھارے اندر طاقت ہے۔ انل کی مہ الد 
فو الل لا يَممل ال حتی تمَلوا و تتعالی (ہے نضل سے ) اکا ۓ گا گہیں. 
ای خی سی سے لئ تم خود اتا چاؤگے۔ اد کے نزدیک دی 
کان ١ا‏ الٌن. الے اللے 
دس ہپ سے ( د٢‏ ل) پندیدہ ہے جس پگ لکرنے 
مَادَاوَمَ عَلَيِْ صَاحباگ والا پراومت اور انی انیارکرے۔ 
لے ابلن ایر اسد الفاہہ: ے / ۲۳ا ىہ ایک طوبل روابیت کا حصہ ہے۔ اسے لع محر ٹین نے 
مووع قرار دیا ہے۔ ان گجر: الاصاب: ۸ /۱۵۰۰۱۲۹- 
بمادیا کاب الابمانء باب احب الد گی ای اللہ ادوںہ مس لم کاب ااصلؤ 3ء پاب فضیا 
مل الدائ ر۔ 


ِ ۱ مسلمان عورت کی تاریخ 


ححفرت ام نفرماتے ہی نک رسول ال ٹج نے ایک مرتتبہ دیکھ اکسج کے دو 
فوں کے پل دی بنگی ہوک ہے ۔آ پا نے ددیافت فرب کہ یہاں ہت اکی؟ 
ہیں نے عون لکیاکہ یرت ز یتب (خالً ام اکم وشن حخرت زجب بعت جن )کا 
>- وہ رات میں نماز پڑہعتی راتی ہیں۔ جب تک جانی ہیں تو ا یکا سہارا گن 
ا۔آپ نےفریات :۰ 
رثرو و ےہ ور ےے کے یں یں میں ے۔ ا ےجو 
اوخ 
اذا بر فَلقعَدٌ- اود تازگی باقی جے اسے نماز بڑھنا جاے۔ 
جب تنک جاے و اسے مھ جانا جا بیے۔ 
دور تاجن میں حعفرت راہ لعمری اٹ عبات وریاضت ٹل بت شہور 
ہیں۔ علامہ این خکا نکھت ہیں : ۱ 
کائث من أٹان حضرِهسا و ود اپے وت کے بڑے لوگوں میں 
اَخْبَارهَا فی الصُلاَح وَالْعبَاوَةِ تھیں_ ملا و تتيٰیٰ اور عبادت یل 


وھ 


مَشْهُوْرَة ٢‏ الع کے واقعات شپور ہإں- 

ا نکیا ایک نماونہ یا نگل ہی ںکہ دہ رات کر نماز پڑجقی یں طلوع تم 
وقت ذراسی دب کے لیے مکی بی پر لیٹ جاجیں۔ جب دن صن ل 7ن ن گھب ر کر 
سٹ اپنے تر سے بی کے ہویۓ ٹہ ٹچھتیں: رےف سىتی در سو گا اوس بتک 
گا۔ وہ وفت جلمد بی نے والا ے ج بل ایا سو گا کہ قیامت بی میں 
ےگا_ وہ وعا می ںکبیہھیں: اے ائل دکیا تق ال د لک وگ میں ڈا لےگاء جج رے 
ب ٹکھتا ہے؟ کہا چاتا ےک ایک دن ٹیپ س ےآ وا آگی کہ ایی یں ہکا ہیں 
رے پارے بی تن ضلن رتا چاہیے۔ حفرت سفیان نورق نے اع کے نزدیک 
بخاری ءکتاب اأجحبدء باب ما کھرومن التخد بد فی الاو لم کاب الصل 3ء باب فضیلۃ 
ل الیاغ۔ ۔ 


ان خلکانء وفیات الاعیان: ۲۸/۳ 


عورت اور اسلام ۰ 


آتر کو اد ےکا وا7ناہ ہااۓے کے و زن۔ انہویں ا ےکھا: قلط بات مم تکپہ 
یی ںکہوہ پا ےکس قد رٹ مک ہے۔ ا ےمج می مس وہا ںکاشم لاق وجائے 
ساأس لین دوک رہوجا تے ۔ 

ام الصبباعہ معاذہ ینت عبد الکو ائکنع حبالع نے عابدات میں شا کیا ہے“ 
جانا ےکہ ان کے شوہرابو لصبباء کے اشقال کے بعد ابی وفا تم ک لی بست بن 
یں ووشب ژندہ وا نان نتھیں ٹر 7 تھیں۔ انآ ھوں برتجب بنا سے جو سو 
رنقی ہیںہ ج بک آئیں معلوم ےکق رم کسی خینرسونا ہے۔ دو شیع کا پاندگ ا 
ایس میس ال تال گیا مددکا ابنا ایک واقعہ با نک تی می ںکہ ا نکو پی فک یکول گا 
ہوئی تذگھنڑے میں ررکے ہو نمی ہو (جنس میں نش ہ1 جاتا ہے ) اور علاجع جو“ 
گیا۔ جب ال نکو ا لکا پیالہ ین یکیامگیا تق نہوں نے اسے رک ھکر دعا ک: غدایا! ٠‏ چا 
ےک ححفرت عائکٹڑنے ججھے بی حدیٹ سنالی ےکہ رسول اد ہچ نے اس کے استنعا 
ےئش فرمایا ےن مجھے اں سے بچانے اود اپ نکمم سےعصجمت عط اکر اگل دعا یً 
ساتھ پیال ہل ٹگیا اوران کی نف دور ہوگئ یت 
روز ےکا شوی 

روژہ دن کا ایک ای مین ہے۔ فی و طہارت اور چرا ےتعلق 4 
کمرنے میں نما نکی رع روز دک یبھی بڑکی المیت ہے۔ ای وچر ے (ل روزوں - 


اہ ابع شلکانعء وفیات الاعیان: ۲۸/۳ 

یم این شر تذیب الجذیب: ۴ا /۱٣۴۔‏ !فی الدرین افزدیء خلاصتۃ تزعیب اکا 
۳ ۳۰۳۔ یہی ا ام رکا ذکرکر دینا ضروربی ‏ ےکرصی بھی تل کے کے پا قاط ہوئے کیا یہ 
کتاب وسق تک رش میں ہہوگا۔ ا سکاب میں جھ واقحات بیانع ہہرئے یں ان میں کہ 
افراط وتفر پیا نظ رآۓ تو وہ ج تنیں ہوں گے۔ ا ن کا ذکرصرف اس پپہلو س ےکیا گیا سے“ 
دوراو لکی خوا ین عباوا ت اکس قزر اجضما مکرکی خجیں اور ایر سے ا نککانتل کنا مضبو ما ڑا 


مسلمان عورت کی تازیخ 


وت رویزو ںک یھی بڑی فضیلت بیان ہوگی اود ا ںکا تخب اگ بے۔عدیٹ 
یر تکیاکمالیں سے معلوم ہوتا ہ ےک ہعحابیا تال روزےبکشرت رک اکر کی تھیں۔ 
ام وین حرت عائٹڑ کے بارے میس سعد ین ابرائیم مکی ہیں : 
کَانّث تَصُوْم الأُخوَ وہ صائم الدہرگیں۔ 
ان کے بای قاع بن مھ کے ہیں: 
كَانَّث تَسْوْذ الصَوْمَ و وص روڑت کیاکی جن :. 
ام لن حضرت حفصتچھ نل روزے بت زیادہ رت یتییں۔حضرت نا 
اے ہیں: 
عو ہے ےڈ دا ثرت طص اکا ال وثت اٹقال ہوا 
سیت ود سو ہت 
روایات شُ لآ ہ ےک ایک مرتبہ ول الد یل نے یں طلاقی دی چای 
اٹل ہوئی اورصخرت نیل علی السلام ‏ کہا: ۱ 
زا عَفصَة فلا صَرَمَة لے سے رج ںکرلدہ اں ےک 
قَوَامَّة و إِنھَا زَوُجُنک فی الْجنة نے وا ی ہیں اور وہ نت میں کی 
۱ آ پکا یوک ہو لگا۔ 
محایات ےکن روزوں ےمنتعلقی بہت ے مفثر واقوات حدم ٹگکا 
تابویں مس لج ہییں۔ انا سے روز ہو کے سلسملہ میں النا کے :تال کا پھ گلا ے۔ 
حطرت عا لہ بیا نکر ںک, وہ اورجخرت خص ڈول روڑے کمن 
ا اتا می سکھانا ساٹ ےآ یا ق ایھوں ن ‏ ےکھالیا۔ حطرت خصیے نے رسول ال پگ سے 
این سعد الطیقات الگبریی: -٦۸/۸‏ 
ابع سععدہ الطیقات اگبری: ۵/۸ے۔ 
۱ ابن سعدہ الطبقات اگگبریٰ: ۸۷/۸- 
این سحدہ الطبیقات ایجرییٰ: ۸۲/۸ اء کب زالبر ا(استجاب: ۷ / ۳ے ٣۳‏ 


عورت اور اسلام 


ا ںکا ڈگ رکیا قے دوصرے دنع ا لکی قضا کا آپ ن عم دبا 

رسول الل یق ام الموشن حضرت جویر نی کے ہا ںتخریف نے گے جع 
دنع تھا_ وہ روڑے و ے الع ے چھا۔کیا 2 نأےےک روزہ رکھا < 
یں نے عرن کیا :نھیں۔آپ نے پھر و بچھا :اک روزہ رک کا ارادہ ہے؟ اہو 
ن ےکھاۃ نکی ۔آپ نے فرایا: روزہ توڑ دو۔ ایک رایت مل 1 :ا ےکہ یں 
روزولؤڑ دای 

فرت ام بل کہ کے دن کا ایک داقعہ بیا نکرتی می ںکہ رسول الما 
تشریف فرما تے۔ حفرت فاطلمآپ کے بانمیں جانب اود ہیآ پ کے دانمیں طرۃ 
ھی ہوئیتھیں۔ ایک باندی پنی ےک کول جززلائی۔آپ نے پینے کے بحدخرت ام 
کی طرف اسے بڑھایا۔ اتھوں نے اسے (ح؟ر بج کوفورا) پی لیا او رکہا: تر ٭ 
روزے سی ,نین میس نے (آ پا کا جشاپمی لیا پا نے فرای: ضا کا روز 
نھیں ھا ھا آنھیں نے عون لکیا:نییں انل تھا فآ پا نے فر ایا :ٹفل روڑہ رک وا۔ 
کوائں کا اخخیارے ےک وہ چاے و روزہ پراکرے چاے دیان میں نوڑرےںت 

ام نماد کبقی ہی ںک رسول اٹپ ایک دن ان کےگع تشربیف لئے امو 

ن کھانا شی کیا ہآ پا نے فرمایا: تم بج یکھا۔ اھوں نے عون سکیا : یس اروزے ۔ 
ہیں ۔آپ نے فرمایا: روزہ دار کے پاس ج بکھانا کھایا جانا سے تے ال سے فار 


فدہ اواب الصخء جاب ماجاء پا یجاب التعناء۔ ایوداؤد کاب الصوخء باب را 


ثله 


علیہ التطاء- 
ر1 بخاری کاب الصومء باب صوم پیم ائے۔ تہور کے وت اص طور 4 یکا ریژور 
وہ ے۔ : ۱ 


٣‏ تی اواب الصومء باب ماجاء ٹا اظار الام مطوع_ ابودائود کاب الصوعء پا. 
الرنص فی ذنک۔ دارٹی کاب الصومء باب فی مک نع صائما تطلوعا شم مغخطر _ 
فتتہام میں حضرت عاکٹای عدیث پ> اضا کا اارام کی روالیت پرقوان ئل نت 


۳٣‏ مسلمان عورت کی تاریخ 


ہو ےکک فرشتے ال کے لیے دعاکھرتے رت ہیں 

ر بت متوکہتی ہی کہ رسول ارڈ پٹ نے ے عاشودام (ویی۶ن) 7 
کےحلوں ہیں اعلا نکرااککرشس ن ےکھاپی لیا ود شام تک ٹوش ہکھاۓے اوج نے 
روزہ رما 4وہ اپتا روزہ پر اکرے۔ اں ہے لھرے م۴ خودبھی روز رک جے اور 
یو ںکوبھی رکھواتۓ تے۔ جب وہ ویک سے رو تو مم اون کےکھلونے پناک رام 
کک ال نکو پبہلاۓ ر کے 

ول گی 7- سے روزے رک کا بھی وکہتا ے۔ 

ایک عورت نے رسول ال کک سے دریاف تکیا کہ میرک ما ں کا انال مھگیا 
ہے۔ ال پہ پنددہ دوزے ڈنل ہیں۔ ایک ددایت مس کہ اس پھ ایک ہیدہ کے 
ریزے فرش ہییں۔ ددرکیٰ عدیث میں سے کرد ڈ ہین کے روز ے فرش گیں۔کیا یل ان 
کی طرف نے روڈ ردق ہیں؟ آپ نے فرمایا:اگریں پیک 22 20 2 ادا 
نرکرتل؟ اس نے عون لکیا: ںا آپ نے فرمایا: ال کا تر فا کا زیادہ سخ ہےکہ 
اے اداگیا جااۓ۔ 

ایک روایت سےمعلوم 27 ےکہسسوا لکكرنے والا مردفوا۔ نت 

ہکم ےکہ یہ تحرد واقعات ہویں۔ ا لکی تام یں ےکی ہوئی ےکہ 
سوازا ت لف مم کے ہیں۔ 


لہ ترمذیی: الواب الصعخء باب اجام نل ارت اڑا ائلٰکئرو_ ورواہ امر و اب اچ والداری 
(مکلڑہ لصا قع تاب الصیعم) _ ۱ 

ارک ءکتاب الصوںمء باب عسوم الصبیان سم تاب العنیامء باب صسوم لوم عاشورام 
جفاریا :تاب الوم یا بن مات دعییصوم سم کاب اصیامء باب تضاءالصونکن اللیت۔ 
یہاں اس مل ہکا نشی حقیت سے پٹ نکیں ہے۔صرف انا اشار ہکان ےک فتہاء اطاف 
کے نزدیک می تک طرف ے روژو لک نا نہیں ے۔ 


عورت اور اسلام ان 


جزباننائی 

خرآن دعدیث شی نماز کے حر سپ ے ڈڑیادہ زور انناتی پ4دیاگیا ے۔ 
زکو ا یکی ایک قانوٹی شگل ہے۔ نماز کے ذربجہ انسان ال جذہ ہکا انظہاہکرتا ےک 
ا ںکا دلی ددمارغ اود ا حضاو جوارح سب یلج الد کے ساس ےبیدہ ربز ہیں اور انفاقی ال 
پا ٹ گا علاہت ‏ ےکہ وہ ما لکو اپٹی مکی تی ں تا اور اسے ہراس مک خر خکرنے 
کے لیے مار سے جہاں خر کن کا الد نےعم دیا ہے۔ انا کا مطالہہمردوں سے 
ھی ہے اورعورتوں سےبھی تق ران میس انفاقیکرنے وانے مردوں اورعودڈیں سے اجرنشیجہ 
ک وعدہکیاگیا ہے۔ ارشادرے: 


اك لصوم والْنسْتَقبِ و نے شیک صد ےککرنے وانے مرد اور 
1 الله .-. مر صدقکرنے والی عورقس او رچخول نے الد 
رَصُوا الله قرصَا عَسََبُْعْفٌ کو رض تن دیا ا نکو بڑھ اکر دیا چائۓ گا 
َهُمْ وَلَهُم أَجْر ركَرِیْمم 0ی:۸) اوران کے لیے بہت نا اجڑے۔ 


اعادمث میس عورتو ںک ولف پہلووں سے انفاق کی تزغیب اگ تن اتی 
میں ان کے ماع نفیات اود ماحو لک گی پٹ رعای تکاگئی ہے۔ 

طرت چا اورعطرت عبد الد بن عبا کبیا نكرتے ہی کہ ایک عید کے 
موتے پہ رسول اللد لان نے خوانمن سے الک خطا بکیا۔ اں سی آپ نے ا ن۷ 
صدقہ و شیرا تک یھی رغیب دیی۔ اس پر خوانن اپنے زلیدات اود ددسرکی زی شیک 
نے آگیں_حطرت لالج ای چادرٹس ئ کر رے ےل 

حفرت الو کی صا زادکی رت اسان وپ نے نحسحت فرمائی: 


اق وَلَ تم یں خی کرو ار مم تکرو ڑک کیا دی 
لہ او رکیا شہ دی ) ودنہ البھ یگل نک رتمہیں 
الله عَلَْكٍِ وََ توْعِی َيُوُی درے گا ب اود تہ بچایچاکر حناظت سے رکھو 


الله علّیکی“ ورنہاللگی بیط دےگا۔ 
سا بخیادکیا کاب الحیلہبینء باب موعظلت الامام الناء لیم الحیر سم تاب العیدیؾ۔ 


کہ جار ءکاب الحریۃء جاب عبت ال ]فی زویچا۔سلم کراب الک 7ء باب لن گا الانفاقی 
دکرامی الاساگ- _ 


1 مسلمان عورت کی تاریخ 


سرت جوا نیف مال ی می کہ ہم لوگوں نے ایک مریت ری ڈگی۔(اور 
تفم مکردیا) آپ نے ددیافت فرمایا: کچھ اس میس سے باقی ہے۔ ہم نے 
رت شلکیا: صرف شانہ رہگیا ہی نے فرمایا: او لکبوء شانہ کے علاوہ سب 
ھت 

ال رع آپ نے یتسود زم نشی لکرایاکہ انسنہ جگھی صدقہ وخرات. 
انا ہے دہ ضائ نیس ہوتاء بل ضائ فو دہ ہوتا ہے جےکھاپ یکر دوش کر دا سے۔ 
برڈہ دشمرات می درخیقت بای رے ڈیںء اس لی ہک ال کیا اج وذاب الد تَا 
کے 20 ے۔ 

نس اوقات انسان ال حییت می یں ہہوتا کل یک یکوئی بدی بددکرے 
رتھوڑی کی مددکرتے ہوئے اسے تائل ہونا ہے۔ بی صورت حالل خوا تین کے سراتھ 
ادہتہ یل ہے۔آپ نے ا نکوہدایت فرائی صدقہ جھوٹی سے بھوٹی زا بھی 
سک ہے۔ اس سے چاے ضردرت سیق ضرورت رکا نی 0 ہارالے 
7 

عفرت وائٹڈف اتی ہی ں کہ سول ال نے فرمایزجو رکا ای ککھڑا بی سی ء 
ےک رجیم سے کیو ینمی رانسان کے جی ےکا م7 سے یھو کے کےبھ ی ام۲۲ ےک 

ام میتی ہیں: بیس نے رسول ال اھ سے عون سکب اکر سال میرے ورواڑہ 
1 ہے ۔ می اک م لکوئی ایی نکی ہوئیء جو اسے دےسیں۔ اس لیے شر کھوں 
ہے۔آپ نے فرمایا ( سا لکو خالی ہاتھھ نہلوطا5) ھن ہو جلا ہ اک ہی سی ء 
ےک ریو ۱ 


ر مکی : اا اب صفت القیآمہء باب -۳٣‏ 
قال الم ری: رداہ امم پاسناتن۔ الترغیب وال زہیب: -٦/٢‏ 
تر نیہ ااواب الک 3ء باب ماجاء ثی تن المائل- 


عورت اور اسلام 1٦‏ 


جلا ہواکھ ایک بے فائدہ یز ے۔ اس میں سرائ لکوخالی ات لوان ےکی مخت 
عمائحت اود اسے پل تہ دی ےکی کید ہے۔ 
عورتؤں کے تعلقات زیادہ ‏ رش رارولں ار پڑدیول سے وت میں ا نک 
یی زیاددے۔اعادمٹ ٹس عورنو ںکو ا سج را ےت 
حظرت ععبد ایند بن مستوڈکی بیدکی اور ایک انصاریی انون نے حخرت بلال 
کے ری ول ال نٹ سے بب ددیاف تکیا کیا وہ اۓ خہرول ا۱ز ول پٴ بھی صرد 
مکیکتی ہیں .پا نے فرایاۃ ال دہ الن ہچ صدقہکیک ہیں۔ 
ما ران ار القرَاَة و ا نکوت دوکنا بجر لےگاء تراہ ت کا 
أَجرُ الصٌّتَقولہَ اجرئھی اورصدق ہکا اجھگگی۔ 
حضرت ام سم نے رسولی ایل پا سے ددیاف تکیالک اکر ٹس اپنے شوہ 
الال کے بچوں پرخر خکروںء جو میرے ہی جے ہیں اج نکو میس چھوڑھ یہی سک 
کیا ایشدتھالی یھ ا لکا ٹذاب دےگا؟ آ پ نے فرمیا: 
فی عَلَيْھمْ لک اَجْر مَا ان بر خر خ کرو تم جوکی ان پ 
اَنَفَقّْيْ عَلَيْهمْ خر کر وگ یت ہیں ال سکا اجر لےگا۔ 
خر ت نیموٹڑ نے ایک باندی 7آ زادکی۔ اھویں نے ا سکا تنزکرہ رسول اك 
سکیا ۔آ نے فرمایا: اکرتم اسے اپ ماموو کو دے ونتیں ‏ زیادہٹذاب ہتا۔' 
(مال] وہ ال کے ضرورت منرت ے) 


بخار کاب الفقاتء ہاب الک ۃ گی الزون دالاام 1 امس تاب لاق پاب 


ےه 


ففل الص دق کل الاڈ رن والڑ وع ارّ٘- 
7 خاریءکناب الخقاتە جاب الزکو * لی اوخ والا تام نی الج“ لم سناب الزک 8ء با 
ففل لص دقی گل الات رن والزوح ار 


ہے تیڈارگا کاب الیدء باب ہبۃ ال رآ اق زوا ىً 2 ال8 ابرففقل ا0ت 
وا لص رقۃعی الات رین۔ ۱ 


1 مسلمان عورت کی تاریخ 


حضرت الو ہیاک روایت ےک سیل اث کل نے فررایا: 
ظابکة النٹیتت ہپ اےممان خوتداخم مش ے۷ 
ےر رو ےر پھٹڈک اپنا پڑؤی نکومیر نہ بھے۔ اگرچہ 
تحْقِرن جارَة لِجَاریتا و لو کر کا ای ککمر یکوں 2ک رمال 
فِرسِنَ شال ہہدے)۔ 
اں کے دومطلب ہوک ہیں: ایک بی مسلمان عور تکوصب استطاعت 
1 پڑؤ نکو ہی او رگذردیے رہا چا ہیے۔اگرکرئی ٹک چرددے کے وئی کا ہر 
ے۔ ینہپ ےہول کیا یکا جائے۔ دوسا مطلب ہہ ہےکہ سے ہدس 
جاۓ وہ یہتہ دی گیا دی جاری ہے اور تب تک دک چاری سے بلہ 
ا جبہ ا حب تا قرکرے جو ال کے ےکا مکر رہا ہے۔ اود موی سے ھوٹی 
کوٹھی ردتہکرے۔ ۱ 
حرت عائنٹے فرالٰی ہی ںکہ یش نے رسول الیکا سے ماد میرے دو 
ای ہیں۔ ان ین ےکن کے پا تن جھتوں؟ آپ نے فرمایا: جن س کا درواز دنم سے 
یب ہواں کے ہا ں کیو 
اں سےمعلوم ہونا ےک حخرت عائٹے پڑوی کے توق بجی الہ وہ 
جاننا چا ہت تی لک ایک سے زیادہ ای ہوں ن کات زیادہ ے؟ 
ان اصوٹی قلمات کے بعد اب دور او لکی ملمان خوائین کے انفاق کسی 
راک کیا جارہاے: 
2 اون حضرت زیت کے اندد انا کا موی چذبہ تھا اور وہ کہت 
او ضرق دشرا تکیاکرنی تھیں۔ ام زی ان 2 ہی سک یں: 


بخاری تباب الہی۔ 
۶۷0 "و 


عورت اور اسلام ۸ 


انث مِن سَاقق اليْساع دبا رین تہ جمد وسخا اور گی اور 
وَ رَزْعًا وَجُوْذَا وَ مَعْرُوْقَا رَضِيَ مبممائی کے اظ سے ان کا شاز مردار 
الله عَنقَ خواقین میس ہوتا تھا۔ ری اللرعنہا۔ 
حعالی مھا ک حف تک کے جراخ اور ا ےت ول اور نادارول بر 
مردہتیں_ 
صفرت عائٹڑف بای ہی ںکرسول ال نک نے اپنی اذواع سے فرمایا: 
وشن لضاقتا بی تم رسب سے پل بد سے دہ ٹل گی 
اَُوَلُكُنَيَدَا جس کے پاتحوسب سے سیے میں 
بھم لیک اپے پا نایا کرتے تھےء کہ ىہ دن ںک کس کا اتال پے 
ہوگا۔ نظرت ز بت یھو ری تیں۔ مین ا ن کا اتال سب سے پیل ہوا- ا٢‏ 
سے ہیں معلوم بەاگ ہآ پکا 2 بے اک صدڈ وقرات میں چو سب سے 
سے اس کا پیل انقمال ہوگا۔ دہ اپینے باتقھ سےکا حمکریس اود جھ حاصل بہوتا ا 
صد کرد یں 
برزہ بعت را بنا ہی ںکرحفرت عڑنے ہادہ ہراد ددجم ان کے 
یت المال سے کیجے۔ جب مو خی ررقم ان کے پا کی ت کیا می اس کا“ 
ککروں؟ میری دوسری یں (ازوارج مطبرات ) ا سک تی مکی زیادہ صلاحت ر٣‏ 
یں ۔کہاگمیا: یرساری رن آپ ہی کے لے ہے۔فرمایا: ان الا اسے رکھ دا١‏ 
ایک پٹڑے سے ڈھھک دو۔ پھر ھ سےکہا: اس مں پاتھ ڈالو اور ایگ فلا | 
کے ہاں اود ای ک شی فلاں کے ہاں مٹیا 51۔ اس رح اپے رشن دارول ا١‏ 
تیھوں کے درعیان اتکی مکراتی رہیں۔ ج بتھوڑب یىی زم روگئی نے ش 22 


ا ذئیء سر اعام الخطاء: ۱۴۹/۲ 
مسلم کاب الفضائلہ یاب فضائل ز یتب ام اشن 


: مسلمان عورت کی تاریخ 


سا ٹل ہمادا بھی فو جن ہے؟ جواب دیا: ابچھا ا بکنڑے کے ےہ جھ پھ در وگیا 
5 وہ ٹُہارا ے۔ بر ینس (۴۵) درم تے۔ ایک رایت مل ےک چپ 
غرت طز ک ےلم یس بہ بات آئ یکہافھوں نے سساری دتم اس طر حتف مکردبی سے 
فرمایا: ان سے خر پیک وخ سے۔ پچلرخو رگ رتقریف نے گے۔ ددواڈے پے 
ٹرے ہوک ملا مکیا۔ زی ایک تار ددم کییے اور درخراس تک کہ اسے اپ 
رودیات یش خر کریں .لین اس ےکبھی افھوں ن تی مکر دیا۔ 
خر تکا یہ عالم تھا کہ وبیت المالی سے اس وظیفہ کے لے کے بعد سان 
اف اھ اھکر دا گیا: اے الڈر! جک نظیفہ لیے کے لیے اب بے زرط 
د چناں چان کا ای سال انقال ہوکیاے 
انا کفن خود تا رکر رکا تھا۔ اھ رحطرت عم نے کبھی الع ہے اتال ور 
ت بت ا مال رے ای سپڑے خودخخ بک کے کیجے۔ ان ہی سپڑروں می ںکشن دیا 
یا اود ا نکیا بن حنہ بت نشی نے ا سکف نکوہ یے اھوں نے تیا کیا تاء صدقہ 


. 
ردیاے“ 
حرت زمبٌ ے اتقال برحلخرت عائکت نے فرمایا: 
فقنث حبسةفہ فی ےگ چلاکئیس دہ جوقاعل تحرف بل 


مَفْرَع الیْعَامٰی وَال‌رابلے تیموں اور بواؤ لگا بنا گاہتیں_ 
7 ا مخ 7 
عثان ین عبد ایل شھی کے ہیں: 
ما نوگث زَتبْ بن زیب بعت ہن نےکوگی ددم یا 
72 2 .7 2 0 و نر ۶ : 
جُحش دِزھما وَلا ذِبَارا کانٹف د یارییں جھوڑاء جھ یھ پاتھآتا صدرۃ 
این سد الطیقات الگبریٰ: ۱٠٠٠۱۹۰۹/۸‏ 


ابع سد الطیقات اگبریٰ: ۸ -۱۱١/‏ 
عالہہساال۔ 


عورت اور اسلام : 


تَصَدق بگُل مَا قکرّث عَلَبْو و کمریجیں۔ وہ صیفوں کی پناہ گہ 
کَائث مَأُوٰی الْمَسَاکِْنٍ تی 

فرمات میں: شس مکان میں وہ رٹ ت٠یں‏ ان کے انفظاللی کے بعر ولید ؛ 
عبدا لیک نے مسو نو یک تس کے لیے اسے پا ہار ددم میں خر ید تھا 

رسول ونم اعبات اون یں حرت عائیٹڈڑسے سب سے زیاد مب 
فرماتے تے۔ اس وجہ سے حطرت عر نے الن کا وین ہگ زیادہ رکھا تھا-چتاں 
آھوں نے ازوار مطجرات یل سے ہر ایک کا یں ہترار درم اور ضرت عائتا 
پار:ہزار درم وظیفہمفررفر ما اج 

کین حضرت عائٹڑ دکی فیات لتھیں۔ جو بجھھ متا اے خر کروی قفجر 
ان کی اتی اور انفا یکا اثرازہ نل کے واقعات سے ہوک ے: 

2 ذر تی ہی سک رحخرت عبد الد جع زی ڑنے دوتھیایاںء ینس میں ایک لا 
رم ہیں گے رت عوانتڑڑے پا جھوائے۔ انھوں نے بی منویا اور ای ت 
سارگ نأ لڑگوں می سی مکرادی۔ یں دن وہ روڑہ ےکیں۔ شام ہوئی و جج سے 
اےلڑکی! افطارقلا 5 میس نے عون شکیا: مع آپ نے ات بڑئی ون نیف مکی کیا 
مک ن نہیں تھا کہ اس میں سے افطار کے ل ےکوشت موا یں فرمایا: جانے د 
لات م تکرو۔ اگ یلت وکرکرفی نے گوش تکھی منگواری لیتیق ٠‏ 

عطاء جن الا ربا کا بن ہ ےک یک مرح رحطرت معاو نے حعفرت عاآ 

کوایک لاکو در مکپجوائے۔ میں نے ود ائمات الم جن کے درمیا نشی مکرد بے 

عروہ جن زییڑکتے پیں: ں نے دی ھا کر حطرت عاکٹڑنے ستر ہرار در 
ابع سعدہ الطبقات الگبریٰ: ۸/ -۱۱٢‏ 
گی این سعدہ الطبقات اگجریی: ۸/ے٦-‏ 
سط این سحدہ الطیقات اگگبریی: ۸/ے٦-‏ 
یم ذئبیء می راعلام الخلاء: ۳ -۱٢٣/‏ 


2 مسلمان عورت کی تاریخ 


-- وقرات کے اورخودال کا ییعال تھاکہاپے پڑڑوں یع بین گا رد تھیںی 

ام اکمؤنشن حضرت ژمیپ نت تز یی اسلام ےت ل بھی مس ینوں اورشتاجوںکی 
بہت مددکیاکرنی یں ای وج ے ا نکواام ال کی کیو ںکی ماں )کہا جانا ات 

أ ون حضرت سورہ بشتٹ ز موک نر تگڑڑے درتوں سے برا ہوا ایک 
جوا کوایا۔ جب النع کے پا بگھولا پیا انھوں نے و بچھا: ال می سکیا ہے؟ عنش 
کیایا: در ہم ہیں۔فربا :ہک یجورکی طرح درہمبھرے گے ہیں؟ راک کیا سےکہاۃ 
ایکیمق ل۔ ای طبقی سے وو ساری دق تی مکرادی یی 

حقرت اسم عطرت اوک کی صاحب زادکی اور عخرت عائٹکی گی جہن 
تھیں۔شجھ بن مدان کے پارے میں سکتے ہیں: 

017-20 یع کت یگیں۔ 

انی لڑکیوں اورک روالو ںکونیح تکر کی خی : انفاقی اور خیرا تکرو۔ ینہ 
سوچ رہ کہ اخراجات کے بح کہ چے ذ بھلاکی کےکاموں میں خر ری گے۔ 
پچ ت کا اننظا رکرو ف ذکوئی یز ج گی نہیں ۔ او اگ خر نک روگی فو اس کا فقرا نکھی 
نہیں ہوکا ے 

حطر عھڑنے ایک پثزار درم ا کا وف مخ رکیا تھا مٹن ان ہے انفاتی 
کا جب عا لم تھا۔ ابو الئرم کے ہی ںکہ مس نے حضرت عا کاو رعحضریت اسائو سے 
زیاد ہگ یک یکویں دیھا۔ جن دوفو ںکا انا زخلف تھا ۔ رت عا ایک ایک پچ ز 


این سد الطیقات الگبریی: ۸ -٦٦/‏ 

ان سحدہ الطبقات انگجرییٰ: ۸ /۱۱۵۔ ائ نعبر البرء الاستقعاب: ۳ /۴۰۹- 
این سعدہ الطیقات اک ری: ۵۹/۸۔ این قزر الاصاب: ۸/ے۱۹2- 

این سد الطبقات ہگبریٰ: ۸ -٥۵۲/‏ 

زین سحدہ الطبقات اگبریی: ۸/ _-٣۵۲‏ 

وا سان  :‏ ۲۵۳۔ 


ےم مع ہہ؟ یا حج) ےىع) 


عورت اور اسلام ۱ ۳ 


2 اور پھر چہاں ضرورت ہوئی استعا لکریتیں لان حضرت اما کل 2 
یے پجھ ٹاک رننیں تی تییں۔ جو بکتھ ات ھ1 جا سب اکا وقت خر جکروہتی ںا 

فا بخت ہن دکقی ہی :ھی تار ہو و اپنے پال بج ظلام ہوتے آھیں 
آزااکردتیکمیں 


2 او رگھرہ 

اعلام کے بیادکی ارکان مس سے ایک بی بھی ہے۔ بج میں رنوں میں 
کپ الل جک سیل اعمال با لانے کا نام ہے۔عرہ می ںی بی کے تح اعوال 
امب کے علاوہ دوسرے فوں می انجام دلے جاتے ہیں۔ 

2 اور عرہکی بی فضیلت آئی ہے۔عدیٹ میں اسےگورلو ںی کا چادکہاگ 
ہے۔ محرت عاکٹڑنے ہرل الله سے دریاففت ف مایا ک کیا یھ مبھی آپ لوگیں 2 
ساتھ جہاد مس شریک ہوستے ہیں؟ آ پا نے فرمایاۃ 

لکن خسن الپچھساد و تج لوکوں کے سے سب سے اپھا 
اْمَل حَّ مَبرُورے اورخوب صورت ادخ روررے۔ 

21 اور روایت گُل ےک حضرت ماتٹڑنے رسول اللہ علہ سے عویل 
کیا: بے رن یرش چار ے زیادہ فقیلت وا کوئی دوس اتل نظ یں 1 ۔ پھر 
بھی آپ کے ساتھ جہاد یم لکیوں نشیک ہوں؟ آپ نے فرایا: 

و شسشت ہی 
اْمَله ححج البيیت ححج مبرود* ہریر ہے(جوخداکے لیک یاگیاہو)۔ 
ا اریہ الادب امفرد: ا گے ۳۔ ذبیء سی راعلام الطاء: ٣‏ /۲۱۷۔- 
٢‏ این سح الطبقات اگبرییٰ: ۲۵۷/۸ 
بفارگا ءکتاب ارأء باب ر ااضاء- 
ظط نسائی ماب ناسک ارہ باہفخل ارا۔ 


اج ۱ : مسلمان عورت کی تاریخ 


صحفرت الدہ ری کی روایت ےکلہ ول ال پا نے فرمایا: 
جهساذ الْکبیْر وَالصفیر و بوڑھےہ پیہکردر اورعورت کا جار 
لضف وَلْمرٰأِ الْحَحوَالْْمْرَقٌ ؿٌورے۔ 
جحخرت ابپ ینف رماتے مک صسول ال پچ کے ساتھآ پک ادخ مہرات 
نے پیر کیا تھا ۔آپ کے بعد حخرت سودڈ اورحخرت زءشب نے ریغو سکیا الب 
سرئا ازواجں کو جا اکر ی میں 
جچت الوداع یس وس جنرارسحاہ۔ کو رونا 
یا تھا۔ انراڑہ تا ےک ال یس صحابیاا کی کگ یا ص1 تندائتی۔ جب اورخو کا نے 
مھا مار حاللہ اور ۓ دالیا ں بھی شریکگھیں۔ 
ضباع بشت زینے 701ئ] سے عو لکیا: یس نے ری کا ارادہکیا ے 
من ار ہوں۔ پا نے فرمایا: کرد ام ال میت سے باندص کہ اللد قحال ی جہاں 
لاد ےگا ویں اتا مکھول دو ۓ 
تطرت جا بیا نکرتے ہی ںکہ رسول ال پگ نے ٭ اھ بی رکا اعلان 
مایا نو ہم سب لیک ر کے لیے روانہ ہوئے۔ جب ذد احلیقہ یچ نے دا اسماء بت 
یں کے صامت زاد ےج من الوکر پیلد اہوئۓ گے 
حضرت عمبد الد بن عبائ فرماتے ہی ںکہ رسول ال یپلل نے ”روجاء مس 
گے موارول رے لاقا تگا۔ اع شی سے ایک عورت نے کو ژیا نکر کھایا اور 
ال کیا کک کیا اس کا بھی ری ہوگا؟ آپ نے فرمایا: پاں! اس کا جھی ری ہوگا اور 
نسائی ناب مناسمک ارہ یا نل اگ۔ 
این سد الطیقات گب ری: ۸ /۵۵- 
.بخاری تاب الگار باب الاکفاء ڈا الد ین ۔سلم کاب ا باب جواز اختراط ا 1 
یل ۔ 
مسلم ساب 34 باب صحت امام إلتضما عہ الوداود تاب المناسک٠‏ جاب صفد پچ اه 


عورتِ اور اسلام 


ہیں قواب ےگا 

ایک انصار خائون ام سناىچ الدداع میں شری ک نہیں ہی مہیں۔ رع ۔ 
والیھی کے بعد رسول اش یچ نے ا کی وجہ ددیانت فائی۔ آتھوں نے عو لکیا۔ 
یں جک ال دوی انا تھیں۔ ایک پہ میرے شوہ راور مرا لڑکا 2 بے لے گی 
دسرے سے زم نک اب پاش ہددردیجی ںآ پا نے فرمایا: ابچھا تو تم رعضیان می * 
کراو۔ الد تعالی ری کے برابرتذاب عطا فرما گاب 

ایک اود خائونء جن کا نام ام صتقل تواہ ووبھی رج کونڑیں جا یں .7ء 
نے ان ےی رمضان بی عم کرنے کے لے کہا 

اں رح ء جو خواتقین ارادہ کے پاوجودر جعکوئیں جا یہی ا نکوپ نے ۶ 
گی تیب دی۔ سج کے سلملہ میس خواتی نک وسہولت ف را مکمرنے او ا نکیا رکاوشل ١‏ 
مرن ےکی بھی ہدای تک کی ہے۔ خواتین بفیرعرم سے بج غنی ںکریکین _ حطر 
بد ال بن عما نف ماتے ہی ںک ای کن نے رمول اول ٹپل سے عون کیا : می ا 
کو جانا چااتی سو کے لیے اپنا نا مکھوا دیا ےے1ء 
نے فرمایا :تم اپٹی گا کے سات ع کے لیے جائو کہ 

ان رف ےی ریبدت دمرو ک۶ 
سےبھی برذریضرانیام دہچاھیں۔ 
ا نلم ناپ اگ پاب ضج2 ای ۔ بدا ہکماب اماک باب فاص ہا ۔ 

جقاریء ابواب الصر 3ء باب حر فی رنضالنح ۔مسلموکتاب ا زا ینٹل لصرة ئی رمضان 

الود اد >کناب الناہکء باب ال رہ اس واقکیتتعیلات مل خاصا اخلاف ے ۔طاحظلہ+ 
عون امجور: ۲/٭۵۱۰۱۵ا۔ ہما ہے ڈرکودہ بالا دفوں روایات ایک ىی واقعہ سےمتحلقی ہور 
زیادہ امکان ا لکا جہےکہ یی دو الگ الگ داقحات ہوں۔ حافظ امن جرُفرماتے میں: اما ان یک 
اختلف فی کدیتھا و اما ان تکون القصة تعددت وہو الاشبہ: الاصا ٹ ٠یز‏ |جاٍ: ٣2۹/۸‏ 
مم بظارییہ اواب ال رء باب رع الضماء_ مل کاب ارگ باب سخرا راوخ مم ال ا یرہ 


۵ : مسلمان عورت کی تاریخ 


مححفیت عبد الہ بن عبئ با نکرتے خی کہ قیلہ ہین گیا ایک عورت نے 
رسول اریپ سے کن لکیا: میری ماں نے رئ کی ند ما تھی یکن ر رنے سے پیل 
تی ا کا اتال ہوکیا۔کیائٹش ا سکی طرف سم کی ہوں؟ آ پا نے فرمایاۃ 

خی مو آزاؤ لسر او اس کی طرف سے گے کرو۔ جاؤ اگر 


و رر ہے اھ ےت ںی تہاری ماں پرقرشس ہوتا ق تم ادا تکرٹں؟ 
لی ايک ذَیْنْ کت قاضیة ال رکا قرخ کی او ا کرو۔ اللہ ال کا زیادہ 


فُصُزْا الله َال اَحَقیٔ ازفا“ تج ےکا کا تقر اداکیا جااۓ۔ 

حفر تخل بن ماخ کے ہی ںکرفیلی یمک ایک عورت نے ول الد سے 
گہا: الد ے اپ بندوں پر کوف ترار دا ے۔ یل ممرے ہاپ کی عاکر 
ہوا ہے۔لیگن دہ بہت نڑ ھے ہیں۔سواری پہ یرجھ ینڑیں کت اگر یس ال نکی طرف 
سے ر ککروں ت کیا اکا فی ادا ہوجاۓگا: آپ نے فرمابا پا ادا ہوجات ےگا 

رین می ںتتفف اورت ناپبندیدہ ہے۔ ایک خائون نے ری کے سلمسہمیس یی 
روس انقیارکیا نآ پا نے لمت فرایا۔ 

عخقبہ بین عا رگ فی کی ہی ںکہ میرک مجن نے نذد ما یش یک دہ پیدگی یت اللد 
کی ذیار تک ری ںگی۔ اتھوں نے ججھھ س ےکا کیہ ٹیل ال باارے می لآپ سے ودیاقت 
ککروں۔ میں نے ددیاف تکیا تق آپ نے فرمایا: ال گ ضرور تنھیں۔ وہ پیر ل تھی 
جےے اورسوار بھی استحا لکھرے۔ (اپیک ددابیت میں ہ ےک ہآپ نے ال نذ رکا کغارہ 
اداکمرنے کے لے کہا 

ٹر کو اعادیث می الد تا کیا راہ یش سفر ےکی کیا گیا ہے اور بنا 
1ڑ ہ ےک ال تاٹی حاتی کی دعا قبول فرماتا ہے۔ اس لیے اس سے دع ا کران ےکا 
بفارگہ اواب العرۃء باب پچ ارآ وع الرل مل ءکتاب ارگ یا ب گن الھاجڑ رغ۔ 
7 فارگاء الواب الہ باب من نز رش الی لاحب _ 


عورت اور اسلام ۱ 1 


: ترقیب د یئ ہے۔ ایک مو تے پر حخرت ام دردا نے حضرت صخوان سے ہپ چھاک ہک 
آ پ کا ارادہ کو جان کا ہے۔ اکصوں ن ےکھا: ہاں! ححضرت ام دددائ نے الع ست 
درخواس تک کہ ہمارے بھی دعاۓ ترفرما ئے۔ یں ل کہ رسول ا 
فرمایا ہب ےک ہدش اپنے بھائی کے لیے اس کے تچیےہ جھ دع اکرتا سہے وہ قیو لک جا 
ہے۔ ا کے مس رہانے ایک فرشنتہ ا لک دعایرآ ٹل نکتا ے۔اود یڑا ےک الل تھا 
ہیں ھی اس خر سے نوازے_حضرت عفوان سکتتے ہی ںکہ یش وہاں سے گلا نذ پازا 
می حضرت الودردان سے ملاقات ہی آنھوں ن بھی رسول ال لت سے ای رک 
ردایت بیان فر ال 

رہ الن خو اح نکی عباد ت کی کیفی تت ۔ اپ ان 7 رلک 


چپ )رو 


ے ناپ الگ والدعام نل الدعا س2 ہر الفیب۔ ارکع ماج کاب الٹانک 
با رفنفل دعاءافاع۔ 


0 


مسلما نع عورتے 
(علم وفل کے میدان میں ) 


اسلام نےسلم دی نکی بڑئی فضیلت بیان کہ اس کے سیکجنے او رسکھان کی 
چائی تیب دیی اور ا ںیا ہ رر بت افزائی فرماگی۔ ا ںکا یک کہ بہت جلد 
م دی نکا ہر جج ہونے لااو بڑی یھی خمییں ا ریں۔ ان میں مر 7ے 
ری جھائیں۔ یہاں ددد او لکی یت ہمایاں خوا شی ن کا ذک کیا جا رپا ے۔ 


عخرت وا لت 
مععابیات می لحخرت عائٹ کا اکا مقام مب سے انا تا سھاپوکرا ای بھی 
ددودے چند ب یکو بی مقام حاصسل ر پا ے۔ ان کلم نل اور یر تک ال دور کے 
ماظیانپعلم نے اعتزا فکیا ہے۔ ان کے شاگرد خئ اود چھا عروہ بن زیی سے ہیں : 
لق صَحِبْث عَائشقة فمسَا ‏ من حفرت ھا کن کی صحبت من را 
رَیْث اَخدا قَطٌ کان َعلم بابَة یہ سو 
ُزَث وَلأَ بِقریْضَة وَلاَ بشتے ۔فراضء سنتہ شمر واوبعخرب کی 
ول بر ول آزوی لک ین ایام جار اود قپنل کے انساب دظیرہ اور 
الب وَلاَ بنسب ولا گلا و عقدات کے فھلوں, ػ کہ طب کا 
بی سیر اعلام األاء: ۲ /۱۳۹۰۱۲۸۔ 


عورت اور اسلام ۸ 


فرہاتے ہیں: ش نےکھا: الہ جان! آپ نے ط ب کی ےھیا؟ فرایا: جب 
تھی میس نی اکوئی دورانض ار ہوتا نے ال کا علاع جایا جاتا۔ ای رح لوگ ایک 
دو ےلوعطارع بات اور ٹیل اڑے ایتی۔ 
امام زپ رک فرماتے ہیں: 
یکو ہی وس سج 
2 پھررسول ال یچ ھکی ازوارج معاوزت سےع م 
2 عِلْمْ راج لی من کا بھی اس شں اضاف کیا جاۓ و رت 
گان خَائَشَة َزْسَعَهم عِلْماِ* عائاظ زیاد رق ہا۔ 
عطاء بن الی ربا کے ہیں: 
ماق خاش اللقَة الناس و حخرت عائٹڈلوگویں میں سب سے 
ہر رہہ کر ہوگافقء سب ے زیاد لم رگ وا اور 
الم النّاسِ وَ اَحْسَنَ الام رَايًا ا نی انل 
فی الْعَامّۃ 
امام ذٹیفرماتے ہیں: 
7 َعلم فی أئّے محمَدا ٹہ رسول ایل ین کی امت ل٠‏ بل ماما 
بل وَلاَ فی اليْسَاءِ مطلقا ِمرَأة سب دی معورتوں مش ان سے زیاددعم ول 
َعْلَم مھا“ کی عورت سے میں وافی یں ہوں- 
جن صا نے سب ے زیادہ ہیل ایلر لن ھکی اعادیث روای تک یں ال 
یں حضرت عائن کا بھی شمار بہوتا ہے۔ بی احادیت ایھوں نے براو راست رسول ان 
ے روای تگا یں حض احادیٹ ضض رت الویکڑ حضر تع حضرت اط نر سو 
بن ای وفا ہزرہ بن حر الال اور چزامہ بشت وه ےل نک رکھی رولی کی 21 
ان کا مردیا تک یکل تعرار دوٹٹرار دو و ول )٢۲٢۳٢(‏ ے۔ ان ین سے ایک 
حاکمء مسر رک گی الصحیحیں ؛کتاب مترند وت _و ری ٹم م٣۳ے+٦‏ / ۲۳٣٣‏ 
یز زڑی نخس اصبررک: ٣/٣۔‏ 
بی سیراعلام ء۱ /۱+۔ 


: ۱ مسلمان عورت ۔۔ علم و فضل کے میدان میں 


ت(٢ا)‏ احادی ضف علیہ ہیں ى] بناری لم دفوں یس موجود ہیں۔ ان کے 
وہ چون( ۵۳) احادیٹ اام بنفاری نے اود اُپتر(۹۹) ایام سکم نے الک انگ روابت 
یں با احادیث عدبی ٹکیا دوسریکتابوں یں لی ہں۔ 
خرت ام 22 
2 اون قرت امس“ نے بھی بہت کی حدرش"یں رسول ال یا ے 
و راست اورلاتض حودیشیں حقرت ااوسل او رنقرت فا سے پالواسطہ روابی کیا ٹیں 
نتس(ہم) سے زیادہ صحابہ وت لن ےے ( ہین می مرداورگورٹل دوپوں بی شال 
ان سے اعادی ٹف لک ہیں ۓ 
ا نکی مردیا ت کی تعداد ین سو نتر (۸ك۳) ہے ان میں تر )٢(‏ 
ایات ہار الم درنوںل شُل ہإں۔ ان کے علادہ "ین بخاگی شش ورس م 97 
جائی ہیی 
محفرت ام لمکا فقہ می بھی اص مقام تھا۔ امام ذف رماتے میں: 
حا تع نے بن فُکٰكسسا سححابہمیس جوفتہاء تے ان یں ان 
الضٌحَابَةگ کا ار ہوتا تھا۔ 
ام ان حطرت فص حطرت عڑکی صاحب زاد یں اھوں نے 
ول ادج اور' مقر گے رواہت جزرےث 11 ۔ان ے عدےیث 11 روایتٹ نز نے 
یں یں ان کے چھواگی ححضرتعبد ا ب نگ ان کےلٹڑ کے ہزرہ اود ا نکی گی صے 


زبیء سر اعلام الا ء: -٥۰۱/١‏ ۱ 
ر این جر تیب الچز یب: ۰۵/۱۳٥۔‏ 
إ زبی, سے امام لجا ء::٣‏ / -۱٢١‏ 


إ حال۔انق: ٣‏ /۳٣٢۱۔‏ 


عورت اور اسلام : 


اش الا نار مطلب جن دداصہ حارش جع دہب دفبرہ بارہ سے زیادہ افرادشائل ڈیں 
رت خخص نے ساٹ )٦٦(‏ عدشیل رولی کی ہیں۔ ان من سے 
عرش بای ول دفوں ل اور پر شف 2 مس کی ہیں 


رت اح 

20 مین :2 حی یرت ابو سفیا ع کیا صاحب زادگ تجیں۔ انھول _ 
ہرل ال جک سے نیلم )٦۵(‏ عرش روای تک ںان میں ے دو بخاری او“ 
دوٹوں میس موجود ہیں۔ ایک سکم می سںکآکی ہے۔ ان سے ال کیاکی جیپ الن کے پھا 
حخرت معاوی ان کے کھیے عبد الد بی قب ععردہ ملع زیر صعفیہ بشت شب اور زم 
نت اسم یرہ نے حدبیث ددای کیا سے بی 


خظخرت میمونہ بعت ا ارث 

2 وین میمونہ بشت الھارث اپتنے وہ راو رگم کے انال کے بین ے 
یش رسول الش یپ کے عقد می بپھیں۔ ؛ن یمتح حرت عائنتفرماتی ہیں: ”وہ : 
سب سے (یادہ خدا زس اورصلہ ئ یکرنے وا یتھھیں۔'“ بتھوں نے رسول ال جا 
سے بچھ الس (۴۷) حدیقیں ددابی تک ہیں۔ ان سے روابی کرنے والوں یں جع 
عبد ال بن ع با مب الہ بن شمدادہ بدا لن ین الساحب بیزیہ بن الم ( ےسب ا1 
کے بجھائے بہوتے تے) اان کے پروردہمبد الد خولاٰیء ا نکی بانلدگا نري انا ےآز 
کردہ فلام عطاء بن ار اورسلیمان ین نیمار اود علیہ بن تسلع وغبرہ ہیں 
ایلع تر تہ جب اذ یب: ۳ا /۳۷۱۔ نے ذبیء یر اعلام التطاء: -۱٤۶ / ٢‏ 
ذبیء سیر اعلام الخطاء: ۱۵۵/۳ ادن تر تز یب الچز یب:٢۱‏ / ۷۹١۔‏ 
این رالاصاى تیور اصحا ٣۲٢-۳۲۲/۸:‏ ۔تجزیب اج جب: ۲ا / ۰۷ ۴ من الدین اف زریق: 

غلاصۃ< رین المال: ۳۹۲/۳۔ 


۸ : مسلمان عورت۔۔ علم و فضل کے میدان میں 


نر ت لاہ بثت ا ار ث 

بی رہول الیل کے پا عضریت ع با کی زوجنشیں ۔کہا جانا ےکر علقرت 
مد یڑ کے بعد (خالا خواتن یس ) سب سے پیل الام لے ہنیس این عبدال کے 
: تکانت من اللمنجحبات' بش ىہ ان خواتین یس سےتھیں ہج نکی اولاد تیگ اور 
زی تھی ا نکی اوااد !یں فضل بن عمائرن مشجورفقہ عبد اود بین عیا مہ سس 
برالنن ارام حیڈیں۔ ان لن رے ہرک نے ناموریی او رمزت وشہرت ناصن 
ی۔حخقرت بای روشنہ اور شبٍہ کے روژو کا ا جا مکرتی تھیں۔ ہیں سے ال کا 
گی او رت کی کا انداز ہ کیا جاسکنا ہے۔ انھوں نے رسول او یج سےتمیں(٣)‏ 
مادیث روای گا ہیں 


نخرت ام 0 بت ای طالبٔ 

ام پا ول ال شی کی پچ زاداورحفریت گل کی اتی ہہ نگھیں۔ رن کہ 
کے بعد اسلام لان والوں یل ا نکا شر ہوتا ہے۔ الن سے صحابم ستہ اود دوس رک کنب 
ریت یس پچھ ایس (۴۷) حدنشیں دوای تک کفا ہیں۔ ان سے روب تکرنے والوں 
لان کے بیوں اور پاژں کے علاوہ دوسرے اصححا بگھی ہیں 
نخخرت اسما نر بت الج 

حرت اسان حطرت ابومک کی صاحب زادئی اورحخرت زہبڈکی ببو یت٠یں_‏ 
زیم للاسلام ہیں۔ ان سے پیےصرف ستزہ (ےا) افراددوات اسلام سے رہ ور ہوئۓے 

این عحبد البرہ الاستتیعاب: /۴۹۱۔عفی الین افخ زدگیء خاصۃ تذہیب تیب المال: 

۳۹۲/۱۔ 


۱ابن تہ الاصاب: ۴۸۹۰۴۸۵/۴ فی الدین الفزدگیء خلاصت تذہیب تیب الگمال: 
۳/۱ ۰۷ ٢۴۰۔‏ 


عورت اور اسلام ك۳ 


تے۔ انھویں نے رسول انش گج سے بہت کی عدتگیں روابی تک ہیں۔ النع سے مج 
صحابہ و تا لین نے مہ عدہٹٹیں دوسروں کک بچائی ہیںہ ان بیس سےجض کے نام 
ہیں: ان کےلڑ کے عمپل اد بن زین ان کے لیوتے ‏ عب اید بن عباد من بد اش رت 
عبد ار بن ع پا ءصشیہ یقت شبہہ فاعلمہ یعت منذد النا کے آزادکردہ خلا م الد جن 
کییسانہ ان کے پوت عباد ین جمزہ دیرم 
ان 1 بات 1 تعراراٹماون (۵۸) ے۔ انا یس سے تیرہ (۳) ہخاری او 
مل رنوں ٹیس یں ان کے علاودصرف بخارگی بش ا ےلم ٹن چارءیشیں ہیں 
نخرت خولہ بعت 2 
خولہ بد تگگیڑ کے بارے میں علامہ این عبد الہ کے ہیں: 
اث إِمْرَأة صَالِحةاضِلفت - وہ اک تک اور فاضل خائو نتیں_ 
تفر تج ر می نعبدالحز ان سے ایک عدیٹ ددامت نے ہوئےفرماتے ہیں: 
رَكَمَتِ الْسَرْأءْ الشالِحء ‏ غلہ بت عم نے جو اک سار 
وه بن مت خاق نشل, یا نکیاے- 
اس سےمعلوم بہوتا سے کہا نکی تی اور نکائ م لیم شد تھا ان ے 
پنددہ (۱۵) احادیث روابی تک اگئی مؤں 2 


مہو رسحابی ہیں ان ۷ تلق ااصار سے تھا میں نے ہرل ا مل بے 


زبیء سر الام الا ء: ٢‏ /۲۰۸- 

٠ ۲٠۳٢/٢ حال سان‎ 

این عپر البر الاستیعاب: ۲ /۲۹۰۔ 

تیگ ءکباپ الب ردالصلۃء پاپ باچاء نل حب الولد- 


ے‌ 
ے 
2 
٤‏ 
شی مخ الد ین اف ریہ خلاصت ت جیب تذ یب اگگرال: ۳۸۰/۳- 


۸ مسلمان عورت۔۔ علم و فضل کے میدان میں 


یس )(۰م) حرشیں روای کی ہیں۔ ان سے رواییت عدی ٹکرنے والوں بی ںحطرت 
ں بن مال ء نج بن سی رنہ حخصہ بضت رین اودامفررخ٘ل اورحنض ویر ہی ںی 
ضرت فرلجہ بقت ما لت 

حرتےعان نے اپ رو رظات ٹس ایک باب کی زوا کی یاد پر ایک 
گی م ہکا فیصلہفریا۔ 

زیینب بن تکحب بن تج ہبی ہی ںک رت الوسعید خدر نکیا بن خرییہ 
ت ماک نے انا سے بیا نکیاکہمیرے شو ہر ہے انتقال کے بعد یس رسول او پگ 
ا خدمت ج کی ای ھن کیا کہ مشھے اپنے خاندان والوں مس عد تگزارنے گی 
انت دک جائےء ال لی ےک شوہ رگ کوئی مکا ننئیں تھا ین رسول الیم ٹلا نے اس 
ے اوجودعم دیاککہ جہا ہیں اپنے شوہرکی وفنا تک خر ی ہے وؤں عد تگڑارو- 
خرت عاع کے دو خلافت یں می مستلہ ان کے ساٹ ےآ یا نے لوگویں نے الع سے 
رے ال واق ہکا وک رکیا۔ انھوں نے جھے بلوایا۔ میس کی وہ پل لوگویں کے درمیان 
ہوۓ تے۔ انھوں نے بجھ سے واقہمعلو مکیا۔ جب میس نے بتایا نو آنمیں نے 
ل عورت کے شوہ کا اثقال ہہ ہکا تھا ا ےکھلوایا کہ وہ ای چلہ عدت پور یکرے 
ماں اسے اپنے شوہ رکے اظقا لکیا خی سے 
نس دک رححامیات 

سی دورکی می وگگری حاات کا ٹنیک ٹیک ائ از مکرنے کے لیے معرویف 
یتوں کے مات خی رمح رو خصیتقو کا مطال ھی ضردری ہے۔ ای سے ال دو رکاج 
سان ےسا ہے اس سلسلہ کے دو ایک داقعات ذیل میس می سے چا بہے ہیں: 

صخرت ام ور کے بارے مھ س؟ ٴا ہ ےک ہاھوں نے رہن مع کیا تھا۔ یک 
ائن گر تذ یپ الچڈ یب: ٠ ٠٢/۱۳‏ ۔ ری *خلاصت تہب تز یب اگرال:۳/ ۳۹۴۔- 
لد راؤ کاب اط ق.: اب نْ تر عجی ”نقل تخل کے لے بھی چائے ابن سعدہ اطیقبات؟ 


كء۳۷۔ 


عورت اور اسلام 


اور رایت مخ لآ تا ےک دق رآآن پڑشی ہوئیتھیں۔ رسول ایل چھ نے ان س ےکی ! 
کمردہ اپنےگھمردالو ںکی امام تک یں۔ ان کے لیے ایک موذ نبھی مقررفرما دا ول 
سول اش یکا نے ایک بوڑڑی عورت س ےکہا ک ہکوکی بڑھیا جقت می ں تھا 
جال ۓگیا۔ اس نے سوا لکیا: آخر و کیو ںنییں جال ۓےگی؟ ریت اف رماتے ہیں | 
ودقرآن پڑھی ہوگ یی (اں لیے ) آپ نے اس سےکہا: 
اما رین بن اشران إشا ٴا قرآ نکی بڑصکی ہو۔ ایل نے 
اَنْتْسَانَاهُنْ اِنْشْسَاءٗ فَجَعلْتَامْنٌ فرمایا سے چم نے اع عودتو کو ار سے پیا 
ابُکارا٢‏ کیا ہے اود ایل پاکرہ بنا دیا ے۔ 
مطلب بکہ بوڑھی مور نبھی جوان ہوکر ججنت میس جاھی ںگیا۔ 
رسول ارچ نے ححفرت کو رائطہ (وشت حیان ) نا می باندکی خطا ک تھی 
روایات شُ لآ ےک عفر ت نے ال ےت رن می ری توڑی می نیم د اتی 
رن و عدیث دی نکیا اساس ہیں۔ ان ہی دو ذرالح سے اصلاً دن ٢‏ 
تقعصیاات ملق ہیں اورراہ فرائی حاصل ہو ہے دی نکی اسان ںکو وم مکمرنے اود اک1 
نیما کو عا مکرنے یں صحابیات کےکردا رک کسی قزرتفحیل کے بح عہد این ۲ 
مض بن خو اق نکا ذکرکیا جا را سے یکم ول میس انا ایک مقام صتیگہیں۔ 
ام الدرداء ۱ڈ 
ان بین ابو العامکہ اود امم ابر بیا نکرتے ہی ںک ام ددداءکی پرورل الوود' 
ن ےکیای۔ وہ چھوٹی سیت ںکہ ببس (لبا اکرتا جس سے س بھی ڈھک جاتا ے 


این سعد اللیقات اکب ریی: ۸ /ے۴۵۔ این عبد البرہ الاستعاب: ۵۱۹/۳ء این ججر: الاصا, 
۴۹۰۰۸۸ ابو لوت المصاقع ءکتاب الادب٠‏ جاب المزاحع توالہ رزیی- 
این اخیرء اسد الفابر: سے /١۱۰۷۔‏ ابع ججر الاصاب نی یز اجا: -٣ ٣/۸‏ 
گ حضرت ابودردا مکی دہ بویا ںشلء وو لکیکنیت ام الدرداہتی۔ ان یس جو بو یتمیں دوصھا یت 
اورگچوثیٰ تبیہ کا کا نام تجرہ اور گت کا یہ تھا۔ نووکیء یذ جب الاساء واللقات: ۵۹/۳ ٣۷٣۰۰۳‏ 


م۸ مسلمان عورت ۔۔علم و فضل کے میدان میں 


نے ہوۓ ححخرت ابوددداء کے ساتجھ آیا جا اکرتی تھیں۔ مردو ںکی عفوں میں نماز 
ےکھڑی ہوجائٌں- تارپیں سے علتیں میں جن جائیں۔ جب بو ہیں 
ٹر ااودرداء کیا ماکم عورلوں کیاعفوں ٹین شال جا و 

ان سےعلی شف کا اندازہحوف ملع عبد الد کے ایک بیالن سے بوتا ے۔ 
مات ہیں: ہم لوگ حضرت ام ددداء کے پا یٹ ہوۓ تے_ جب ژیادہ دقت تگزر 
ما ہم ن ےہاک ہآ پکوہم نے ہت پیا نکیا ۔آپ اتا سو ںکردری ہو ںگ؟ 
ہوں نے جواب دیا: ا: مرا متعید پرکام ٹیل الڈ کی عبادت رہا ہے۔ ملا میا حبت یں 
ھن اود ان سے بت و براکرہ سے عتنا ون حون ہوتا ےکک بھی کام 
انی ںمحسؤں ہوتا۔ پر دہ ردے میں پک یککیس بورای نخس سے تق رآ نکیا ملاوت 
کے لی ےکہا: اں نے وَلَقَذ وَصّلمَا لم الْقوْل ا آیات بڑمیں- 

فرایا: :سپ ے نظطیلت والا عم اللکی پان ے۔ 

عبد ریہ ان سے پڑت تھ۔ فرماتے ہیں: ایک دن تق پر بیآس: تعَلَمُوْا 
جَکَمَة صِعَارَانْعلَمونهَا کجازا (کون یس کرت و داپاگ کدف پڑے پوکز رو نل 
لماگے) ان ٹل َارع ححاصذ ھا ور من یا شی( ہرکسان جدجھی اس نے 
ھا یا برالویا ے ضرور ا ےکا کا) 

آنھیں نے حطرت ابو دروائزم حطرت سلرمان فاریء ضرت فضالہ بن عبیڈ 
عثرت الاہریآ' طرۓع لب یی 2 اورنضرت عاکتڑے حدی ٹکا روای کی ہے 
افظ اہن تر نے الع سے عحدیث ضنے اود روابی تکرنے وانے أنیھس(۱۹) بزکرکیں کے 
مر کے بحدرککھھا ےک الع کے علادہ اور لوکوں نے بھی الع سے دواایت عدبی ٹکی سے 

امام دوقی فا ہیں: 
اکن رہ تز یب الچذ یب: ۱۳ /۴۱۳۔ 
. نودیء تہز یب الاساء واللغات: ۳۷۰/۲ء۳۷۱_ 
این ججرہ تیب اذ یب: ۴۱۳/۲۔ 


عورت اور اسلام ٦1‏ 


روّی ھَهَا یی من کیا ان سے اکاب ماش نکی بڑی تنداد 
العَابعیْن " ا یت 
امام ذئ٘ی نے ا کا کر ان الفاظ می سکیا ے: 
انت یھ عَالِمَةٌ عَابِنَةً وو قیہہ عالمہ عابدد رین وقیلء 
کک میا واحت ین علم اور بڑئی نل وا یتھیں_ 
وَافِرَة الْعَقلِ٢۔‏ 
رہ بضت کپر ای 
سے تب والڈ گور ٹل 2 اورا نکی انس تلامرہ می تیں من ۹۸, 
یش وفات پائی۔ نعوں نے حضرت عائٹ کے علادہ اٹم ہشام بنت حارشہ جب بن ت7 
او رتخرتے ُ حب حنہ بن قنل ےکی ,2ی ہے۔ انا سے ان وش 
کے اکابر نے اعادیت دروابی تکیا یہ جن ٹیس امام زہرگیاہ عبد ال بن انکر بن 7* 
گی بن سعید امصاریء عروہ بن زیں سمان مین ہار او رگروںن دیار کے ۶27ا 
ہیں ا نکوفقہ اور دو تا نکی خوا ۰ نکی سرد کہا گیا ےت 
ا نکی مکی عظر ےکا انرازہ ان رالیں ے ہوتا ہے جو اکا بر مح رین نے ال 
کے بارے میں ظاہرکی ہیں۔ اب نین سکتے ہیں : خنۃ بت تی دہ قائل اعاد اور تج 
ہیں۔ اتد بن شحھ سککتے ہی سک یس نے این متا نکو بببت بی شان دار الفاظ میں ا کا 
گرتے متا ے۔ میں ن کہا کر حضرت عانٹڑے روابی تکمرنے وانے تن او رفا 
اقناد لوگیں میس ان کا شر ہوتا ہے۔ این حبان وی نے ھی ا نک تق کہا سے 
این ضبان کے ہی سک رت اتی روایا ت کا سب سے زیادہم ان ج یکو تا 
لا نوگیء تیب الاماء واللقات: -٥۷٣/۲‏ 
زی ترک رة اففاط:ا /۵۰- 
صفی اللدین خمزرکیء خلاصت تل جیب تز یب اگمال: ۳۸۸/۳- 
کہ بیفی حدی کا ایک اصطلاح ہے۔ اس طر کی اصطاحات کا پور ملہوم تجمہ سے | 
نی ںکیا جاکتا۔ 


ء۸ مسلمان عورت ۔۔ علم و فضل کے میدان میں 


حفرت مفیان ٤ر‏ فرماتے ہی ںکحضرت عاککٹڈے روابی تکرۓ والول عرہ پت 
بد الشیء ت2 نشج اورعردہ بن زبی رسب سے زیادہ قائل اعاد ہیں۔ عب اشن بن 
ام کے پارے میں ۰1 ےکہ وہ نظرت مانٹی روایات ان سے ددیاف تکرتے 
ہتے تھے حررت عمر بن عبد الحزیز نے مد من عبد الک نکوککیدا کے حضرت عا ئک 
وایا ت کا الع سے زیادہ جاتۓ 27 یں سے 

این سع کے ہیں: وہ عال تھیں حر عم من عبد الزیز نے الوکر بن مر 
ان تن ممکوا نکی اعاری کک ٹکاگم دیا تھا 
طصم بشت ‏ رن 

پارہ بی ںکی عمری قرآ نکتلیم سے فارغ ہولگیں۔ ي بن سی ینہ اس 
ان مالک ام عطی۔انصادب ام راہ ابد العالیہ اب ذبیانہ رک بن زیاد اور حر تن 
ری کی والرہ تہ رت نف کی اتکی ہے۔ ان سے مھ من سی رنہ گا 
2 الاِل؟ ایب ختالٰ, الد الفزام این عونع) جشام مین حیان جیے بزدکیں نے 
87] گا ہے۔ 

نام مخ اع کے پارے میں فرماتے ہیں: ”نت تی؛' (امائل اعخباد اور 
تحت ہیں )۔ ابن اع ن گیا ال کو جات یں 


ایال ین محاویہ کے ہیں: 
َا َفْرَكُٹُ ادا أقضل خی میں نےکی ایخ سکونیں یلما 
حَفْصَةً سے خصہ بنت سی رع سے بر رکہوں۔ 


ا١ھ‏ ٹل وفات پلَّيّ 


ایی تر تیب الچز یب: ۳۸۹/۱۳۔- 
ابی سحں الطبقات: -٥۸۰/۸‏ 
ای نع تر تیب الجز یب: ۱۳ /٣٣۳ء۳۷۱-‏ 


عورت اور اسلام 07 


عا تشہ بعت سعد می ال وتاش 

عائقہ بت سعد نے اعبات اشن میس سے چ یکو دیکھا تھا۔ فرباٹی ہیں 
کن یس جب یں ان یس سےمسی کے پا چان فو دوگود یس بٹھا یں اود برکست 
کی دعائیں دیتیں۔ معلوم ہوتا ےک لوکوں بس ان سےعقیرت پائی جائی شیا عیب 
بن م ذوق کے ہی ںکہ میس نے مد کے باہرایک نان نکو دیھا۔ الن کے ساتھ جا 
خواقین تھیں ارح مل رجیتھی۔ ددیان تکرے برمعلوم ہو اک وو نقرت سعر بی ا 
وفا سکی صاحب زادکی عائکشڈ ہیں 

آنھیں نے اہین والدحضرت سعد بن ال دق ارم وز ات ور نے 
1 ہے۔ان سے روابی تکرنے والوں مل جعیر بن پر التن, ایب ختال نگم :7 
عیب خزبیں ال لاد اہجرین مار عبیرہ بنت نائل اود امام اک می فسیتیں رف 
ہیں یل کت ہیں: امام مال نے ان کے علادہکصی اود مانون سے روابی نی ں کر 
ہے۔ ائکن حانع نے ”اتل ا کا ڈگ کیا کا ن بھی اا نکو ٹن قرار دیا ے۔ 
ےاا- ٹل 7 لا 
وا کہ بت لح 

ماشہ بعت طل رکا والرہ حظرت الگلی صاحپ زار مکل ہیں اھور 
نے ححفرت عائٹڈڑ سے عد بی کیا ردایی تک ہے۔ الع سے الع کےلڑ ک ےلج بن مد اہ 
حبیب می نعمردہ ان ک ےکی علیہ بن پاء ایک او ریت محاومہ بن اسحاقیء موک جن عبیر الہ 
فضبل بن ھی منہال بن عمردہعطاء بن ال ربا اددعرد ین سعیدر نے روای تکی ے- 

ای مین ان کے پارے میں سیت میں خنۃ بج (قائل اعاداورجت 8ں 


ا ائلی سر الطبقات: ۸ /ے۴۷۹ء۸٦۲-‏ 
این تر تھز جب الچز جب: ۱۳ /۳۸۷ءے۳۸۔ 


۸ مسلمان عورت ۔۔ علع و فضل کے میدان میں 


رای ن‌جان نے بھی یس ات میں شارکیا ہے۔ الو زدعہ دنق یمحر تککتے ہیں: 
حات علق الا انی لوگودنے ان کےعم ول اورادب 


۰ و اخلاقی کا وچ سے ان سے عدیث گا 
ابا رای تک ے- 

رہ امن 

رہ ام ان بصربی حخرت ام سل گی باندیتیں۔حفیت ام سل او رحضرت 
انٹڑے عدی ثک روای تک ے۔ان سے انع کے دولڑ ےن بصریء سعیر بصری 
کے علادہ لی بن زی بن جدعانء معاویہ بن قرہ مرن اود حخصہ بت سی رن ن بھی 
دابی تکیا ہے۔ ائن ضبانع نے ات میں ا نکا وک کیا سے 

اب م دورتانن کے برک یلین خواتی نکا زکرکریسل ںا 
پرہ فی 

الپ بیت یں ۔سلمل نب یہ ہے۔ نف بعت سن بکن رید بک نان مکی 
1 بن ال طالب۔ اپنے شوہرا اسحاقی ین ضنفرااصارتی کے سات ہمص رتایں۔ لک یل 
رہ ےک دہ اپنے واللدنن کے ہم راہ کی یجھیں_ علامہ این خلکان کھت ہی ںکہ فیس ٠‏ 
بت تیک اور خدا تزیس خاقو ن تیں ۔علم دض ل کا ہہ عالم تھاکہ ردایت ہ ےک لام شا 
عم یھ ا نکی خدمت میں گے اورعری ٹک اہام وضو فکا اخخحال ہوا و جناڑہ ای 
ےگ پپھا گیا اورانھوں نےگھ ری کے اندر سے نمانہ جنازہ پڑھی۔ ائن خککان فرباتے 
ں:مصریی ںکوان کے ساتھ بڑا اخنظادر ہا ے۔ ۰۸ھ ٹل وفات ال 
عت مسعیر بن آمسیب 

حطرت سعیر بن إمسی بب کوسید الا ٹقا نکہا جانا ہے۔ ان کے ایک شاگرد 
. تبزیب اجز یب: ۱۳ /۲۳۷ءء ۲۳۔ 
۱ تیب ا جذ یب: ۱۲ /١۴۱۔‏ 


ٰ 


ط ابع خلکائنعء دفیات الاعیان: ۵۷/۵ء۵2- 


۰ 


عورت اور اسلام 


ااووداعہ بیا نکر ۓ ہی ںکہ یل حخرت سید بین مب کے دریں میں شخریک ہنا تھا 
ایک عرتبہ اما انفاقی ہوا کہ چتر ون تک میں نے جج ے نہیں دیھا۔ چپ دُل دوپا 
پا پ ما :کہاں تے؟ جس نے عن کیا وی کا انال ہوکیا خھاء اس وجہ سے حاط 
یں ہوسکا۔ فرماا تم نے می اطلا نشیس دئیہ ورش ہہ مجھی جنازہ مل شریک ہوتے 
ٹپ یں اشن لا فرمیا: کیا دوسرکی شاد ینمی ںکی؟ بن نے عو قکا: اش سی 
ہو ںآپ پہ۔ الخ رج بکوکین الگا دےگا؟ ممھرے پا و رون ددرئم سے ذیا 
یں سے فرمایا: بی تمہارا میا ںکرادوں؟ بتاک کیا تیار ہو؟ شیل نے ہا نکہہ دیا 
احطرت نے مر وصلوۃ کے بعد ای لڑکی سے مبرا نا ںکردیا اور ووٹن ے2 
فبایا۔ جب می س گا سے اٹھا خی کے مارے میرا جیب حال خھاک بح ہکچھہ می ںنکر 
آدہا تھ اک ہکیاکروں کیا ہکروں؟ گرب کسی سے تقر لی ہکی سوج رہ تھا ۔مخر۔ 
کی نماز پڑھھی۔ ال ون یس روزہ سے تھا ۔کھھانے کے لیے ٹ لھا بھی تھا او رکھانا بھی یکر 
۳ ول تاک ری کے ورواز وکھنہان ےکی ہوا زہآگی۔ میں نے تع ھا جواب ما 
سیر بس ایک لہ کے لیے سوپجنے لگا :کون سعیر ہوسکتے ہں؟ ہردنجنش میرے زہر 
می ںیا ہن س کا نام سید تھا اور ٹس سے مج وانف تھاء یکن حقرت سعر بن میتب؟ 
طرف یراہ ن٭عئ لنییں ہود۔ اس ل کہ چالس بیں س ےگھراورمسحچد ہی کے درمیا 
ا نکی آھد و رف ت تی ۔کہیں ۓ جات ےنیں جے۔ جب باہ ر للا دیکھا کر حر 
سید بن میق بکھٹڑرے ہیں۔ د ریت بی پہلا خال می ہوا کہ شاید خر تک راے بد 
ئی ہو عون لکیا:الوشھا کپ ن ےکیوں زجمت فرمائی؟ اکر اطلا کا دی تو میس خو 
عاضر ہوچاتا۔ فرمایا: نیل! اس وقت تم ال کے زیادہ سفن ہدک تہادے پا جم 
آئیں۔ ش نےتشری فآ ور یکا وچ یو ریغ جھان آری ہو ۔تہاری غاد 
ہیی ہے۔ اپچھا نیس لگا ہت خی ہدیا کے ییہاں ر۔ بہار ہیی ہے۔ اسے _ 
جات یں نے دیکھ اکم دہ ان کے کی ہکنڑی ہے تچ راسے انھوں ن ےگ رکے ندرک 


مسلمان عورت۔ علم و فضل کے میدان میں 


بر ورواڑہ بنرکرکےتشریف نے جھئے۔ لی شم ےکر پڑگی۔اپ ٹس نے بہت 2 
کر پال پڑاں والو ںکو1واز وی سب نے دیاف کیا کیا بات ہے؟ میں نے 
ہا ید بن یتب نے اف ڑکا سے میرا فا عکر دیا ہے اود اسے اس اتک جا کر 
بجی گے ہیں دیکھو برمیر ےگھرموجود ہے۔ ناں چرلو گآ نے میرک ما ںکوخر 
ھی تق ددکھی کی ام د ےک کہا تین دن کتک می اسے سنوارو ںگیء پچھراں کے 
ترااے اھ لان تین دانع کے إععد جب یل نے اس دیکھا تو وو سب سے خوب صورت: 
رآ نکی بہت ہڑگ عافئل ول اللّر تل کی سن تکی سب ے زیادہ وانف او رہم 
ےم وق کی پان دا لگا۔ ایک 'ہینہکک نہق سعید بن صیتب میرے ا تخریف 
اے اود نہ شس بی ا نکی غدیمت شش حاضرہوسکا۔ ایک گہدنہ کے بعد علقہوریس مل 
اہ سلا مکیاء میں ےے سلا مکا جواپ دیا اور یکول بات نئی لکیا۔ جب سب لیک 
7 ےئ اور میرےسواکوئی اتی تہ( تق کہا لک یکا کیا عال ہے؟ میں ن ےکہا: ایا 
وست پندکریں اور نو ںکو نالپند ہو۔ فر مایا اگ ہی ںکوئی بات کے تم یں کی 
ادی کچھ یکر کے ہو ححقرت سعیر بین مین بک یل وش یک اں کے لے غلیفہ 
فقت عبد الیک بن مردان :نے اپنے لڑکے ویر کے نے اس وقت پام جیا تھا جب 
ں نے اسے ولی عہدمقر کیا تھاہئیکن رت سعید بن ماب نے بیقام ردکردیا۔عبد 
نک خطلف تی ری کرت رہ۔ بالآخرسردی یس ایس پٹوایا وھٹا پانی ان بر ڈادیا ,ان 
ل پرنگی و ہآماددکیں ہو ےا 

ای واقعہ سے زیل نی بین 1ت ےک ہخادی کے جر درے رن اإوودام 
نب علققہ دیں میں شر تی تار یکرنے گے ذے صاحب زادگ ت ےکہا: جس 
لک جم ون (تثریف ری سعد بن صیقبہ ہویم دیتے ہیں وہ یں یں 
ے ریں) : 


ر اہن خلکانء دفیات الاعیان: ۳ /ے۱۱۹-۱۱۔ 
لگن ا احعء اگل۱ /۲۱۵- 


عورت اور اسلام ۳ 


ال واعہ می عبرت کے بہت سے پہلو ہیں لن دوپپلد بہت نمایاں ہیں 
ایک نے یں سے حظطرت سعیر بن صیقب کےکروار 7 پل ہ ےکہ یں ےے ا 
لڑکی کے لیے ایک شپنشاہ کےلڑ کے کے متقابلہ یس ایک طال بم مکو تب دگی۔ درک 
بات یرکہ ایک لڑکی سید بین یق جیے ادام وقن کی عم میس حیاب تچھ یکرکتی ہے۔ 
ریف بشت اإوالق ام 

۳٣ھ‏ ہیل میا پور ٹش پیا ہیس اور ۵٣٦ھ‏ میں ممشالور بی مل وفات 
پالی۔ ابکن خلکان ان کے بارے میں کلت ہیں : 

عاڑخیں, کاب علا ءکی ایک جشاعح تک صحبت ائائ ی٠‏ الع سے عدیث پڑگ 
اور دوسرو ںکو حدری کا دی اور سند دی ےکی اجازت عاص لکگی۔ اع کے اسنہ مار 
اوالقا حم غمیشا یی الو القاگم زاہر الا یر وجے الا ظز ابو الغتح عبد الوہاب وٹ 
دافل ژإں۔ ا نک روایت عدی ٹک اجاززت حافظہ او سن عبد الفافر الثاری اورعلا 
ابو الا گمود بن عمرالشش بی صاح بمشاف تیے اسا ذو سے حاص٥‏ ل تھی فرماتے ٹر 
20 ان کےسللے سے اجازت حریٹ عاگل سے 


شہرہ بثتٹت ا یاشر 

عال رجھیاتھیں اور اھ یکا بھی ابن خلکان کت ہیں : 

سَوع عَلَيْهَا عَلَق کییْڑ بڑکی تحدراد نے ان سے عد بیتث بھی ہے 
فرماتے ہیں: ا نکوزسارع عالی حاصل تھا_ مطلب کہا نک ال طر کی سند حاص۹ لت 
2 میں ہیل ال کہ ے عدیث روابی تکرنۓ نع راولیں کا سل یکم بوجا؟ 
ہے۔ محدشین کے نزدیک یہ بہت ڑا اقیاز ہے۔ لھوں نے اپ وقت کے بپڑڈے 
بڑے اسا نزو ےلم حدبیت حا لکیا تھا۔ این خملکان می کے ہیں: 

۱ و اشْتهَرَ ذِكرْهَا وَيَعْدَ صِيْتْهَا ا کا با رجا ہوا اود دورتک ا نکی شر ت گنی 


ان خلکانء دفیات الاعیان: ۹۲/۲- 


اف مسلمان عورت۔ علم و فضل کے میدان میں 


۴ھ ُل وفات ال 
اپ بھمعوا مکی کا ایک واقعہ ٹن یکرتے ہیں۔ خلیظمنصو ری لڑکی اور 
رون اش دکی بیو اشم عفر کے عالات می سآ تا ےک اس ےگل میس سو پاندیال 
ینہ وس کی مب ماف ئآ نی ان نشین نے ایک ےک شزوکی اکن 
وزانہ جن پارے پڑھے۔ ال یگل سے قرآ نکی علاو تکی گ1 واز اس طرح گنی تی 
یی شہد کے چمعد سےکھیو ںکیآوازآ لی ے 
۱ جس دو رکی باندیاں حفاظ قرآن ہولە انداز ہکیا جاسکتا سپ ےکہ اں دو ری 
ریخا نلم ول کےکٴس مقام پر فائز رجی ہو ںگی۔ 
یف )رتو 


ان خلکالنء دفیات الاعیان: ٢/١ے۱۔‏ 
این خلکالنء دفیات الاعیان: ٢‏ /٭ے۔ 


مصلران ٠ورت‏ 


(دیتقیء گی اورسیای غدمات) 


دور او لکی خواقین محاشرے سےمنفع با تھا نیو ںتھیں_ وہ اس کے 
کی سے دی لیقی ری ین۔ انھوں نے وت ویلغء معاشرنی خدمات اور سای 
الات یل اہ مکردار ادا کیا ہے اور ابو دی نک یکوششوں میں بھی حص لیا ہے۔ 
تندہصفیات میس ا کا ایک جحلک دیکھی جاسکتی ہے۔ 


ڈٹ وین 

اعلا مکا مان با نہ مانناکوئی معمولی واقننٹیش ہے جس کا انسائی زنرگی برکوگی اڑ 
پڑتا ہو لہ ہے اتا پڑ واقع ‏ ےکہ ال سے ویا دآخر تک کامال وایمنۃ ے۔ جھ 
س اللد کے ال دی نکوقبو کبس ا نکی ذے دای ے کر اسے دوسرو کک بچیائیں 
.دنا پہاں کا ابمیہت وات کریں۔ بہڈے دارگا عردو ںک بھی ے اورگودتز نکی 
ا۔ چزای چر دنا شش اسسلام ای رع بی اک دوفول نے اس ذے دار یکوشمو ںکیا 
ا لکو ہو داکھرنے می ںالک یئ ۔مسلمان خواین نے مکل تین حالات می بھی اس 
کو جس طرں انجام دیا ا کا اندازہ ڈیل کے دو چار واققات ےہا ے٠‏ 

حضرتے کی والرہ ام ت٣ا‏ اڈ ٭ھ اوھ اور دانائی میں شور 
یں۔علامہاءل کید البْرٗان 20 پارے مم ںککحت ہیں: 


عورت اور اسلام ۱ 


کاٹ مِنْ عُقلاِ السا عاقّل اور داتا گورتؤلں یس سے آیکتھیں۔ 
امام دوک فرماتے ہیں: 
کاٹ ین اض ات لم رفنل دای صحابیات ٹل ان کا 
الضّعَابيَات مار ہوتا تھا 


۴6 اورتزيٰ میں بھی ان کا بڑا اونحا یا مقام تھا ۔ ایک می سیل الد یلیج ۔ 
فرمایا: شش نے جن تکا مشاہ ہکیا۔ وہاں مس ےگس یکا جا پک شل نے ددیاذ 
کیاکمہ بیس کے مل ہکیآواز ہے؟ بتایگیا:عمیصا (م )کی واڑے۔ ٣‏ 

ینہ یس اسلام تاٹیا تو نھیں نے سیق تک اود اسلام نے تیں۔ اس وڈ 
ان کے شوہ ماک ضر رین سے باہرتھے۔ وائیں ہدنے و ئیں ا الم بھا۔“ 
کیامے دین ہیگئی ہو؟ جواب دیا :نیس ! مم مان لائی ہویں۔حقرت الس : 
ال گور بی تھ۔ بھی فا لہ لے اللہ مححئمے رشزل اللہ بیلڑا سکعاثی تھھیں_ 
دی یدک شوہرن ےکہا کہ میرے پچ ہکا بھی دبینع نرخرا بکرو کھا: ا کا دین خرا ب نی 
ری ہیں بل دی نیتم دےری ہوں)_ 

شوہ رک اسلا مکی کرت رق رہیں ہلان آنھوں نے قبو لک سکیا ۔خزا ہولرش 
چلے گے ومیں ا نکا انتمال ہیام 

شوہ ر کے انتقال کے بعرمضچورصحالی حضرت اب ول نے ان سے نا کنا جا 
من اسں وق ت کک وہ اسلا منییس لائۓ تھے۔ ام کیم نے الن س ےکہا ک ہآ پ مش را 
یں اور بی اسلام لا گی ہوں۔ ج بک فآ پگگیا اعلامتیں ےآ تے ہم دطوں 
یا غییں ہوکنا۔ ا میم نے ان کے سان بس طر تر کی تردیدکی اورن حا 

لم اہ نعبد البر الاستیعاب: ۳/ ۴۹۳۔- 

ٹوویء تیب ا(اماء واللغات: /٢‏ ۳۷۳- 

جفاری :کاب فضائل اصحاب الیء باب من قب حیلم کاب الفضائلہ باب فضائل ام 
جم از نعبالیر الاستیعاب: ۲ / ۴۹۳- 


ء۹ دینیء سماجی و سیاسی خدمات 


اہ تکیا ا ںکا وگ رتعروروایات ں۴7 ے۔ ایھیں ے ا نک و جھایا۔ سے ! پھر 
برگڑی کے بت ج نکیا آپ وج اکرتے ہیں ا نکی تقیق کیا ہے؟ فلال قیل ے 
تک ترال نے زین سے پظھراٹھایا اور بت بتاک رگھ اکر دیا_ فلال پنشی ن ےکگڑی 
یکن سے ٹکای اور ایک مورت بنا دیا- نتم چیا سی ے اور تہ ثقصال- 
پ چاہیں تے گکڑی کے ال ب تکو جل اکر راب ھکر کے ہیں۔ اسے مد ہکرت ہوئے 
پک وش نال چا بیے۔ ظاہرے 7 7- ااقات ٹُل ہوئی ہوگیا۔آ ہت آ ہتہان 
ے نمیو نل مکی ۔ ایآ وع أیھویں ن ےکہا: تمہاریا بات ہیر یکین مل 
گئی۔ اب می اسلام لاتا ہیں۔ اں کے بعدائم میم ے الع ےکہا: اپ ج بکہ 
پ اسلام قول لکر گے ہیں فو ہم دوفو لکا ہیا بھی ہیما ہے۔ جناں چا ن کا لگا 
اادحفرت ا یم نے اس خی یس ان سے ہر بھی ہی بل 

3 صرف زبان ہی ےجیِں ہوئی, بل ہآ دٹ یکا کردار اور ا کیا مضو طط رونے 
مین کا بہت بڑا نا ذرییہ ہے کی ملک پرانسا نکی خابت ق ریہ اس کے لے قربای 
براے غااب و بلن نکی تپ لتض اوقات وعظ وک سے زیادہکارگر ہو ے 
بر بڑے بڑڈے الیک اس سے متائر ہوجاۓ ہیں مسلمان خواق" نکی اعتنقامت اور 
بت فارگ نے اسلام کے سخت تربین اش نک اپٹی مہ سے پلا دیا ے اود وہ اعلاام کے 
رے میں سے اور ا ےجو لکمر نے پرتور ہوۓے گیں۔ 

حطرت عرشروںع 2 اسلام کے رید الف رہے ہیں۔ روایات ے معلوم 
زا ےکربفض واقعات نے ان کے ول ووماغ کو نے حدمتائ کیا اور وہ اسلام کے 
تہ گی ہو گان ُل دہ واقعا تکا یہاں وکرکیا جارپاے 

ا-عا مءلن رہیچہ اور ان 1 بھی لی بعت اضِشہ (امگپراش) ٹرم الاسلام 
ا کہ بی عالات جب ناقائل برداشت ہ گے فو مسلمانع پر تکر کے حوشہ جانے 


تصبیل کے لی ملاحظہ ہو این سعدہ الطبقات اِگبریٰ: ۲۲۷/۸ءے ۲٣۔‏ 
ازع ٹر الاصاب: -٣۱٠-٣۰۸/۸‏ 


عورت اور اسلام ۸ 


گے ان ہی می یہ دفو بھی تھے لیی ہعت الی خیش ۔کبقی ہی ںکہ ہم لیگ سف کے لے 
227 تار ہو گے تے۔ عاعرلی ضرورت سے پاہ رگئے ہو ۓے ےل ای اشنا مر 
معن خطا کآہے۔ چپ پییں پا کات دیکھا کے گے ام کبد الا کیا اب 
ھ7 ا اعت خدا کا ہم یہاں س ےکی بھی چہ جاہیں کے 
ای ادتقا ضات یکیاضصورت پیداکتا ے؟ پلڑگیں نے فو میسقت پریتاد 
کررکھا ے۔ ال حول نے شدا حا کہا اد چلہ گے ۔ اس وقت بل نے اغ - 
ارات کی جھ پیل نہیں ویچھ تی میرے شال میس ہار ےک کچھوڑنے“ 
نس نسوں تھا۔ جب عامروای ںگھ نینوی ن ےکہا :اکپ عھ کی رت اٹم وھ 
دمیھتے فذ تج بکرتے۔ یھوں نےکہا: شا ہیں ان کے اسلام لان ےکی نوع ہو چا 
ہے؟ جس ن ےکہا: ہل الین محفریت یت کا وج سے دہ ال ماپیں تہ کے گے 
ک خطا بکاگدڑھا ج بتک اسلام نہ لا عم بھی اسلا کیل لاسکتای 

بظاہراس وقت ان دو ںکی مظلوٹی اور بے می نی کے باوجود آپنے دبین ؛ 
ایت ای ء ال کے لے ارت خوینش واثارب ارگ پا رکا چھوڑنا بی سادا پاقیس ایر 
ای کک ر کے حفرتگڑکی جگاہوں کے سات !ئیہو ں گا اوروہ سوین گے ہوں س 
کہآخ یسب چٹ کیوں بود ہا ہے؟ ددکین سا جیم ہے جس کے لیے یں اس قّر 
نکیا جاراے؟ ِ 

٢‏ ححضرت عڑڑسے پیل ا نکی مجن فاعلمہ نت خطا بن اود ان کے ہوا 
سعید بین زیڈ اسلام لاگے تے۔ اتد جخرت عم کے ڈر سے ا ےکی رکھا تھا او 
ہفب تعاس بات پخت رہم ےک رصول الل شا اپ دادا کے دین بتقی کر - 
ںہ ال کو نادان اور غل طکار بتا رے ہیں اورا نکی وجہ ے قرلیش میں اف رات واشتٹا 
بیدا ہھگیاے۔ ایک دن وہ ال ارادے سے مگ ےک (نحوز پیش) آ پکا ال دآپ - 
مت جحت ہے تہ یکپ ال 


۹9۹ دینیء سماجی و سیاسی خدمات : 


سے معلاقات ہوگئیا۔ ا نک و نر تع کے وراد ہکا عم ہوا کہا: اٹاارادہ بل رو خر وك 
بر اتد اٹھاؤگے و ہنوعبدمنا می ںننیسں چھوڑیں گے ا نکی سک رکےتم زند ہنیس پا 
کک ۔ اگ تم اود ان کا دین فلط سےگو چاو انی مجن اود بٹوئی کی خجرلو۔ وہ ووثو ں کی 
اسلام اگ ہیں اور مکی پر کررے ٹیں۔ بر سن ہی سارا خحصہ کون اور بڑوئ ی کی 
طرف مڑگیا ۔سیدسے ان ک ےھر یضیجے۔ رت خبان عحفرت فاعل کو ق ران یر 
بڑھانے کے لیے اع کے ہا آیا جا نے تے۔ اں وقت دہ میاں ہو قکوسور ظا 
بڑھارے جھے۔ چنال چعخت ڑنے باہرسےترآن پ ھن ہک وا ۔ اڑھانے 
ھی جڑما ٹتی؟ جواب لاو خاس باتۂیس ہے ۔ کچ سے الہ جن 
2 رہ لو کبھی مم )کے ساتھ ہے ہو۔ کہ ہکرسعید بن زی دک پیل گے۔ اہن 
پان کے لیے دویں نو نی س بھی ڑٹھ یکر دیا۔ نٹھوں نے ان لان لزان شکیاہ 
لہ ان کی حارت ایانی جو مج 7 گئی ۔کہا: پاں! ہم دا اود ای کے رسول بایان 
ے1 میں ۔ اب تہارا جھ گی چا ےک گزرواس امتقامت نے حضرت ع۶ ےگوجٹجھوڑ 
کم رکھ دیا۔ بج نکوخولنی رن مین نیم بہوئےکھا: تاب م پڑھ رے ھے 
لاک وکھوں تو کیا کے ہیں؟ بن نےکہا: آپ ٹاپاک ہیںء ا کا بکو پک لوگ 
یی بات لگا سک ہیں حفرت عزن ےنس لکیا اور سورة ا پاعنی شرو یا۔ بات بل 
یں اتل پچ کی اور پھ رتمور نکی غرمت مُل حاض روک ای مسلمان ہونے کا 
اعلا نعگر دیا 
ایا بھی ہوا ےک شوہرکوایما نکی سعادت طحیی بیس ہہوگی یا دی ٹل فحییب 
ہوئی اور بوگی امان نے ہنییں۔ شوہ رک عدم رنافت کے پاوجودال برغابت نلم رہیں- 
حضرت ابو اش نطرت خد بی کے بھاۓے ےرت مد پیڑنے اولاد 
کی طرع ا نکی پروی شکیٹھی۔ ول الڈر کی بعشت سے پیل ا آ پک ہڑگ 
صاحب زار رت زءب ا ے اۃت اکا زاب ہکیا تھا۔ بے ددر جابلیت لیت می کھی انی نی 
7 این ہامء بلسیر ة النویہ:۳۸۳۴-۳۸۱/۱۔ 


ج+ھا 


عورت اور اسلام 


شرافت اور دیاخت میں مشپور تھے لیکن اسلا مکی ووات یں 2 کہ سے بکتھ 2 
حاصل ہوئی۔حطرت زبینبأ جنگ بدد کے بحع کہ سے مدیینہ رر تک کے ھیں۔ ال 
طر بش ے إحر وہ پتررہ بمی سج کفمل ٹیس ان کے ساتھ رہیںط 

بی بات لقن کے ساق کی جاقی ےک رسول ال ای ححضرت زبیبے اور 
حضرت مد پیڑنے ا نک سمچھاۓ اور اسلا مکی حخاتیت وا رن کی ری رکپشن لک 
ہی وحضرت ابو العاص بہت جار سے الام لاۓ لیکن کو نک سا ےک ال 
یس ا نکؤششو ں کا لیس تھا؟ 

کے ا ۴ا سے ترک گل با 
یں بن ککہ کے بعد اسلام لی لیکن ان کے شوہ رتکرمہ بن اوج کن فرار 
ہو گنئئے۔ وہ رسول اڈ ٹین کی مت میں ججئیں ار شوہ ر کے لیے اما حضص لکی۔ پچ 
اپ اکا اہازت سے و نیککیں: شوہ کول مکرکے اپنے سا لا ارآ پ کی غرہت 
یس شی یکیا۔ اس کے بعد وو بھی اسلام لن ےک تےے 

جقرت خالد جن ولیلکی بن فا شنہ بنت ول کہ کے بعد اسلام لایں اود 
بج تک لگن ان کے شوہ رمفوان بین امی خودشی کے اراورے سے مھ نکی طرف فرار 
ہوگئے۔ ووسندر میں خو وش یکرنا چاەرے تے۔عیربن وہب نے رسول الد مگ سے 
ان کے لیے پناہ حاص لک اود وائیش بہوئے۔ ال میس ایک ما ہکا عرصگز رگید ضول ال 
نے فاشتہ اورعفوا نکیاء(ىی رح ام علیعم اورححفرت گر کا ناب بائی رکھاے 

ام با ول انل چکگ کے چا ابو طال بک صاحب زادیی اور حر تگ کی 
می مو نکھیں۔ رح کرکے بعداسلام لائیں ,ئن ان کے شو ہرم رہممکہ سے نجران فرار 

تتصیل کے لیے مماحظہ ہو۔ این بشامء سرچ لنویہ:۲۷۹/۲, ے۶ 

۱ گی این جشامء لسر ة التوی ۵۹/۳ءے٢٦‏ ای عید ال الاستیحاب: ۴۸۷۹/۳۔ ازع اخ اسد 
القاِ:ے / ٣۰۹‏ 


٣‏ این ہشامء السیر ہ لتوب : ۰۷۷/۳ ۶٦۔‏ این عب البزہ الا تاب  :‏ گے ۴۴۔ این جج 
الاصابد:۸/ءے۲۵۔ 


١١ا‏ 8 دینیء سماجی و سیاسی خدمات 


ہ وگ اور وڑل وذات ال اپ رادا کے وی نکو کیم وڑنے 2 ے1 خر وق ت کک چار 
یں ہے 

اں ے ا راز ہکیا چاکتا ےک مسلمان خواین نے اسلام قو نے یں 
اپ شوہریں کی بھی بروانیی ںکیء جرب ر وسکون اورحکمت کے ساق یں مچھایاء وحوت 
دی بڑڈے بے مزاشی نکوقول اسام پ>آ آماددکیا۔ ان کا مائا ایر جا نکی کے لے 
گ وددکی اور اس سلصملہ میں ڑنتیں برداش تکییں۔ ال طرجح وت دہ یکا كْ اداگیا 
اوران ۰ کودیا اورخرت یکا مہا ی سے بھمکنارکیا: جا ے بہت ور ہو گے تھے۔ 


رلک و ا ےل ہوئی نہیں رت تیں, بللہ 
اس کے را وراحت اودخوٹی اوشم میس شریک ہوتی تھیں۔ رسول اچک نے اس 
با تکو ڑکیا اہمیت د یک عودقول کے تحاقات اپے پڑوبیوں سے انگ ہویں۔ ضرت 
اہی کی روایت ےک ایک نیش نے رسول ایڑگ سےعن کیاکی فلا عورت کے 
پارے می کہا چاتا ےک دہشت ناز عق سے روز ےت ے اورصرقہ رات 
بھی ببہ تکرپی ےلکن اٹی بزال کی دج سے بیو ںکنکلیف پل ے۔آپ 
نے فرمایا: و چم میس جا ۓےگیا۔ ای ن ےکھا: ا کے لاف فلال عورت کے بادرے 
می ںسکہا چاتا ےکہ وونل نمازیں ایرروزو ںکاگم بی اتقما مک ری ہے اد بھی یرہ 
صدق کرت ا سے۔ نین خش اخلاق ہے اپنے پڑوسیو ںکانکلی یس بٹپال نپ نے 
فرمایا: وہ جن مل 7 


کے این بشامء سیر ة الشوی:: ۹/۳٦۔‏ این حبد البر: الاستیعاب: ۳گ ے۵۱۸۰۵۱.۔ ابن گر 
الاصا نیز( ماب: ۸۵/۸ ۲۸۷۰۰۔ 

٣‏ تقال الھزری: ذ رواہ ام والمز ار این حبان قٰ سج وا ام وتا لج الاسثادہ ورواہ الیگ بئ 
لی شیب باناد انا اترقیب دا زہیب: ۲۴۲/۳- 


عورت اور اسلام انا 


ان دودکی خواقن ایک دوسر ےکی ددکرتل٠‏ ان کے دک درد می کا میں 
بت اورگم درد یکا اظمارکرش اوران کی چو خغ مت کن ہوئی انام دتیں۔ 
ححخرت اساے با نکر نی ہی سک شادکی کے بعد دو رت زییڑ سےگح رآ میں 
سادا کا مکارج ا نکوکرنا پڑت تھا_ ہس حللے میس فرمائی ہیں: 
ئغ ئن ایخ یڑ کان مم م ڑل اج نیس پا ال گی۔ 
سوہ میرے پڑوں کی عوریں جن کا تعلق 
يَعبزلیٰ مجازاث ون الانصضادِ 2 رنارے تا روٹی پا اکر تی وہ 
كُريَسْوَة صِدق! ب یخس اور بی عورتی تھیں۔ 
خووحظطرت اسمان کے پارے مش۲ ےکہ جب ان کک ا کا تار وا 
عور کو لابا جات تق وہ ال کے لیے دا کرس اورگر یبانع کے اندد (خھوڑا سا ھٹا ) إ 
ڈاتیں فرمانجں: رسول الگ نے ہم لوکویں سے فرمایا تھا چھم بنار(کی حرت)؟ 
حظرت عبد ال بن عمردہکن العائح بیا کرت می ںکہ ایک می ت کو نکر سے 
میک ول الد مل کے ساتھ وائیں ہو رہ تے۔ ج بآ پا اپینتے مکنا سے 
درواڑے پر ےل دیکھاکہایک غانو نآری یں۔مراخال ےکہان کے ادا ے 
نے آیس پان لیا تھاہ اں لی کہ وو حشرت فاطر تم ۔ جب دوقری بآئیں! 
پا نے ان سے پوچھا:خ مگھرےکیو ںگ یتیں؟ آیھیں نے حر سکیا: مبت والول 
مکی ماک تح زی تکروں اورمیت کے لیےککمات تی رکہیں۔آ پا نے فرمایا: شا 
قبرمتا نبھ یگ یتھیں؟ یں نے عون کیا: خداکی یناد دہا ںکیسے ای ؟ اں سے آپ 
نتم فرمایا ہے ہآ نے فرمایا:اگرم دہاں جا تی ذ (ہڈامگزاہ ہوتا)۔ ‏ 
لی مم کاب السلامء باب جواز ارداف الرآة الاہتیے ارّ- 
جار ہاب الطبء جا ب لی من جج جم سے ابودائود کاب الہنازہ باب لی انعزیتد۔ 
مال ہابتقرائی ہرابم گی ۔پنتض روایات سے خوائین کے لے زیارت جو رکا جواز غیت بھتا ے- 


و٥۰‏ دینیء سماجی و سیاسی خدمات 


یس طر کے تعلقات: اگرڑی اغلائی خرال یکا اندیشہتہ ہو عودتوں اورمردوں - 
کے رمیا نبھی ہوسے ہیں۔ رو اکم کا اور حاپکرام کی زفنگی می ایں کی 
ایس موجود ہیں: 

امء بت یی ہی ںک ہم پچیورٹش مسچ می بیھی ہوئیتھیں۔ رسول الہ 
مادرے پا ل تشریف لا اودسلا مکیای ایک دوابیت میں ہ ےکہ ال کے بح دآپ 
ے ا نعکوشوہروں کے احمانا تک ناشکر یکرنے ےت فر مایا 

ابی طرح حرت جرب بن عبد ال با نکرتے می ںکہ رسول اللد خٹٹٹ جھ 
ول کے اس سگزرے فیس سلا مکیام 

فر کل ین سح ڑفرماتے ہی ںکہ جح ہآ تا تو ہم لوک غونل ہوتے۔ ایک 
ھی خاقو نکی, نماز جع کے بعد ہم ان کے ہاں جاتے اودسلا مکرتے۔ وہ نر اور 
نال ایک رفت یکا ہز جاک ر کے ہی ںکھلائی میں یی 

ال سے جہاں ہہ غابت ہہوتا ےک وو لکوسلا مکیا چاسما بے ہیں یہ یالت 
می خابت ہوثی ےک ہعورجیس مردو ںکی خاط رتو شع اورھیز بای بھ یکریکتی ہیں۔ 

2 ورڈ سے ول ال جن نے ھرمایا تھا کہ الد قّاٹیٰ ا یکو شہاوت سے 
داز گا (اں شی نکوئی بیس بکو ین تھا) خر ت حر اپینے ساقھیوں سے فرماتے 
تجے۔ چلوا شہیرہ سے ملاتقام تک نیس اود وہ ا نکی ملااقات کے لیے جایاککرتے جے ےہ 
ر الودائود تاب الادبء جاب پا السلام می السا تر نیا کاب الاستیذالنء باب ماجاء ڈّا 
تیم صلی ااشاء۔ 
عخاریء الادب اگفرد: ٣۹۰/۲‏ سنرم:٣/۳٣×٣د‏ 
ری بفادیکتاب الاستیذالنا۔ امام بفارق نے ال حدبی ٹگا ددامت صب ذبل باب ٤تت‏ 
پی ہے ۔تعلیم الر ال لی الفاء والنما لی الال (مردوں کا عورتو لکو او رعورقوں کا مردو کو 
لا مکرنا) مطلب بی ہےکرعدیت سے ا لکا جواز خایت ہے_ 
لی ابع سحد الطبیقات اگبریٰ: ۸/ے۵٣-‏ 


عورت اور اسلام ۰٠‏ 


ارک عیادت اودعزاع بی ایک اخلاقی ڈے داریی ہے الام نے ا یک 
بڑی جاکیرکی ہے۔ اج سے متا شری تعلقات خیش شگوار ہو تے یں اور دلوں یل مت" 
پیا ہوئی ہے رسول الیل نے ججہاں مردو ںکی عیاد تک ہے خوائی نک بھی عیادت 
7 ے۔ 

خرت جایڑ با نکرتے ہی ںکہ ول اعلد پل ایک خاقن کے ہا ء جن“ 
نام امم الماپ یا ام اللسائب تھا ءتشریف نے گے (وہ 6 نے الع ے 
ھا: کیا بات ے؟ 4 اوں طاریق ے؟ یں ن ےکہا: تحضورا بفار ہے الا یکا ؛ 
کر ےآ پا نے فرمابا: بفارکو برا چھلا مم تکبدہ اس لکیہ ای سے بنوآ یم سک ےگنا 
ایوطرں دور ہہوۓ ہیں جس طرں بھئی سے لو ےکا زنک دور تا سے 

یم بین مزا کی پھھنگی ام الطاغ تی ہ سکہ یس پیار ہوگی تق رسول الگا 
میری عیادت کے لی ےتشریف لائے۔ فرمایا: اے ام الطاء!ا بثارت وہ اس لی ہک 
بیارکی کی وجہ سے ال تھالی ایک مسلمان ک ےگاہو ںکو ہیں طرش کر دیتا کک 
طرں آگ لو ہے کےمیل کی لکش خمکر دیق نے 

فاطہ نخزاعکبقی ہی ںکہ رسول الیکا نے ایک انصاری اق نکی عیادت 
گا۔آپ نے ان سے عال پوچھا۔ ایھویں نے عن شکیا: تمریت ہےہ ام ملعم (ایلہ 
بھاری) نے بہت تن کفکررکھا اپ نے صب رک ینلقی نکی اور فرایا: پارق ے٢٢۷‏ 
مناہوں سے اس طرح پک ہوچاتا سے جی ےبھکئی ا سے لو ےکا زنک نک 
صاف ہ جاتا ے-٠‏ 

ححفرت تن ابصرک فرمات ہیں: 
07 سم کاب الب رواصلد >* اب ڈاب المشرکع ڈ ما یصیعن متل۔- 
٣ہ‏ ابودائد کاب ان تزء جاب عیاد7 اللمام 

سر ال ال زری: رواہ الظر انی ج00 - الترغیب وال زہیب: ۵۲/۳٥۔-‏ 


7 دینیء سماجی و سیاسی خدمات 


اليسَا لْسَلعی خلی الزَالیا“ ‏ ور مردو ںکوسلا مک یکرت خیں 
حارث بن عبیر الله الصارگٰ بیا نکر ہی سںرحرت ام دداۃٔ نے الصار مل 
سے ای کت کی جو جرنی کے ریب رتے تھے عیادت فر ماق یت 
اما میم بن الا بل کچ ہی ںکہ میرک ہوگی بیارتی۔ یس ان دوں حضرت 
دای خدمت یس1 یاکرتا تھا۔ وہ مھ ے بہوگی کا عال پپٹتیں۔ میں رسکی پاری 
کا زگ رکھتا۔ دہ یرے ےکھانا منگواتیں اور می ںکھا ا کرتا تھا۔ ایک رت میں نے 
ال و اہ میس نےکہا: اب تقراٹمیک ہے۔ آیصیں ن ےکہا:تمہاری ہوک بیانیء اس لیے 
ھی ںکھا کھلا دیاکرتے تے۔ اب جب ونیک ہوئی ےق کھا نکی ںکھلامیں گے 
حضرت ُ ورداءٔ پل سے ات ہو تا ےک رخوائن مردو کی عیاد تب 
کرییکنق یں اود وہ کی 7 بن یں ہوں تق اپ گھمان ک ےکھانے کا انظا مکی 
کریکن ہیں۔ 
0928217 
اسلام نے عوقو لکوسمار نکی خدم تکرنے اودا کی فلا و ببیود ک ےکامول 
یں حصہ لے ےئم نو سکیا ہے۔ وہ ان کاموں میں حصہ لمت ہیں اود تی الواقح 
خی ری ہیں۔ یہاں دد ایک مشالی شی کیا ری ہیں۔ 
دو مال تکا واقعہ ہے سروک یں مب ریس تھا۔ ایک خائون نے رسول او بل 
سے عو کیا کہ می را ایک غلام سے جو م ےی ہے۔ اکر اجانت ہونوکولی 7 پچ نٹراروںء 
شس پرآپ یکر خلبہ د ےگیل؟ آپ نے فرمایا: ہاں! مض ربوادوت 
جخاریء الادب ال فرو: ٢/١٠۹٥۔‏ 
رواہ اار یتتلیتا ۔کراب القیء باب عیادۃ النماءالرچال درداہمرفعا نٴ الادب ( :ا اے -٦٦‏ 
٣‏ بٹارگء الادب إآفرر:/۷٦٦_‏ 
بخارکی کاب الصل 3ء باب الاستمان انار والعتار- 


عورت اور اسلام ٦ء‏ 
کک یش پان یف تعلیتی۔ ایک ملک پالی ایک دینر مس فروشت ب٭ 
قا. زبیدہ بت چنفرنے و مل سی ضم رکی نی رکا عم دیاہ اک ہککہ والو ںکوآسالی سے 
پان مکی تے۔ اس کے لیے پہاڑو ںکووڑنا او رچٹانو ںکوکاشا پڑ رہا تھا ا ںام کے 
گروں نے زبیدہ ے ےکہاککہائں پر بہت خر بے آد ہا ہے۔ ال نے جاب دیا: ا ےضرو 
انام دینا ہے چاہے ہتھوڈ ےکا ایک ضرب پیک دیناربیکیوں ندخر آئے۔ ار 
طر یہ زبردصس تکام انجام پاپا 
سای محاذ پہ 
دور ا لکی مسلمان خوا تن اع سای مناصب پر “یں نظ نہیں کہ تیں رکا 
وہ ساست سے نیرمتحل بھی نیش رہی ہیں انموں نے اپنے دور کے سای عالات ؛ 
نک رکگی۔ اسلای ریاست کے ححفط کے لیے جدوچجہ ری اورشرپانیاں دیس خلغاء اور اما 
کو ںکیں, مشورے دبے اورصب عال سیالیا غدمات ائجام ریں۔ 
ایک تقیقت ہےکہ ول ارم خ لگ" ورس یوکرام کے ساتحخواین بھو 
جگوں میس شریک ہوتی تھی اورحلف پہلونوں سے ا نکی ودک ری تھیں۔ یہاں صرف 
دو ایک مشالیں پی کی چاری ہیں۔ لی اففار یڈ کے پارے میں علامہ اڑلئ عپڑ ال 
کل ں: ۱ 
حائث تکحویج مع ابی پٹ نی چچلہ کے ساق آپ کے غزدات 
فی معَازِہ ندابِی الَزْطی و مس وہ جال تقیںہ زنٹیوں کی ممم چا 
تقُوْمْ عَلَی الْمَرطی کرٹیں اودم بیو ںکی دہ بھا لکرہیں۔ 
۱ ام سلڈ کے عالات یل این سعد ن ےککھا ہے : 


مل ابع خلکالئء دفیات الاعیان: ٢‏ /٭ے- 
الاستعاب: ۷۷۳/۲ ٤۷٢‏ 


تی دینیء سماجی و سیاسی خدمات 


َسْلَمَتْ ا سَلِیْط و بَايعَثُ اٹم سلبیط الام لانمیںء بج تک اور 
و شَهِدَت عََيَرَوَ عُتَا خیب راوزنین می شریک ہوئیں۔ 
صحفر تعفر ماتے ہیں: 
انث توْفر گنا ارب وم نت وہ مارے لے اعد مج مفک بھر 
أُھُد جھرکر پانی لات تئیں- 
روایات ے ائراڑہ ہوتا ہے ےک دی نکیا سریلنری اورمسلماخو ں کی کامیالی 
سے کچوئی بڑی ہرغانون ختی اورمس رت سو ںکرتی تی ایک مر رسول الد کل 
تگ سے وائیل ہہوئے فو ایک سیاہ غام باندی آزکی او رکہاکہ جس نے می ند مان یا 
کہ ریت کے سات ھپ کا دای ہوگی تق آپ کے سائے وف بھچاکر او رگاکر 
یٹی کاانظہاکرو ںگی۔ پا نے فرمابا: اکر وٹتی تم نے نر ماٹی ہے ق پدکرکوہ 
رندررٹے دو۔ ال نے عق لکیا: میس نے تذر مالی ے۔ چتاں چہآپ بیٹھ گے اور 
ں گ کر اور رف ب اک رخیٹی کا اظمارکاۓ 
لمان خواین نے اہپنے وقت کے خاغا میں بھی کی ہیں_ حضرت 
حاوینے جظرت عوائ ےگ وہنا کہ ری ای ک مق ری شضحت کی حرت مات نے 
وگ اکر مکا یہ ارشادکگ ےک رکیچا جس میں ایک حا کے لیے مت رین راہ نمائی ہے : 
اتی رع ال جس لوکو ںکو ناخ کرک ایلرک 
رضا علات کرے (لویک اس کا یچج یں 
پاڑ تہ کیوں کہ) ال ای دے 
لاس وم اِلسس ضا الا انانوں کےشرے با لیت ےہ کن جھ 
این سعد الطبقات اگبریٰ: ۸ -٣۱۹/‏ 
اہ ععبر ابر الاستتعاب : ۷ / ۹۳٥۔-‏ 
ط نی :تاب المناقبء جاب منا قب عم ای تفص ابودائود کاب ال ددہ باب ما مہہ 
گی وفاء الیڑ ر- 


ٴبِسَحَطِ الّاس گَفَاه الله مُوْنَة 


عورت اور اسلام ۸ 


بِسَخَطِ اڈ رَ گا الله لی نس وو رکوخ اکر کے وو ںکی خوش نو دی 
ڈحویرے تو اللہ تعاٹی اسے لن ہی کے 
حوالگردتا ہے (اور ووٹںس 2 چاے 
ہیں اس برعکوس تکرتے ہیں)- 

قالم بن ش رکا بیالن ےک رع کے مو تے برحطرت معاوییانظرت َال 
خدمت مل جج ال وقت الع دوپوں کے ساتر صرف حطرت عائٹڈ کے خلام گوا! 
تھے حفرت وائٹ نے رت معاوبن ےکہا: آپ نے مہیرے بھائی ین الک رک 
کرادیا حطرت مواویناورححفر تک کیا نک میس وو حری تع کے ساتقد تے او رم 
شید ہوئے تھے کیا آ پکو ا ں کا خی لننیں آیاکہ میس بھ کید یکو لاس 
ہیں جو کن کردرے۔عرت معاوینے فرمایا: آپ نے بک فرمایا۔ ایک روا 
بش س ےک اکھوں نے فرایا: بے امیر ہے آپ ایا نی نک ری ںگی۔ پر نکونضرں 

عوائٹڈ نے نحجحت فرمائی اود اتا شمراج تکیا تخیب دی 

ہبہ ایک لیڈ تیں _ نت جا وائنٹڑنے ایل خری دک آزادکیا تھا۔ مو 
غلیہعپد الک بن روا نکا مان ےکرخلافت سے پل می بر ہک ناس میں * 
کرت وک ےکی ین رم تا اف نخان یھت یل ۔ بج خیا 
ہوتا ےک علومت اورخطاط تتمھمیں گی ۔ اک میں خلافت حاصل ہو خوں ریز 
سے بپپناہ ال ل کہ میس نے رسول ارہل سے سنا ےکہ جن کو بے کے بعر 
انان اں کے ورواڑزے سے ٹا دا جا گاء اںتھوڑے سے خوان ناو نکی وچرے 
یں نے کسی ملا کا بہھایا ہوگاک 

شغاء بجمتعبد ال کے حالات یل علامہ ارک نعبد الی کت ہہِں: 


الاسے 


ا ترنیء الواپ الب باب ۷٢‏ 
ذبیء سیر اعلام األا ء: ۳ /۱۳۱- 
این عبرالبر الاستجاب: ۳۵۸/۳ 


0 دینیء سماجی و سیاسی خدمات 


لمت اليفا قَبْل الھخْرَے ‏ اڈ عجرت سے پلہ الام ا جگی 
تھی من المقَاجرات الال مھ دہ اقالماجرین مش سے ہیں 
ا پت ُکانٹ مہ یں نے می پل سے بیع تبچ یک یی۔ 
بایعٹ النبیعلب* وکانٹ من ک2 5 . 
غق الیتَ 2 و تخل وأ اور تضیلت وا ی گررلڑل ٹل 

و ور ن... میں مزےان کو رائۓے اورمخورہ مل 


ہے ٤ے‏ ری بے 


ن غمر قڑتھا فی لا و آگے بڑہاتےء ا نکوغیل رک اور ا نکو 
يَرَضَامًا وَ يْفَضْلَمَ رما وَلاہًا (دوسروں پر) فضیلت دیتے۔ بسا اوقات ان 
شَيْنَ من مر السشُوٴة قٰ کو پازارگکوئی ے داریبھی سو یت تھے 

یں سے معلوم ہوتا ہ ےک خفاء بنت عبد ایل کی عفل و وش او رعلم وفضل 

- سے :زی مسل می ۔ نعخرت گرا نکی رالو ںکو اہمیت وین تے اور لن 
ا غدا تگ ان کے سرد یگتھیں۔ 
ذاطہ بنت تی مور صحاببہ ہیں۔ ابتقرائی مہاجرن مٹ الن کا شار ہوتا 
ے۔ان کے حالات میل علامہ این عمبد اکھت ہیں: 
اث اک جال وَعَظل و دہ صاحب جمال اورئعئل وکمال 
گمتال وَ فی سا تع وا تھیں۔ حطرت ع ڑکی شہارت کے 
اضعا 0227 ید قفْل پجر ان ہی کے مان کو 
جا جع ہوۓ سے اور اکھون نے ودلق میں 
غمزھ فان وخ کت و ےہول یبن 
عَطيهُمْ المَاتورَة قال الزبیر و (ابن پکار) نے کہا ےکم وہ شریف 
گانَتْ إِمْرَأةُ نجْوْدٌٹ ان نتیں_ 

اں سے معلوم ہیا ہےکہ ان کےش مم دنر اور شرات پر س بکو اعتاد تھا 

خر گی شمہاوت کے بت رسحا رک یکس خوریٰ میں غلیضر ے تاب کےساسے میں 


ان عبد البر: الاستیاب: ۳ / ۴۰۲۳ء ۴٣۳‏ این ججرہ الاصابہ ث تی اجا۔,: ۰۲۰۱/۸ -٣١٢‏ 
ال یگب زا بر ااستحاب: ۳/ -٥۵٢‏ 


عورت اور اسلام 5 


توزیرمت 2‌0902)( یں وہ ان ہی کےگ ےر ہوئی تھیں_ بظاہروہ ان ے پہراو راس 
متعلق اوران ے واق فکھی دربی ہو ںگیا۔ 

حیقت یھ ےک مسلمان خواقن دین داغلاء یرت وکردارم و سیا 
او رتہزیپ ومعاشثرت ہرمیرانع شی نمایاں ری یں۔- میں نے ملف پہلووں ے 
اعلا مک 7ہ زبردست غدمت ائام دی ہ ےک تارتا ککوئی تھی طاابگم شر ان 
نکر ند زکرکتا سے اود مکر کے ھا تا ہے۔ 


رتو 


دور حاض میں سکم خوا تی نکی ملازم تکا متلہ 


(موجورم رور می مسلم خوات یىی ملازمت ےمتلق الاک فق 
اکیڈٹی 2ن دی) کے ایک صوال نام کے جواب ش زی ل کا 
ممون ای کیا گیا۔سوالات فقہ ایا بی کے ا 1 مک زدہ یں۔) 


ك3 


۲ 
اثران مل مرد اورٴورت کے فراص . 

خاندائی لام یش عام طود پر مردکی یت سرما ہک ہوثی ہے۔ دہ ا سک 
نات اورگرالی کرتا ے با ہیں اورحض احات تق ری گزیتوں 11 محاشل اور 
[ رگ ضرور بات کانف مکرتا ے اور ا نکی تم وزمیت اور غاد بیاہٴ کے اتراجات 
رواش تکرتا ے۔ دوس ری مر فعورت امور ان داری انام دق ہے 22 مس گھرسے 
لا مکوہییک رکھناء یو ںکی دکھ پھال اور پروش اورشوہر کے ما لکی اظطت لے مور 
ال ہیں۔ خاندان کا می نظام عرب میں بھی رام تھا۔ اس نظام می لیس بڑی 
ۓےِ اترام یا ںتخیں, ایک دسرے سے حقوق می ن نہیں گے ذہہ داریال واڑع نہیں 
میں ربض اافات عدرل و اتضاف کےص رع تقاتے پیر ےکھیں ہوتے تھے ۔عورت 
نی یم زور کی وجہ سے سب پلگھ داش تکرتی شی اسلام نے ماندا ن کا ظام : 
کی رکھماء ےمم ذیادیں فر1ہ مکییں جحلم ذنا انساٹی سے پا گگیاہ مد اورگورت کے 
تو اود ذمہ دارییں کان نکیاہ عردی ملق پالا وق ٛم کی ەعور تک یکم زور یک 


عورت اور اسلام ۳ 


زعای گا اور اےائولی جح فراہ مکیا۔ خاندا نک تا اور اكخقام کے لیے اس ےم 
س ےکہاکہ وو عور تکی محائ کا ذمہ داد ہے۔ شی از روئے تقانو نع عور تکا بی قرا 
دیاکرعرد ال کا نان فققہ برداش تکرے۔ اس انظا مک بظاہ ر ایک حکمت ہہ ےک 
عور تگع کے وا مکو چلانے کے لیے خودکوفار کر ے۔ 


لیم یافتہخوا تین یں ملازم ت کا رہخقان 

موجودہ دور میں جو ساگی جدرییں ال یں اور ضروریات زندگ کا را کر 
رح وٹ سے وع ق بونا جارہا ہے ایس مین بیضرددی مھا جانے لگا ےک مد - 
ساتق عورر گی معاتی چرہو جہد یں شریک ہو ۔ برع کی عورت خودکھی محاشی طور ء 
7 بونا چااتی ہے اود ماود ای ووسرےفرو مارک رنا نہیں چااق۔ اے ا 
کے موا بھی حاصسل ہیں- 

رج پٹ سی مسلران خوا تین خصوبا معلیم یافتہ خواقی نبھی بی طرح سو 
ہیں او مل معیشت کے میدران یس حصہ نے ری ہیں۔ ان کےسالے می سصض ود سوالا مت 
جال وقت ٹن لن مہ یہاں ا نکا جواب دی ےکی طالب علان ہلت کیا جاردی ے- 
سوال:ا 

شریعت اسلائی خواتین کے لیےکسب موا کوک نظ رس وہ 0 ہے؟ 
جواب: ۱ 

اسلام نے عور تکومعائ شک یکر سے بڑکی حعدکک بے خیاز رکھا ہے۔ ال س 
یی دہ عام عالات میں مو نییں سے لین ا ںکی معاشی جدو ججدکو ناپینرید دنک 
جاکا۔ رز قکوترآن یر بی اوٹ افخ لکہاگیا ہے اود اسے ماش لکن ےکی 7 
کی ہے۔ سوہ ےر ڈل الشادے: 


م1 : دور حاضر میں مسلم خواتین کی ملازمت کا مسٹئله 


َِدًا قُسِيّتِ الصّلوةُ فَانتبِرُزْا فی جپ نماز 2 ہوجائۓ تل اہازت 
الَازض وَانتکُذْا ین قضْلِ ال ےکر) زین می کیل جا اور ال فضل 
۱ (الج مع :*ا) - ملا کرو 
عور تکوھی الل رکا نل علا شک رن امن ہے۔ ا پک کوئی دی ل نہیں سے 
کہ یق ف مر رشل ہے ہعور تکوحاص٥‏ لکیل ہے۔ اس پر ایک اود پپہلو ےبھی 
ارکیا کے 
عور تک ولف ذرائ سے مال حاصل بنا ےه انا یل مہ راور مبراث شائل 
سے جح سک مقدارلْئض ااقات بڑی ہدک سے تفہ عطی اود ہ کی شل یس اس کے 
2 ال کا ے وہ کھوۓے بڑے وف فکیکگراں پک ہے۔ از روۓ شر اے 
کاج ہےکہاپنے سربایکوترثی دے اور ال می اضان ےیکت شکرے۔ دہ ای 
شی سے اس بیس تر ف کا بھی طن 7 ہے۔ علامہاڑن قرا ں٣‏ لی نے ام اإوطلیفق 
امغلء این من راو ایک روبیت کے مطابق امام اجم کا ملک ان الفاظہ مس بیان 
یاے: 
سأ الغٰیْتےة ادف . -سبجھ ددملرت کے لے اپنے پدے مال 
فی ما لیھنسا حتف بَالشبڑع مم تر فکاعق ہے۔ سے وہ تی ککاموں میں 
وَالْمُعَاوَصضدے صر فک سک ہے اود معاوضہ پرکھی لگا عق ہے۔ 
ای کا ایک بچپلد یہ ہ ےک کیک من لڑکی کا مالی اس کے ولی کے پاش ہو 
مب دہ با ہوجاۓ اود اسے س وھ بوچھ حاصمل ہوجاۓے ے ال کا مال ال کے جوالے 


ان قرامہ ہعُی: ۰۶/۷ جن بارکزرعبداطر بن عیدسن الترکی و الک رعبدالفتاح مھ 
لو ء پچ القاہرۃہ ۱۹۹۳ء امام مال ککو ال سے اختلاف ہے۔ ایک ددابیت امام اج سےگھی 
ںكجائٌرش بک عورت اپتا ال شہری اجازذزت کے مفی کیک تھائی ے زیادہ عر فتال 
انی این قرامہ نے داانل سے ا کم زوری وا کی ہے۔ ملاجظہ ہو گل -٦٦٦‏ ٦٦٦۔‏ 


عورت اور اسلام ان 


کردیا جا ۓگاء چا سے ا لک شادکی نہ ہہوئی ہہو۔ بی رت عطاء بن الا ربا ا 
وریہ امام اڑوفیذہ امام شانی ءا راورائن الم رکا لک سے 


٢٢۰لاوس‎ 


کیا شریعت نے خواجین پرجھی زان وق ہکی ڈے داری گی ہے ؟ (خواہ ا 


ثفت ہو یا ؤں ویر ہکا) 
واب: 


شرلعت ے عام عالات میں فور بر معائی ژمہ وار یں ڈا یل سے 
ا ں کا فقہ پیرنشی کے بعد سے بورغ کہ بللہ جب کک شادکی شہ ہوجائۓے پر 
زمہ ے۔شادکٔ بے بحرشوہر پا ںکا اع لت واجب ےک نفنعن حالات کر 
2 “0 _ ہ ںکی نت لیس : و 
میس دی جارتی ہیں: 
فقہام نے صراح کی ےک گر بپچوں کا با پ کیل ہے ت2 مںپ ال ن کا ٹا 
نفقہ واجب ہوگا۔ علامہ اکن قرا یھ کے ہیں : 
ان الام تجب نفقتھا ویجب مال کا فقہ اولاد پر واجب ہہ ای ط رر 
علیھا ان تتفق علی ولد‌ھا إذا لم ہا پر واج ہ ےک دہ ابق اولاد پ رر کے 
یکن لہ اب و بہذا قال ابو حفیة اک راس کا باپ نہ ہ۔(امام اح کے ساتھ) امام 
والشافعی الوطیفہاودمام شاف یک بھی بجی رائے ہے۔ 
ا این ثداب :۸ / ٣٢۷-۲۰۱‏ امام مالک اود ایک ردایت کے مطابق امام بجر ین ضبل 
را ىہ س ےک شادی سے پیل اس کا مال اس کے حوال نی ںکیا جا گا اکن قق امہ نے اس 
نظزکیا سے اود ا کیم زوری وٹ کی ے۔ 
رر ائع قرامہ> ار /۰۳٣۳۔‏ امام مال ککواں ے اخلاف ہے الع کے نز د یک حصبات پ رتفقہ وا 
ہنا ہے ۔ ماں عصینییں سے اس لیے اس بہ اولادکا فققہ وجب سے تہ اولاد بر ا ںکا ان لفقہ لائم7 
ے-حکی عن مالک انہ لا نفقة علیھا ولاً لھا لانھا لیست عصبۃة لولدھا- ا:۱ / ۳ے _-٣‏ 


زیدفرمات ہیں: 
فان اعسر الأب وجبت النفقة ری انت 
: برداش تکمر کے فو ماں سر اس کا فقہ واجب 
علی الو وم تک “۰۷ے کی کرک سے خش ب 
ایس“ ہطگاہ ا لیے باپ بعد میس خنل عال یا 
صاحب حقیت ہوجائۓ نو ال کا مطالبہ وہ 
۰ اں سے شدکر گگی۔ 
220 ہگ یکہاگیا ہے 
ام معسرۃ وجذة موسرة الفقة مال نگ دست اور رادی خٹل عال ےو 
علی الجدڈےۓ فق داد پر واجب ہوگا۔ ْ 
ان اولاد ھ اپنا خر نہیں رٹ ٗق, ہس ملق نے عٹیکی مج تاب 
نر ودیی می سکہا یا ے: ۱ 
وتجب نفقة الابدة البالغےۃة لک ہھ بالہ سے اورلڑکا ج باون کے 
والابن الزمن علی ابویے اٹاااء یم رمعذور اور پا ہے اک ںکا لفقہ پاپ اور 
علی الاب الثلض4ان وعلی الأم ہاں دول پ واجپ ہوگا۔ باپ پر ددتال 
الفلث۔ ٤‏ : اور ماں پر ایک قائی۔ ٠‏ 


پ+- 


ای رع کہا گیا ہےکہ بھاکی کرک دست ہے فو بنویں ہا نکی میرات 
کے اط ے لفقہ واج ے۔ (ونفقة الخ المعسر علی الاخوات المتفرقات 
خماساً علی قدر المیراٹ) وہ ال طر خی بین پر ۳/۵ اود اخائی من اور 
ای بین مس سے پرایک پر ۵لا ہوا" ۱ 
. /ضك:۴/۱ء٣-‏ 
ز ق:۱۱/ ے٣‏ 
طۓ ہراب نصب الراہ : ا گے ٭ ۴۔ داراکتب التلیہ ء لبنائنء 1۹۹۷ء 
پدایٹ جن لقدی لان ااہسام: ۳ / ۱۳۸۱ء داراککب العلمی ءلبنانء 1۹۹۵ء 


عورت اور اسلام لھ 


۱ یں وقت نقات کے سال میس مہا ءکی 1آراء اود اع کے ول زی بح ٹن 
ہیں ۔ابیہاں صرف بین لکرنا ےکہالسی ورس ہیکت ہیں جن یس اگ رکہا جال ےکر 
گقورت ری از روۓ شر افراد غاندا کا آفتہ واجب با ہے و جہورفقما مگ اے ح 
تا ول ہوگی۔ 

ار تر جٹش نع نظ رافراد اندان مل الشت و جت اور تھاون 
ہعدردکی کہ جوفطرکی جذبات پا جاتے ہیں ہ ان کے پلنھ اور تھے ہیں۔ اسلام ال 
جذہا تک ابھانتا اورلثزیت اتا ہے شوہ رکا لنز ہری 7 عال بش واج بر 
ہے لیکن غخول حالل بیوی شک دست شوہ رکی بددکر کے نو ىہ ایی الا کا شموت ہوگا 
شیعت اسے بہت بڑے اج وقا بکائل قرار دبقی ہے نطریت عبدارد بن مس وڈ 
مواشی حالت اھ یی ںیہ ا نکی یوک زب الن پر ادراپنے میں پر (جو سال 
شوہرسے جے) خر کرت ت٠ھیں‏ اکھوں ے رسول اللہ یلگ سے ددیاف تکیا: 
جْرِی عیٍی اَن اق لی زَوُجیٔ کیا میرا اپنے شوہر پر اود اپے الن مم 
وَایتام فِیْ حجرِیٔ۔ یں پر جو مکی حفاظت اورگرالی یش ہیں٠‏ 
خر کرنا ری طرف ےکائی ہوچال ۓگا اور 
یس اپ فرش سے سیک ذپ ہوجو لگیا۔ 
بی سال 21 اورخاون کو د رٹیل تھا آپ ے دوضوں سے خر ایا: 
لهمَا اجضران: از اقب وآ - ہںہ ان کے سے دو اج ہیں: ایک 
الو -َ رای تکا اہج اود ایک صد ق ےکا اھ 
حضرت اع لہ نے رسول اللد لا سے دریاف تکیا کہ الوسل کا اتال ہو 
اس ساس یکیکسی تر رتتیل کے لے مماحظہ ہو: قرطیء الیامح لا ام القرآنء جلد ٢ء‏ جزء 
مصل(۱۱- ۱۳ء دا رالکتپ لی ء لہناانء ۱۹۸۸ء 
گ جخاری ءکتاب الرکہء باب الکو گل لوج دالا تام ڈّ نی احجر سلم کاب الکو ء بد 
فضل حاوزۃ والص دق الاق ران ا 


ےا دور حاضر میں مسلم خواتین کی ملازمت کا مسئله 


سے ۔ اب النا کے ہیں پراگر میں خر کرول ت کیا بے ا ںکا بج لگا۔ میں آھھیں 
پچھوڑیھ ینمی تی بہرحال دہ میرے بے ہیں۔آ نے فیا : 
نعمء لک اَجْر مَا انققّتِ عَلَيْهِمْل پا ءخم ان پر جھ خر کروگی ا کا۔ 
. تھی اج زرل لےگا۔ 

نس اوقات عورت پر افراد نماندا نک مم دک اظلاقی ڈے داری عاکد ول 
ہے باعادمث تال ہہ نکش ہر ا رگم کے دوس ر۔ ے ان رادضرورت متر ہہول او رگورت 
نع گی ضرورت 27 وہ بمرے رات خر بیس خر خکرنے سے زیادہ اجزو 
بی سفن ہوگی۔ ال جذبہ سے اگرعورت اپی مالی یی تکومہت بنان ےک یکوگی جات 
رانا کرے نے اسے ناجائ نیہ بگنہ جائمز اود پندریدہ کی کہاجا ےگا 
ہوال: ٣‏ 

مل سیارزن ک۷ا بللرکےء ٤‏ وق تگزاری اور مہا و انا بی اکر ےکا 
نل سےعوزوں کے لے مواشی جدو ججہدکا لک یحم ہے؟ ج بک لک کی مالی حاللت الک 
س ےکا می گی شی سےکام ول سکم ہے اور چا ے؟ 
تواب: 

اسلام نے دجیا ٹیس علموث ہہونے اور اپئی نوانائو ںکو ای یس اگادسینے ےنم 
یا سے اور قاع تکیاتلیم 07 سے لین اگ کو یتخس چائز اورعلال ذرالَغ سے بال 
اص لکرتا اورآسرانش وراح تک زندگ یگزارتا ہے ا لک بھی اجازت ہے۔ بر ےکہ 
ںکی معاشی مصردفیات ای نہ ہو کہ دہ ادتقا یکول جائۓء ال کے بندیں کے 
تو قکوف رام کر یھ اور دنا پرستو ںکی رج خفل کی زندگ گزارنے گے ۔کاروبار دیا 
ھ کے کیک بندو ںکوا ںکی اد سے نماز اور زکوۃ ے غا‌ لین ہوۓ دیا_ وہ الٹر 
.فارگ ءکتاب النفقاتہ جا ب مکی الوار تل ڈالگ- 


عورت اور اسلام ۷۸ 


227779+94 9ے وس 

گر اللِ اقام الصّلوةِ وَِبتَاءِ لہ کے ڈکر سے ہ نما ان مکنے ا٥ۃ‏ 

تر گج اوداکرنے سے فلت می میں ڈالئے سوہ اس 

الژکػوۃ َحافوْن یوما تتقليٰ فِيّهِ دنع سے ڈرتے رے ہیں جس میں دل اور 

الکْبْ وَالاب+ضازہ (اور:ے۳) میں (خوف ے)الٹ جائیں گے۔ 

ارت او رش پرو فروخت سے ضروریات زمدگی بھی پیر بلق یں اور 

خیش عای کا نگ اعکان ہے۔تجارت مجن الم بی دوٹوں ہی پاش یچ نظ ر موی خیب 
مردکی رج عور تگھی ار خفذشن کشر ت کیم اح ت گا زنڑی کے لےکحجارت 
اکوئی جائز نریراخقیارکرے اسے ا نم ںکہاجاسکنا۔ ش ریت نے اس معاططہ جیل مہ 
اورگورت کے درمیان ہرک فرق ای ںکیا ے۔ 


سوال: اگ 

خواقین کے لی ےکسب معائ لک یکوئی صورت اخقیارکرنے می لکیا ال وقت 
یہ ج بک دہ اندرون خمانہ ای اٹ معاشی ریو نکومحرددرحلہ اپنے ول یا شوہ 
سے اچازت لیا ضروری ہوگا؟ 
جواب: 

عحورت کے لے اندرون خاضہاپڈا معاشی معروفیت کے لیے وہرسے اجازت 
وی وی ہے۔اںکا وجب ےک ارت کے نان وت کا از رویۓے شر مدذمہدا/ 
ے۔ و مہ کپ معائل کے لیے مو یں ہے ۔عور تکا اع وفتمد پراں ےک 
واجب ےک وہ ا ںکا وت لِٰتا ہے۔ ووسرےافطوں میس عورت نان وڈیقہ کے جوف 
شوہر کے لے اپنا وت فادر کل ے۔ ہاش سے 


لب دور حاضر میں مسلم خواتین کی ملازمت کا مسئله 


الفقۃٴ جزاء الاحتباسء فکل من ثثقہ عور کو زو کے رک کا معاوش “ 
کان محبوسا بحق مقصود لغیرہ ہے۔ جونس دوسرے کے قاہرے کے لیے 
کانت نفقتہ علیہ میں ہے (اپنا وت اسے دے در ہاہے) ال 


ک فقہال پر واجب ہگا- 
اںک 2 یرد اگئی ے : ۱ 
اصلے القاضی والعامصل فی ا ں کی ال تاضی اور عائلِ صدقات 

الصدقات“ 

قاصی اور عائل صدرقات کے و کی فلا کے لیے عاصصل سے“ 
اے ںہ ا لے ا نکا تہ بیت المال بر واجب بہھتا ے۔ می معامگورت کے 
ن وئ کا ہے - جن بگورت کے اوقات وہر کے لیے فارخغ ہیں تو وہ ںی اجازت 
ےا رکوئی دوسرکی مصردفی یں اخقیارکرکق۔ 
و ال :ھ۵ 

اگرعور تکوکسب معاش کے لگ سے اہ رڈنا پڑے ف کیا ال کے لیے 
1 ا شہرگا اجازت شضروری ہے ؟گھرسے لٹا مسافتسفر ما اش سے زیاد کے لیے 
آں 7 کے لیے ء دنع کے وفت ہو یا رات کے وقتء وی اس ان نکی فالت 
رتا ہد با ندکرتا ہو ان صودتقوں می عم مشری کے اعقبار سے یف نبھی ہوگا نا 
واب: 7 
عور تک وک کے ائددکوی ڈرییمعاٹل اتی رکرنے کے ےٰ جب شوہ ری 


بات ضرورل ےو اں متضرے باہ رم لے بے لئے پدرچڑاولیٰ ابازت ضریری گا۔ 
دہراے اجازت دے* ھی سا ہے اوخ ؟ بھی تا ے۔ 


پرایراوان “کراب الطلاقی ء اب الحفقہ ٤ع‏ ےا٢‏ ءکب خانہ شید دی ۱۳۵۰ء- 


عوزت اور اسلام ۱ ۳۰ 


علامہائکئ فان یھی کے ہیں : 


وللزوج منعھا من الخروج الی شو رکون ےکور تکو باہر لکن 


ما لھا منه با, سے الع امور کے لی ےپھی مت حکمردے جچھ اس 
کے لیےضریری ہیں۔ 
یکچ ہیں: 
ولا یجوز پھسا الخسروج ال عورت کے لیے شوہرکی اجازت کے اغیر 
بافئەرا گھرسے لکنا جائزنیں ہے 


اں کے ساتھ وہ بھی کے ہی ںکم شوہ رکوقانوٹی طور پر ا ںکافن ضرور سح 
کہ بیو یکو اپ وال دی نک عیادت کے لیے جانے ےبھیٹ عکرے لیکن ے والد[ 
کے۔ ترصن ساوک کے منائی مه اس لیے ا لکی اجات اسے دیٹی چاپیے۔ اک 
طرح وہ بیوگ یک ود جانے 0ئ سے لیکن ہرل اللد گلھت نے فرمایا ‏ ےک 
یں تہ روک جاےے 
عورت کے سفر کےسللے میں عدریت بی صراحت ےک اخ حم کے ال 
کا کرنا کچ نہیں ہے۔ یگ مکی مسافت کے لیے ہے؟ اس سللے میں مل 
روایا گت یں۔ 
حرت الہربا ٤ی‏ روایت ے ےکہصول الد گل نے فرمایا: 
یحل لامرأۃ تُؤمِن باللهِ تی عورت کے لیے جو الد او رآخرت پہ ایھان 
وَالْوُم الخ تُسَافِْرُ مَسِيْرَةً م تی جو چائو ٹہ کک ا سفرایرعم کے 
َلَيلةإِلأمَع ٍى مَحْرّم عَلَيْهَا. ۳ کر جم کی مسافت ایک دلن ودرا تک ود 
اس روایت میں عور تکوہ اگ رحم اس ہے ساتھ نہ ہونذء ایک و نکی مساق 
این قراب, |ك:۲۲۷۳۶/۱۰۔ 


ے 
این قرات :۱۰ /۲۲۳۔ 
ٔ مسلم ہاب دا اب سفرالرآۃ من مر الا یرد 


۳ ۱ دور حاضر میں مسلم خواتین کی ملازمت کا سئله 


با لے سف نے کیا گیا ے۔لبتضش دوسرکی ردایات گل ووون اوزقن دن 71 ضماش کا 
رے۔ اں کے لاف حضرت عبدائد بن عا کی روایت مل ماف تکا وکرہی 


لأنسافر السا الا مع یٹ خطخوت ۶ڈ سد کے ساتوف 
مَخرمرل 


محدشن نے ان دوایات * میں ربق 7 ے 75 اں اخاف 7 تلق ۔ول 
ماف رت سے نول الچ ےکی نے وت کن ون کے سفرکے 
تلق کی ے رودنع 7 نے ایک دن سےسٹر کے تلق سوا لکیا ۔آپ نے ۸ 
مرو ×جٹ- دی کہا 21 کے سرک 7ئ ھت اوداؤدکی ردایت می می 
کا لفظ آیا ےہ جآ دھ دن کے سف رکے لیے ہولا جانا ہے نطرتعبدادڈر بن ما“ 
گی رفایت بَالیٰ ےکور ت کا 22 ے ملق سور ہیں مس 070 
روایچو ںوگول 20 ٍ 
۱ ‌ھ,,ء,ء,۰ء"1۰۰-و سے فاصل سسٹ سے ںآ ام ورت ے 
تیزرفار ذرائع موجد ہیںہ 1ر یکھنٹوں میں پزاروں خ٘ لکا سفر ےکر کے ایک میکف. 
سے دوسرے ملک میس جچ چاتا ہے۔ تد عالات نے سف رک ایک ضرورت بنادیا ہے اود 
تھے بپوے فرب ہکشرت ہوۓے گے ہیں۔سفرمیں ای عرد او رگورت کے ۰7 
خلوت کے امکانات اور مزاتح ہوتۓے بھی 21 او ری ںکھی ہہوئۓ ء عورت کے ساتھ 
وست درازگیگگی ہکن ہے۔ ال وجرے پک لکہا جاسک تا کیعور کا تا سف رخرات 
سے پلک ل ”فو ہے۔ اع کا تقاضا ےک مور تکاس شوہ یا حم کے سناتھ ہو اس 
لپرے ہیں منظر یں اس مل بی ٹیو روک کی ضروزرت' بھوں ہوئی یں 
07گ0.0,007ەہ0ِٰ01, ,- س0 


. ان روابات کے لیے ملاظہ ہو :مم تاب انگ اب سفرالرآۃ مع مخزم ال رک وفرہ- : 
۲ فواہشر مم رن۵ء جزم ۹م ے ۸۸-۸ داراککتب العامی ء لبناعء 1۹۹۵ء۔: 


عورت اور اسلام ۳ 


دی را تکی۔ خطرات دڈوں میں ہیں۔ اس سللہ بی سکوئی اصول جع تی ںکیا 
جاسکا۔ دین دار مد او رگورت ڈاکرے او رنتصان او رخ اور عیم خل کا خوری فصلہ 
کرت ہیں۔ ۱ 
بی وا لک دی یا شوہ ر کے عور تک یکغالل تکهرنے با ندکمرنے سے ا معاللہ 
می سکوئی فرق پڑمتا ہے پانیں؟ ا ںکا چواپ یہ ہے۔عور تک کال تک ڈیہ دارق انل 
کے ول یا شوہ ری ہے۔ اگوہ ا زے داری کے اداکمرنے سے مور ہیںء پاتمل ادا 
فی سک رہے ہیں فے ال کے اعکام دوسرے ہیں۔ اس سے ان کا بن سساق نکیل ہوتا 
کہا نکی اجازت ای سے ا ےگ رے باہ لکنا جاہجے۔ 
سوال:٦‏ 
خواقن کے لیے علازمت کے سلسلہ میں شرگی عدودکیا ہیں؟ 
جواپ: 
اں ذپل یں جن ام اصول سان ےآ تے ہیں: 
٢س8‏ مد ہو یاعورت دہ ای از ت نیس اخقیارکر سنہ جوشرتی تنک رے نا جائز 
ض ئے نی کی طازصتہء یا راب اود ےکا کاردیاں با ای زیت کے 
دوسرےکامء جج یکی حم تق رآن وحریث سے نات ے۔ 
۲- عور تکواش کے وی یا شوہ رکی اجازت حاصل ہو 
۳- رت اور مِدَأاخاط( ‏ ہو- 
سوال:ے 
طلازص تکرنے والی خواقین اگر اے اداروں مل کام کریں (خواہ لی 
ارارے ہیں یاهرے) جہاں ان بی غدمت اثجام دق ہیں اویدکا مکی ہیں 
میں ہد ہوۓ ہول الب ادارے کے مہ دار مد مولء ۲ ال صورت مل ہے 
کےکیا امام ہیں گ؟ 


اگرعورت انا چک ہکا مکرے جہاں مر زار ن بھی ہوں تو ال وشت اتژن 
ارنوں کے لیے بر دک یکیا اعد ہولںگی ؟ ا ساس میں اکنا یہ ون اور ران 
اورنڑں کے رریپا نآرق ہوگا؟ ٠‏ 
واب: ۱ 
خواتن اپےے اداروں یس ملازم تکریکق یں جہاں خوانین ہی خدمت انام 
ہوںء اورکام 71 ہیں میں مردنہ مہوت ہویں۔ مد ذمردار بہوں و شرگی عرورے ٠‏ 
7ے سے بات پیک سے 1ں مل یں دو امورفورطلب ہیںہ ای اتکی عورت 
کے عدووقاب سے ےء دوسا مہ ےکور تکای ٹیر سے با تکرنا۔ 

(الف) جچہاں م٣‏ ککورت سے جا بیتلق ہے۔ ا لکا قاب ازیو ےن 
بردے بد تع کا ہے۔ وہ نے بد ن کا کوئی یی نام کے ساٹ نی ںکھول سکی۔ 
خر عبراللہ بن مستوڈکی ردایت ےک رسول اللہ ہگ نے ف رمیا : 

الَراةُ ورک قباذا حوَججث عودت خودکہ پشدہ رکے۔ جب دہ اہر 

ِسُمَضْرَكَها الشْیْطَان, تی ہےر شیطان اسے ماک گنا ے۔ 

مطلب رت کو پردوے میں بنا جاہیچے۔ جب وان ے 7 نی ےو 
یطان پنیا کارروائی رو غکردتا بت اس شی خودکورت ےم راہ ہہونۓے 7 
هرے کج راہ ہوٹ ےکا خطرہ ہے۔ 

فتہاء کے دمیان ال امرش 0-7- ہ ےک گورت کے چیرے اور آتھکا 
جھ تجاب سے یا دہ نائ رم کے سان ھی ںکھول سیق ے؟ علامہ ابع قرا ح٣می‏ نے 
یں رظ ر ان بے ہیں اور غاہ تکیا ے ہک کور ت کا چرہ الد ا ات بھی عدد اپ 
شائل ہیں (اس عاج نک بھی بجی را ہے) 
. تذگا کاب الضاء باب:۱۸۔ 
ا این قراتہ :۹ /۹۸١۔-٠٠ن-‏ 


عورت اور اسلام ایا 


ج پبگورت چ2 پپدے بد نکا جاب ہے مرد کے لیے جائ نہیں ےکسا 
کے ای ضۂبلن کو بلاوجہ دجھے۔علامہ ابع قرا کل کت ہیں: 
نظر الرجل الی الاجنبیة من غیر شی عورت کے پیرے بی اض مکو انی 
سبب فانه محرم الی جمیعھا۔ سبب کے دنا مرد کے لیےحرام ہے۔ 
رر" کے ات یں بات ےی الکا نکی ںکیا جاسک ناک یعورت اپنا رہ اور اھ 
وت ضرورت اٹی 1.27 کےسا م ےکھول بن ے اور وہ ے 7 ے۔ 
نت بس اس کے جوا زکا کر ان الفاظ بیس متا ے: 
وینظر من الأجدبیة إلی وجھچھا اش عودت کے راودا سک خضیلیوں 
وکفیھا فقط للضرورۃ ٢‏ کو دی صرف ضرورت کےتحت درھےگا۔ 
ال کے سا تا تار خاش کے جوائے س ےکہا یا ے: 
النظر إلی وجہ الأجنبیة الحرۃ ‏ آزاد نی عورت کے چرےکو دینا 
لیس بحرامء ولکنہ یکرہ لغیر تام نیں ہ ےن امری شرورت کے 
حاجذےت 7 
ا سکی ملف صورتں بویکتی ہیں: 
اس نون ےآ دیی نیا ںکرنا چاے نو عدیث مل آ:ا ےک یکن ہو 
اس د ھی لیا چا بے ۔نخرت جا کی روایت نے کہ رسول اللد پگ نے ارشادفرمایا: 
ذا خطب أخدکم المرأة فان جب تم مس کو کسی عورت سے رشن 
استطاع أن ینظر إلی ما یدعوہ لی کرے ز ہو کے اسے دہ اس قدرد دکیہ لے 


نکاجھا فلیفعل ٠‏ جھاسے اس سے کا برآمادہکرے۔ 
این قرتءخ:۴۹۸/۹۔ ۱ 


0 
الدرالتارنخ رداگتار: ۱/۹ ۵۱ء داراککتب العامیےء لبنانء ۱۹۹۲ء 
حالہسال:ص۵۳۲۔ 


جھ, الودائَد کاب النتاحء جاب پی الرجل عنظر الی ارآ دو سید تڑنگھا- 


اں سے مراد لی اک فق نٹ می سکہاگیا ہے چجرہ سے 

علا کا ال کے جواز بر انقاثی سے 

۲بض اوقا گور تکو بات ھکلاوں سے اوی رم کبھ یکھو لئے پڑے ٹیں۔ 
چناں چہنخادائئیںہ جو اجرمت پرددٹی اورکھن لی اکپڑے جعوئی ہیںہ ان کے ارگوا 
کو ن کک کھلے رت ہیںہ ا کا د یھنا ناجائزنییں سے کے 

۳ مت عورت کے بلن ےکی بھی حصہ میں ہوہ طبیب اے صب 
ضرورت 7 ہے۔ اس ں میں ہاتجھ اور چر ےک یرش ےت 

۴ ابع ارام کت ہی ںک اگ ری عورت سےکاددپار یا ابر تکا معاملہ ہو 
اںے چر ےکا ڑدڑی دج ےگاہ کیہ اسے پان کے اور نتصان ہو تاوان کا مطالبہ 
کررگے۔ ایک ددایت ہہ ہ ےکہ امام اعم“ نے اسے نابین دکیا ےه با ڑکیا پوڑی عورت 
ےعلق قرارداہے۔ ان قنرام ہے ہی ںکہ ا ںککاٹمکتی ال سے ہ ےک ہآ دی عور تکو 


بے ضرورت د یھ : 
فاما مع الحاجحة وعدم الشھوۃ گن چان ضرورت ہواورتہوت تہ پالی 
فلا بس ػ جائۓ فذ د یھ بی حرج نھیں ہے۔ 


۵ ای رع بان پیل کے اظکام حجاب یل رعایت ہے۔ فی مس ہے: 
الأمة یباح النظر مھا إِلیٰی مایظھر ‏ لونڈی کے مم کا جو حص گ۹ گلا رہتا 
غالبا ہے ا کا د یھنا چائتڑ ے۔ 


: رداتاریحع ورالقار ۵۳٣/۹:‏ ' 
ط ابن قراب |۰ي:۲۸۹/۹۔ 

2 الدر تار زداف٠ار:۵۳۱/۹_‏ 
م حالہسابن :کل ۵۳۳۴۔ 


غ :۲۹۸/۹۔ 


۵۰٠/۹: 5 


عورت اور اسلام ۲ 


--٦‏ فلام ایی ماکیکہ کے چرے اور پات دکو ای شبوت کے دی سک ہے وت 
ہوو و ینا جائز نہ ہوگا۔ امام ما لک اور ہام لق کے نزدیک فلا مک رح کا ہے سل 
ال ےا بات ىَ ےک کور ت سب ضرورت پان ھ اور ھا 7 
ہے اورمرد کے لیے ای کا دنا چائز سےءلنان اں ٹل بے اعلیاط ضروری ےکم اسیا ست 
شوالی جذبات سے ہوں او رآ دی غلط روگی نراظیارکرے۔ 
(ب) ا ب کی نامز خانون سےگننگو کے مل ہکو بیج 
نشی رو سےگور تکی وا کا کی پرددے: 
إن صوت المسرأۃ عورةۃ علی ‏ یر تک آوا ز کا گی را قول کے 
الراجح.ٹ مال پددے۔ 
سلا مکرنا نت اود ا کا جواب دینا واججب ہے۔ ای رع چچجینک کے بھ 
کوئی الحمد الہ سے تو اں کے جواب مس یرحمک اللهکنا نت ہے۔ متا 
اتناف ‏ گ ھا ہے 
ولا یکلم الأجنبیة إِا عجوزاً ٹٹسی عورت سے اکر وہ بوڑڑ ہیں ہے 
عطست أو سلمت فیشمتھا لآ یرد آدی بات نی ںکرےگا۔ اکر وہ چی کر 
السلام علیھا. ٠‏ مد لد سے تذ ینتک اللد کے گاء لین ایس 
کے سلام کا زور سے جواب شرد ےگا- 
ان کے ساتھ ایک دوسربی رای ۓےکبھی لی ےہ دہ ہے 
یجوز الکلام المباح مع امرأۃ ‏ شی عورت کے س ات ای فشک وکرنا جائتز 
أجبیة۔ ہے جومبابح ے۔ 
زی کہ ایا ے: 
الدرالنارٹع رانچ ر: ۵۳۲/۹ 
الدرا ارح ردںتر: ۵۳۱/۹ 
حالہسای- 


ئ0 
ا 
بی 


اباس بان یعکلم مع النساء بھا ۳ مس می سکوئی حر نیس ہ ےک ہآ دی عورتل _ 
لا یحتاج الیه ولیس ھذا من کے ساتھ ال یشک وکمرے ہن س کی فی الذاتحخ 
الخورض فی ما ا یعیہ انما ڈللک عاجدت نیں ہے۔ ہہ الچ گنگ می نمی ں7 جاء 
فی کلام فیه اٹول ٍ اش فقو دوہ جس س گناہ لا مآ ے۔ 

اں بش کی نکی کہ اسلام سی مرد اورعورت کے ورمیا نکنگو پپن نہیں ٠‏ 
کرتاء لین مات بی بروزت کے وقت ال ںی اجاز تگگ موجود ہے۔گورت اَم 
شرییت معلو مکرنے کے لیے مفتی یا عالم کے پا جات سے تقاض یکی عدالت مل 
عاضر کن ے اورشہادت ےق ہے۔ ا سکطلے یس خرن میر ے ازواح مطبرات 
کوچ ہایت دگی ہے ود ام تکی تام خوان کے لیے ے: ٠‏ 

فلا تعن بالقولِ مع بات مس نزاکت اودنری نہ انقیا رکرو 
ا فی کلم مزض و لن رج کے ول مھ رگ بتکم 
قَوْلامُعْروْفأہ (70ب:۳۲) خیا لکرنے گے اورمحروف با تکہو_ 

ا ں آیت می دو ات سک یگئی ہیں۔ ایک کسی ائی با اعم ےنگ 
کرت وش ت کور کو ایہا لو دار اور فزاکمت گارا اندازتں ایا کنا پاےوش سے 
تی خلطکار اود بداشن انسان کے ول می ںکولی برا خی لکآنے گے اود دہ این ےکوئی 
نلرۃغ قا مک ٹیشھے دوس رک بات یک یگ کہ بات یت محروف گیا ہوہ ا دائڑے 
سے باہرضہہو۔صتروف می کو وسمت “کن اس برعال' محر کے حددد می نہیں : 
چنا جایے۔ 

ناش عورت سے جھائی میں طاقات ےن اگ سے ائں لی کہ اس میں 
شیطا نکودرانداز ہو ےکا مونح مزا ہے۔حفر تع کی ردایت ےک نمی ٹپ نے فریا: 


چ 7022022772720 7 : فالظاھر انە قول آخر او محمول : 
با فسوسائز ۰/۹ ۵۳۔٣ -۵۳٣‏ 


عورث اور اسلام ۲۰۸ 


ا یخلون رجل بامرأ الإ کان کل آ شی عحدت کے ساتھ جرگز 
ٹالٹھیا الضط٠‏ تھمائی نہ اخقیا رککرےہ اس لی ےکلہ (اں 
ٹالٹھما بطان.ے 

صورت یل ) شیطان الع ددکا تیسرا تا ے۔ 
مس عورت سے نیا کا ارادہ ہو اس سےبھی خلوت میس ملاقجا تک نر 
ہے۔ ناس ضس جو اکوئی دوسرکی تہ نعحم سے ملاقات انگ کی اچاز ت نال 
ے۔اں فادکیا اہی ںگھ لن ےا شُ میس ناش مردوں ےکنفنگو ‏ 
بارخ لک مکل ہے تھا کے ً یرت ..." اکوئی دومر قائل 
صورت میں زاشزم ح ح0 
(ع) جھ ان عورت اورکن رسیدہعورت کے اکا تاب یس قرآن نے فرقی 
کیا ے۔ارشادے: 
وَالْقََاعِذ بِىَ الْسَآءِ یلا يَرَجُوْنَ اود پکی پوڑی عوریں جن ےکی سے 
نگاحاً كَ ا اك وہ نیا ںک فو قح نہ ہوا ننکوکوئ یناہ نہ ہوگاہ اگر 
فَْسَ عَلیْهِنْ جن 
ہے جت وہ وا 7 وہ لۓ (زئد) کپپڑے اتا رک رک دی 
ان غیر 2 0 ری لب شریکہ دہ زین تک اظہار شکرمی۔ گر وواں 
ُسعْقنَ خَيْر ز ان ر‌ و الله سَمِیع سےکپڑیں نے میہالنا کے جن یش پر ہے الد 
عَليْمہ (الوں: )٦٦‏ تعائی سب یوما اور جات ے۔ 
در مثار مل ے: 2 موڑڑھی عورت سے مس سے کا کی خوائن شگہی ںکی 
جائیء مصافہ ہیکنا ہے ۔کسی خی راخلاقی مرک ت کا اندیشہ نہ ہو ال کے تق ھک سکیا 
چاسکتاہجء اس کےساتھوسف رہ وکا سے 
یہاں رون پان ںکو ٹین ل نظ رتا ضروری ہے: 
١‏ فتہام کے ہا :امم کے سان رہ اور ات مو ےک گنک ضرورملتی 
لے رکا ءکتاب الرضاراء باب ماجاء ٹ کرابت الارخول می المخیبات - مند احد من دع رہن 
انطاب, عدی ٹب م۱۸ و ئن ترات اخ :۹۹/۹٣۔‏ 


2 .رد نارمع در الار: ۵۳۰/٣‏ ئن کر ددالارع رداکار: ۵۲۹/۹ 


و.- دور حاضر میں مسلم خواتین کی ملازْمَتِ کا مسئله 


سے! ٹین ںکاتعلق بن اعد ہنگائی ضروریات سے ہے اں اس قاعدک کیہ نان ٰ 
ں بہت ایاطکی ضریرت ہے۔ 

۲ تی ےب ون 377 2 
نس کسی عورت سےا نا چاہے سے دکدکما سے مصافنی سکرسکیا سے رھ 
- اسنا ا اورشہارت ۓ ۓ کے لیے بھی او ضرورت کےححت تت 
انت کچونے کی ا مل سے بین ا ے: 'لضرورات تتقدر 
درھا۔ ا 
۲ ا کول کی سب ان 7 یں ان میس بی شرطموجود : 
لی جذبہ یا محر کین ہوا ای ودنہ ال کا جواضخم ہوجانگا۔ غلام اپ 
ہیی بی یذ ےی دی کتا. ماک ان ہو اسے دنا یں با سے 

٠‏ باندکی کے خی مکیاہ جو و ما رتا ہے اسے دیک کا جھاز ہے ئن 
اگ رفوپ سرت ہے اوداے وٹ ےل بنا رگا ہو اسے دینا ین 
اوت 
. ما احدفرات ہیں: :ملق کے رات کنا ا یں ے۔ 
7 پں مت ی کی اون کا یگل ہون بای نو کا کوک در کا کر ۱ 
نہیں سے ا یہی یس عددوقا بک ایند یئک ن کس ہے۔ اس مل نائم 
یں سمل بد نعل لود ایک رع نا اشلاط بنا ہے کاروارگ؛ معاملات شل _ 
ای ککؤمتارکرنے 2 لی ےکفشکھ میس ول ربائی کا انما اخقا کنا پڑتا ہے نے از 
شش قرا ریا جانلنگ ٠‏ 


ذرالتارغع رد اتا ۵۳۳/۹ 
7 ص۵۶ ٠‏ 
اب تاب الخ ۹۸/۹ء۔3وم 


عورت اور اسلام 


اں پیرے متّلہ بر موجودہ حالات کے نیس منظ میں خو کر ےکی ضرور۔ 
ہے۔عدیث میں عورت مکوشوہر کےگھ ری ضف اورگرا ںکہا گیا ے۔ 
المرأةٌ راعیَة علی بیت بعلھا و معورت شوہ رک ےگھراوراسں کے یہو ںی 
ولدہ وھی مسٹولة عنھم ' گرا ہے اود این سے الن کے پاارے مل 
صا لکیا جا ۓگا۔ 

یں می شگع کی دہ بھایہ شوہر کے ما لکی تفاطت ہ چو ںکی پروش ا 
قبیت ییے امو رآتے ہیں۔ پیک عورت اس کے لے ار ہو شی ححض اوقاتٴ 
کی معاشل میں نتعاو کچھ یکر یھی لین اب عالا تکانّ برای مغ ا 

ا۔ ا مور نمانہ دارگیءکھانے نی ےکا یلیر منالی اوریو ںکی ش٠‏ 
کور تکا کاٹ یوقت صرف ہوا تھا۔خرجب خائدان میس ال کا پودا وت تی لگ م 
نین ا بکم ازم شمکی زندگی می نشیف ٹن س آ7 کئی ہیںء ت نکی وجہ سے ان کا مو 
میں ا ںکا 7 وفت تصرف ہنا ے۔ 

۴ بچو ںکی دک بعال کے لی ےآ یاہ ازم ىا طازمہ وٹ ہے۔ ٹین چار سا 
کی عمرہی سے وہ خرسرییء اسکول اود پچ رای چے جاتے ہیں لن حالات میس اسکو 
زندگی ہی سے ا نک قیام پاشل میس وتا ے۔ 

زندگ یگراں ہیی ےہ اخراجات بڑھ گے ہیں٠‏ معیار زندگی بد ل” 
ہے۔اں وج سے مد ام پایم کاٹ ہوئی ہے اس صورت ٹیس ایک بات 2 
جانکتی ےک میاں ہیی عبر وشگر اود قااعت سےکام یس اورشوہ رک آ مل پ11 
ری دوسرکی صورت یی ےکہ جوعور تکوئی مناسب ذرلیزمحائش اخقیا کر کے 


ار کاب اضق ء یا بکراہی لتطاول لی ال تق “لم کاب الا مارۃء باب فضیلت الا: 
العاول۔ 


0 دور حاضر میں مسلم خواتین کی ملازمت کا مسئله 


تیاکرے اود ہہت زنر یگڑارے۔ 

۴ بلا شبہ ىہ مر دکا عق اور اقتار ‏ ےک عور تکوکوئی ذرلت معاش اظیار 
رن ےکا اجانت دے یا ند دےہ لین ای کیم بات خاق نکو جس کے پا وقت 
یا ہد ادد جھ اپنے اودنخاندا نکی فلا کے لیے کچھ ی سی ہوہ اس سے کرنا ذجنی 
اور کش کا باعت ہوکنا ہے۔ ال لے اس ملہ پر قانونی فیک رسے ہ ٹکر 
رای فلا و ءہود کے تل دنگ ر سے تو رکرنا جاےے 


ان م وضو بررالم نے اپٹ ماب 'اسلا مکا عاگی فطاع مبوعہ م رکز ی کت اسلائی چلشرزء 
خی دی می ں بھی بح کیا ہے۔ ملاحظہ ہو بت عورت او رمعتیشت اس پت کا انگ ریز گی ترجہ 
بھی شائح ہد چا ے۔ 


2(0 


ات رآن مد: 


لپ 


۳ 


ا ۰ 


۳اؤا ںگر: . . الالفداعقادالر نام یل مد رر اش 


رت . شقن : دکنو ریش سد وغیرہ دارالد یت ەالقاع 1 


ری 


٦۔الوواوَد:‏ 
2ی 
۸ ضائی: 

۹۰۔ امن اج 
+۔اھ: 


اا۔عام: 


۳۔زنئٌی: 


او برایڈیشھ بن ام الا نار (م 2۱٦ھ‏ )الپا ٹلا جیا التق رآ ںیتلشم 
دارالکتب المل تیروت نان ۱۹۸۸ء 


ااوکپرالرش ھ؛ن ا ا(م۴۵۷ھ الا اج مسر امادمۓرول الٹروہ 
دای( ناری) ۱ 

این سک ینا شی ری( م۲۷۱ شی سلم 

سلیمان من الاشحٹ جع نٰ(م۲2۶۹۔ )سن اداد 

اش یھی نی (م ۹ے ٢ھ‏ ) ان ال ما 


یھ بدااین امن شیب بریٹلی (م س٠‏ صحی سض ن النمائی 


الویپدراڈشھ بن یز یبن برا القزو بی (م “کے ۳حھ)ش نع امن ماج 
امرب تل اغیالٰ(م٢۲ھ‏ دہ درا تیاءالت را المرب ءہیردتءلمنانء ۱۹۳ 
الویپداڈیشھ بن بدائڈالغیسا بورکل(م ہ٠٣‏ )مور ر گی الصحیحینء 
تحتیق :صلی عہدالقدرعطا داراککتب الع تی وت نان ' 
وس رر یس امم رک( اطم 


: 24 ۳۳س . : 
٥‏ ال ررن) دائرالعارف اتظامہ داد رن: ۱۳۲۲ھ 
۳۔داری: ٌ براللد بن عپدالرگن 7 تیلام ۵۵ھ لن ؛ ادا دا راب التر یل 


بیردوت لنانعءے ۱۹۸ء 1 
' ا بار: ھن اس اتیل ۷۷ 
99-9 اصلفی کا القاع ۸7ے ١۳ھ‏ 


*۵نخلیب: ۰ ولالد ییحی نک زا لت بڑی (مے ےی مگروولعاق ۔ 
٦۔‏ نژدگ: زی الین کبدا تیم بن بلق ی(م ۹۵۷ھ ترقیب دالترعیب ء 


ادف شس ون 
۱ 0 و آ ماس 72 200-9 
اوران فور ٠.‏ 
۸ا ناوی: می رح ارہ 
ا ا ہک ۳۸۲ا مت 


‌ ۹ا ۔ یآ بادی: و پوور ا ۱۳۱۶۳۰۶ 
.کاو اب یقت راحد یئم رین سلارۃ بن سار لا زدی لم یی 2م کہ 
ت- 2 : مستمسو ہیر یی |۵۰٢‏ ۱۳۳۳ 
سیر تو وتازینۂ پیخ ۱ ٴ ا ا 
۲٢٢‏ زین سخ (م ٣۲۳ھ)‏ ۶‌- 0۲+ 
۲۳۔ اب نام ذ ایی بدالسنک(۴۱۸ٛ )الس الدو ی جتن با ویر ہدارا یاہ 
٠ے‏ ےك مم وت لبنان: 10۹۴“ 
۱ ا و ریس نی یلزا ماب لس وجب : 
ت ٹین : اتی شض ذخیزہداراکنب الع بیز وتہلنتان ء۱83۵ 
۳۴۔ائئ الات 4 ول ۳۰۵۔ا ساد تق مر لصیآتء 


۳۴ 
شقن :تغ لمعو وغیمروہ دا راکپ العلمی:ء بی روت,لہنانء ۱۹۹۲ء 

۵ ۔زئی: شس ال رین اوعبدالل(م ۴۸ے )سیر علام الا ء تین :عوسی ل٠‏ 
دارالعارف :لص ۲٦۱۹ء‏ 

٦۔ائل‏ تر ای نی بن تاقوا لی (م ۸۵۲ )الا صابۃ تم صوابۃ ہین :ات 
عماول اح عب اوج دورہء داراکتپ اریہ بیروت.لمنانء ۱۹۹۵ء 

ے ۲۔ابن خلکان:الوا حا شس الر رین امرب نثجھ بن ایج ر(م۱ ۸٣ھ‏ ءدفیات الاعیالن+ 
شقن :گی ای نع بای مطرد ماد ۃ :ٹر 

۸ نووی: الوزکر ہا سجن شرف(م ے۹ ) تہذ یب الاسما+واللغات۔ادارالطباۃ 
یری رر 

اسماءالرجال 

۹ا نج ام رینپ بن رأصقلایٰ(م ۸۵۲ )تو جب از جب تین صلی 
عبدالقادرعطاء دا رانک العلیء بی روت, لزا نء ۱۹۹۳ء 

۰۔الفدگی: صمف الد ین اج ہج نع بدا خلاصت تزعی بجھ یب الکمال ڈ اسماءالرجال٠‏ 
شقن :مود الاب فا رءمط ہت امت ار 7ء ۱۹2۳ء 

فقاہ اصول فقہء فتاویٰ 

۳۱۔ائین تی الجوزی: شس الین الو ہداڈشھ بن ای ر(م ےھ )اعلاما می نین رب الاین ٠‏ 
داراکتب العل ریہ بی ردوتء نان ۔۱۹۹۷ء 

۳۔ الع فک امہ :ا لوشھ الب اجب ناقری (م۰ ۹۲ )شی ا تی ہین :اکر 
عمہرایڈ بین پان الت کی جز جج لقاع 7ء ۱۹۹۲ء 

۳۳م رخیناڈی: پان الین لوان کی بن ال یجر(م ۵۹۳ )العد یش الب دی 
(خحقرالتقروری )کپ خاش ریدلء۱۳۵۰۰ھ 

٣٣۳۴‏ لی : -0----,,2,-0001--9ۃ 
داراکتپ العحیء بی روت.لناعء ۱۹۹۲ء 


۳۵ ۱ 
۵۔ائن امام کال الین من داد عدا دم یی (م ۹۸۱ھ )یداتب 
لی روت.لبنانء۱۹۹۵ء 
بس رصصی, شرھلاءالد ین (م ۱۰۸۸ھ )الدا انی شر تو مال بصار(ا مرا رڈاتار) 
سے ۳۔ائمنؾ عابل کن :شکرامشن نگم جن برا تزعاب بن الد می (م ۱۴۵۲ھ ردلکتا رش الدد فا 
تن :وا ول اح عبدموج دو اش یئ مو داراککنپ ااعا یہ بب رت 
لبنانء ۱۹۹۲ء 
۸۔ این الھا :ا ویدالڈشھج نشج رب نجرا لعبدری الطائی رای (م ے “ےج )ال ل٠‏ 
مد ام ری پالا ڑم ۱۳۲۸ھ 
21